مسلمان کے لیے سودی اکاؤنٹ رکھنے اور سودی رقم ٹیکس میں ادا کرنے کا حکم:

6 min readFatwa Vol 9 #427Urdu

Question

کیا سودی رقم ٹیکس میں ادا کرنا جائز ادا کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو سودی رقم کے ساتھ کیا کرنا چاہیے؟ کیا کسی مسلمان کے لیے سودی اکاؤنٹ رکھنا جائز ہے، جس میں سود حاصل ہوتا ہو اس نیت سے کہ سود کی رقم سے ٹیکس ادا کروں گا؟ بینوا بالدلیل توجروا بالاجر الجزیل ۔

Answer

۱ ۔ بصورتِ مسئولہ اگر منصفانہ ٹیکس ہے یعنی جس کا فائدہ کسی نہ کسی صورت میں ہمیں پہنچتا ہے، ایسے ٹیکس میں کسی قسم کی سودی رقم ادا کرنا جائز ادا کرنا جائز نہیں چاہے وہ سود پرائیویٹ بینک کا ہو یا سرکاری بینک کا ۔ ہاں وہ ٹیکس جو سرکار کی طرف سے ظلماً عائد کیا جاتا ہے، مثلاً انکم ٹیکس، سیل ٹیکس وغیرہ تو اس کا حکم یہ ہے کہ مرکزی اور سرکاری بینک کا سود اس میں ادا کرنے کی گنجائش ہے کیوں کہ یہ مالِ حرام مالک کو واپس کرنے کے مترادف ہے اگر چہ بعض محتاط علماء نے لکھا ہے کہ سود کی رقم سے کسی قسم کا فائدہ اٹھانا مناسب نہیں، لہٰذا ٹیکس میں دینا بھی خلاف احتیاط ہے اگر چہ حد جواز میں داخل ہے، البتہ پرائیویٹ بینک کا سود حکومتی ٹیکس میں ادا کرنا جائز اور درست ادا کرنا جائز اور درست نہیں ۔ اور ہمارے ملک جنوبی افریقہ میں عام طور پر پرائیویٹ بینک ہوتے ہیں لہٰذا ایسے سود کا ٹیکس میں ادا کرنا جائز ادا کرنا جائز نہیں ۔
۲ ۔ اگر کسی کے پاس سودی رقم ہو تو وہ بعینہٖ مالک کو واپس کر دی جائے اور اگر مالک معلوم نہ ہو تو بلا نیتِ ثواب فقراء پر صدقہ کر دی جائے ۔
۳ ۔ حفاظت کی غرض سے بینک میں پیسہ جمع رکھنا جائز ہے ہاں سودی اکاؤنٹ کے علاوہ دیگر اکاؤنٹ میں رکھنا چاہیے، لیکن اگر کسی نے غلطی سے سودی اکاؤنٹ میں رکھا ہے تو توبہ استغفار کے ساتھ سود بلا نیت ثواب فقراء پر تقسیم کر دے اور آئندہ کسی مسلمان کے لیے سودی معاملہ میں ملوث ہونا جائز نہیں ۔ نیز اس نیت سے سودی اکاؤنٹ کھولنا کہ سود کی رقم سے ٹیکس ادا کروں گا جائز نہیں ۔
ترتیب وار دلائل ملاحظہ فرمائیں: فتاوی الشامی میں مذکور ہے:
۱
ـ إذا آجر المغصوب فالأجر له، فإن تلف المغصوب من هذا العمل أو تلف لا منه وضمنه الغاصب له الاستعانة بالأجر في أداء الضمان وتصدق بالباقي. (فتاوى الشامي: ٦/۱۸۹، سعيد).
قال في الهداية: فلو هلك العبد في يد الغاصب حتى ضمنه له أن يستعين بالغلة في أداء الضمان، لأن الخبث لا جل المالك، ولهذا لو أدي إليه يباح له التناول فيزول الخبث بالأداء إليه، بخلاف ما إذا باعه فهلك في يد المشتري ثم استحق وغرمه ليس له أن يستعين بالغلة في أداء الثمن إليه؛ لأن الخبث ما كان لحق المشتري إلا إذا كان لا يجد غيره؛ لأنه محتاج إليه، وله أن يصرفه إلى حاجة نفسه، فلو أصاب مالا تصدق بمثله إن كان غنياً وقت الاستعمال، وإن كان فقيراً فلا شيء عليه لما ذكرنا. (الهداية: ۳/۳۷۵).
(وكذا في تبيين الحقائق: ۵/۲۲۵، إمداديه).
وفي الفتاوى السراجية: إذا آجر المغصوب يستعين بأجره في ضمان القيمة ويتصدق بالفضل لأنه كسب خبيث. (الفتاوى السراجية، ص ۳۵۸).

فتاوی محمودیہ میں مرقوم ہے: سرکاری بینک سے حاصل شدہ سود کی رقم غیر واجبی ٹیکس میں سرکار ہی کو دے دی جائے یا پھر محتاج غرباء کو دے دے ثواب کی نیت نہ کرے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۲٤/۳٤۷) ۔
منتخب نظام الفتاوی میں مذکور ہے: اسٹیٹ بینک یا مرکزی حکومت کے اور جتنے بینک ہیں ان سے سود کی جو رقم ملے، اس کو اگر مرکزی حکومت ہی کے کسی غیر شرعی ٹیکس میں دے دے تو ذمہ بری ہو جائے گا جیسے انکم ٹیکس وغیرہ ۔ (منتخب نظام الفتاوی: ۱/۱۹٦) ۔
۲ ۔ مالِ حرام مالک کو واپس کیا جائے اور اگر مالک نہ ملے تو اس کی طرف سے صدقہ کر دیا جائے ۔

قال في رد المحتار: لو مات الرجل وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة يتورع الورثة، ولا يأخذون منه شيئاً وهو أولي بهم ويردونها على أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه. (فتاوى الشامي: ٦/۳۸۵، سعيد). وكذا في البحر الرائق: ۸/۲۰۱، كوئته).

۳ ۔ فتاوی رحیمیہ میں مرقوم ہے: بینک میں حفاظت یا قانونی دشواریوں کی وجہ سے رقم رکھی جا سکتی ہے، سود حاصل کرنے کی نیت سے رقم رکھنا درست نہیں، اگر چہ یہ نیت ہو کہ سود کی رقم محتاجوں کو دے دی جائے گی ۔ (فتاوی رحیمیہ: ۹/۲۷۰) ۔
منتخب نظام الفتاوی میں مذکور ہے: پہلی بات تو یہ ہے حفاظت کی غرض سے یا کسی مجبوری کی وجہ سے اگر بینک میں روپیہ جمع کرنا پڑے تو ایسے شعبہ یا کھاتا میں جمع کرنے کی کوشش کرے جس میں سود کا حساب ہی نہ لگایا جاتا ہو ۔ (منتخب نظام الفتاوی: ۱/۱۹۰) ۔
آج کل ایسے بلا سودی کھاتے دستیاب ہیں لہٰذا انہیں کو استعمال کرنا چاہیے اور سودی کھاتا میں رقم جمع نہیں کروانی چاہیے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.