سودی رقم حکومت کے ٹیکس میں ادا کرنے کا حکم:

11 min readFatwa Vol 5 #173Urdu

Question

کیا سودی رقم سے مندرجہ ذیل ٹیکس ادا کرنا درست ادا کرنا درست ہے یا نہیں؟
(۱) آمدنی کا ٹیکس، (انکم ٹیکس) ۔
(۲) عارضی، وقتی ٹیکس ۔
(۳) ویٹ، (V.A.T) خریدی ہوئی چیزوں کا ۱٤ فیصد ٹیکس ادا کرنا قانوناً ادا کرنا قانوناً لازم ہوتا ہے ۔
اسی طرح میونسپلٹی /بلدیہ کے درجِ ذیل محصول سودی رقم سے ادا کرنا جائز ادا کرنا جائز ہے یا نہیں؟
(۱) خالی زمین کا ٹیکس ۔
(۲) مکانات کی زمین کا ٹیکس ۔ بینوا توجروا ۔

Answer

جہاں تک ہمیں معلوم ہے جنوبی افریقہ کے بینک حکومتی اور سرکاری نہیں ہے بلکہ پرائیویٹ اور خانگی ہوتے ہیں، لہذا حکومتی ٹیکس میں سود کی رقم ادا کرنا درست ادا کرنا درست نہیں ہے، سود کی رقم یا تو جس سے لی ہے اسی کو واپس کر دے یا فقراء اور مساکین کو بلا نیتِ ثواب صدقہ کر دینا چاہیے، آج کل دوسری صورت پر عمل درآمد ہے کیوں کہ بینک کو واپس کرنے کا کوئی راستہ نہیں ہے ۔ مزید برآں مذکورہ بالا بعض حکومتی ٹیکس ظلماً بھی نہیں ہے بلکہ کسی نہ کسی صورت میں اس کا فائدہ ہمیں اختیاری یا غیر اختیاری طور پر پہنچتا ہے، لہذا سود سے انتفاع حاصل کرنے کے مترادف ہے ۔
معارف السنن میں ہے:

قال شيخنا: ويستفاد من كتب فقهائنا كالهداية وغيرها أن من ملك بملك خبيث ولم يمكنه الرد إلى المالك فسبيله التصدق على الفقراء، قال: ومثله يقول ابن القيم في "بدائع الفوائد"،

قال: والظاهر أن المتصدق بمثله ينبغي أن ينوى به فراغ ذمته ولا يرجو به المثوبة، نعم يرجوها بالعمل بأمر الشارع، وكيف يرجو الثواب بمال حرام ويكفيه أن يخلص منه كفافاً رأساً برأسٍ! وفي سنن الدارقطني (۲/۵٤۵) بإسناده عن عبد الواحد بن زياد قال: قلت: لأبي حنيفة رحمه الله من أين أخذت هذا؟ الرجل يعمل في مال الرجل بغير إذنه أنه يتصدق بالربح! قال: أخذته من حديث عاصم بن كليب اه، وحديث ابن كليب أخرجه أبو داود في سننه (ص ٤۷۳) في (باب اجتناب الشبهات) من كتاب البيوع: عن عاصم بن كليب عن أبيه عن رجل من الأنصار قال: خرجنا مع رسول الله ﷺ في جنازة

فلما رجع استقبله داعي امرأة، فجاء وجيء بالطعام فوضع يده، ثم وضع القوم فأكلوا فنظر آباؤنا رسول الله ﷺ يلوك لقمة في فمه، ثم قال: "أجد لحم شاة أخذت بغير إذن أهلها" فأرسلت المرأة، قالت: يا رسول الله! إني أرسلت إلى البقيع يشتري لي شاة فلم أجد، فأرسلت إلى جار لي قد اشتري شاة أن أرسل إلى بثمنها فلم يوجد، فأرسلت إلى امرأته، فأرسلت إلى بها، فقال رسول الله صلي الله عليه وسلم: أطعميه الأسارى اه، (رواه أبو داود: ۲/۱۱۷، باب اجتناب الشبهات من كتاب البيوع). رواه الدارقطني في سننه (في باب الصيد والذبائح: ٤/۲۸٦/۵٤). وفيه: فبينا هو يأكل إذ كف يده، وفيه أطعموها الأسارى، وفي طريق آخر: فلما أخذ رسول الله ﷺ لقمته رمي بها. (في باب الصيد والذبائح: ٤/۲۸٦/۵۵). (معارف السنن: ۱/۳٤، ۳۵، باب ما جاء لا تقبل صلاة بغير طهور، تحت قوله: ولا صدقة من غلول، سعيد).

نظام الفتاوی میں ہے:
اصل ضابطہ یہ ہے کہ جو بھی حرام مال ہو اس کے بارے میں اصل حکم یہی ہے کہ جس کا مال ہے اس کی ملک میں کسی تدبیر سے لوٹا دینا،
(إذا علم المالك بعينه فلا شك في حرمته ووجوب رده عليه. فتاوى الشامي، باب البيع الفاسد، سعيد)
اور جب اصل مالک کی ملک میں نہ پہنچا سکے تو اس کے وبال سے بچنے کی نیت سے بطورِ صدقہ کسی مستحق صدقہ کو دے کر جلد از جلد اپنی ملک سے خارج کر دے اور خود کسی کام میں استعمال نہ کرے اور نہ اس کو صدقہ میں دینے کے بعد ثواب کی نیت کرے،
(وأما إذا كان عند رجل مال خبيث فأما إذا ملكه بعقد فاسد أو حصل له بغير عقد ولا يمكنه أن يرد إلى مالكه ويريد أن يدفع مظلمته فليس له حيلة إلا أن يدفع إلى الفقراء. (بذل المجهود: ۱/۳۷).
مرکزی حکومت سے ملی ہوئی سود کی رقم انکم ٹیکس سیل ٹیکس میں جب کہ مرکزی حکومت کی ہے دے سکتے ہیں، باقی میونسپل کارپوریشن بورڈ، میونسپلٹی ٹیکس اور اس کے علاوہ دیگر ٹیکسوں میں نہیں دے سکتے ۔ (نظام الفتاوی مع الحاشیہ: ۱/۱۸۵) ۔
احسن الفتاوی میں ہے:
بینک سے جو سود ملتا ہے حکومت کے خزانہ سے نہیں ہوتا، لہذا اس سے انکم ٹیکس ادا کرنا صحیح ادا کرنا صحیح نہیں، بلکہ مالک معلوم نہ ہونے کی وجہ سے مساکین پر واجب التصدق ہے ۔ (احسن الفتاوی: ۷/۲۱) ۔
جدید معاملات کے شرعی احکام میں ہے:
اس بارے میں شرعی مسئلہ یہ ہے کہ بینک سے جو سود ملتا ہے چونکہ وہ حکومت کے خزانے سے نہیں ملتا اور اس کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اس لیے انکم ٹیکس ادا کرنا صحیح ادا کرنا صحیح نہیں، بلکہ مالک معلوم نہ ہونے کی وجہ سے مساکین پر صدقہ کرنا واجب ہے ۔ (جدید معاملات کے شرعی احکام: ۱/۱٦۳) ۔
کتاب الفتاوی میں ہے:
انکم ٹیکس ایک نا واجبی ٹیکس ہے اور نا واجب حد تک وصول کیا جاتا ہے اس لیے اگر بینک میں کسی مجبوری کے تحت ایسی اسکیم میں رقم رکھنی پڑی جس میں سود حاصل ہوتا ہے، اور سود مل گیا تو اس سود سے انکم ٹیکس ادا کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ بینک یا وہ ادارہ سرکاری ہی ہو، عام ٹیکس جیسے بلدیہ وغیرہ یا اس طرح کے دوسرے معاملہ کے لیے بینک کے سود کو استعمال کرنے کا حیلہ اختیار کرنا درست نہیں ہوگا ۔
دوسری جگہ مرقوم ہے:
مکان کا ٹیکس ان بلدیہ سہولتوں کے عوض وصول کیا جاتا ہے، جو حکومت عوام کو فراہم کرتی ہے، یہ ایک جائز اور منصفانہ ٹیکس ہے، جس کا نفع ٹیکس دہندہ کی طرف لوٹتا ہے، لہذا اگر اس میں سود کی رقم ادا کی جائے تو یہ سود سے استفادہ کرنے کے مترادف ہوگا ۔ (کتاب الفتاوی: ۵/۳۱۸، ۳۱۹) ۔
خلاصہ یہ ہے کہ ٹیکس دو قسم کے ہیں (۱) منصفانہ جس کا فائدہ کسی نہ کسی صورت میں ہمیں پہنچتا ہے، ایسے ٹیکس میں کسی قسم کی سودی رقم دینے کی گنجائش نہیں، چاہے وہ سرکاری بینک کی ہو یا خانگی بینک کی ہو ۔ (۲) غیر منصفانہ یعنی وہ ٹیکس جو ظلماً عائد کیے جاتے ہیں مثلاً انکم ٹیکس سیل ٹیکس وغیرہ اس کا حکم یہ ہے کہ مرکزی اور سرکاری بینک کا سود اس میں ادا کر سکتے ہیں، کیوں کہ مالک کو پہنچانے کے مترادف ہے، لیکن خانگی اور پرائیویٹ بینک کا سود ادا کرنا جائز اور درست نہیں ۔
ملاحظہ ہو جدید فقہی مسائل میں ہے:
ٹیکس جو حکومت عوام سے وصول کرتی ہے وہ دو طرح کے ہیں، بعض منصفانہ ہیں اور خود اسلام میں ان کی گنجائش ہے، مثلاً پانی، روشنی، سڑک، ہسپتال، لائبریری اور پارک وغیرہ سہولتوں کے بدلے بلدیہ جو ٹیکس لیا کرتی ہے وہ اس کا فائدہ محسوس طور پر ہماری طرف لوٹا دیتی ہے ۔
دوسری قسم کے ٹیکس ایسے ہیں جن کو غیر منصفانہ اور نا واجبی کہا جا سکتا ہے، مثلاً انکم ٹیکس، شرعی اعتبار سے غیر منصفانہ ہونے کے علاوہ غیر معقول بھی ہیں ۔ پہلی قسم کے ٹیکس میں بینک کی سودی رقم دینا درست نہ ہوگا ۔ (جدید فقہی مسائل، جلد اول، ص ۲۵۳ ۔ و کذا فی ایضاح النوادر: ۱/۱۰۰) ۔
نیز فقہ کی کتابوں میں مذکور ہے کہ اگر کسی نے کسی سے غلام کو غصب کیا اور اس کو کسی جگہ ملازم رکھا اور اس سے رقم کموائی پھر غلام غاصب کے پاس ہلاک ہو گیا تو اس کے تاوان یا قیمت میں اس رقم کو شامل کر سکتا ہے جو غلام نے کمائی، کیوں کہ یہ رقم اصل مالک تک پہونچ جائے گی جس کی وجہ سے خبث آیا ہے اور مالک کے لیے اس میں خرابی نہیں، لیکن اگر غاصب نے وہ غلام کسی کے ہاتھ فروخت کیا پھر مشتری کے پاس غلام مر گیا پھر مستحق نے دعوی کر کے غلام کو اپنی ملکیت ثابت کیا اور مستحق نے مشتری سے تاوان لیا تو غاصب غلام کی کمائی سے مشتری کو نہیں دے سکتا، کیوں کہ مشتری مالک نہیں، معلوم ہوا کہ اگر سود کا مال جس سے لیا ہے اس کے پاس چلا جائے تو ٹھیک ہے لیکن اگر کسی اور کو دے دے تو یہ جائز نہیں، لہذا سود کی رقم جس سے لی ہے اس کو واپس کر دے اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو فقراء پر صدقہ کر دے، یہ جائز نہیں کہ پرائیویٹ بینک سے سود لے کر حکومت کو ٹیکس میں ادا کرے ۔
فتاوی سراجیہ میں ہے:

إذا آجر المغصوب يستعين بأجره في ضمان القيمة ويتصدق بالفضل. (الفتاوى السراجية على هامش فتاوى قاضيخان: ۲/۷۲).

ہدایہ میں ہے:

فلو هلك العبد في يد الغاصب حتى ضمنه، له أن يستعين بالغلة في أداء الضمان لأن الخبث لا جل المالك، ولهذا لو أدي إليه يباح له التناول فيزول الخبث بالأداء إليه بخلاف ما إذا باعه فهلك في يد المشتري ثم استحق وغرمه ليس له أن يستعين بالغلة في أداء الثمن إليه، لأن الخبث ما كان لحق المشتري إلا إذا كان لا يجد غيره لأنه محتاج إليه فله أن يصرفه إلى حاجة نفسه، فلو أصاب مالاً يتصدق بمثله إن كان غنياً وقت الاستعمال، وإن كان فقيراً فلا شيء عليه لما ذكرنا. (الهداية: ۳/۳۷۵).

مزید ملاحظہ ہو: (
حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ٤/۱۰٤. وتبيين الحقائق: ۵/۲۲۵. وتكملة البحر الرائق: ۸/۱۱٤. والفتاوى الشامي: ٦/۱۸۹. ومجمع الضمانات: ۱/۲۹٤. الفتاوى البزازية: على هامش الهندية: ٦/۷۰).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.