ریٹس ٹیکس میں سودی رقم ادا کرنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 9 #455Urdu

Question

کیا سودی رقم گھر کے ریٹس میں ادا کرنا درست ادا کرنا درست ہے یا نہیں؟ ریٹس کا مطلب یہ ہے حکومت کی جانب سے گھر، زمین اور دوسری چیزوں پر بطورِ ٹیکس مقرر کردہ رقم ۔

Answer

سودی رقم کا اصل حکم یہ ہے کہ مالک کو واپس کر دی جائے، لیکن اگر مالک کا علم نہ ہو تو فقراء، مساکین پر بلا نیتِ ثواب صدقہ کر دی جائے، باقی حکومت کے ریٹس ٹیکس میں ادا کرنا جائز ادا کرنا جائز نہیں ہے، کیوں کہ جنوبی افریقہ کے بینک پرائیویٹ ہوتے ہیں حکومتی نہیں ہوتے ۔
ملاحظہ ہو معارف السنن میں مالِ خبیث کا حکم اس طرح مذکور ہے:

قال شيخنا: ويستفاد من كتب فقهائنا كالهداية وغيرها أن من ملك بملك خبيث ولم يمكنه الرد إلى المالك فسبيله التصدق على الفقراء، قال: ومثله يقول ابن القيم في بدائع الفوائد، قال: والظاهر أن المتصدق بمثله ينبغي أن ينوي به فراغ ذمته ولا يرجو به المثوبة، نعم يرجوها بالعمل بأمر الشارع، وكيف يرجو الثواب بمال حرام ويكفيه أن يخلص منه كفافاً رأساً برأس. (معارف السنن: ۱/۳۵).

نظام الفتاوی میں مرقوم ہے:
اصل ضابطہ یہ ہے کہ جو بھی حرام مال ہو اس کے بارے میں اصل حکم یہی ہے کہ جس کا مال ہے اس کی ملک میں کسی تدبیر سے لوٹا دینا
(إذا علم المالك بعينه فلا شك في حرمته ووجوب رده عليه، فتاوى شامي، باب البيع الفاسد، سعيد) اور
جب اصل مالک کی ملک میں نہ پہنچا سکے تو اس کے وبال سے بچنے کی نیت سے بطورِ صدقہ کسی مستحقِ صدقہ کو دے کر جلد از جلد اپنی ملک سے خارج کر دے اور خود کسی کام میں استعمال نہ کرے اور نہ اس کو صدقہ میں دینے کے بعد ثواب کی نیت کرے،
(وأما إذا كان عند رجل مال خبيث فأما إذا ملكه بعقد فاسد أو حصل له بغير عقد ولا يمكنه أن يرد إلى مالكه ويريد أن يدفع مظلمته فليس له حيلة إلا أن يدفع إلى الفقراء، بذل المجهود: ۱/۳۷)
مرکزی حکومت سے ملی ہوئی سود کی رقم انکم ٹیکس سیل ٹیکس میں جب مرکزی حکومت کی ہے دے سکتے ہیں، باقی میونسپل کارپوریشن بورڈ، میونسپلٹی ٹیکس اور اس کے علاوہ دیگر ٹیکسوں میں نہیں دے سکتے ہیں ۔ (نظام الفتاوی: ۱/۱۸۵) ۔
مزید ملاحظہ ہو : (احسن الفتاوی: ۷/۲۱، و جدید معاملات کے شرعی احکام: ۱/۱٦۳، و فتاوی دار العلوم زکریا: ۵/٤۰۲) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.