سودی رقم قرض میں ادا کرنے کا حکم:
Question
کچھ لوگ سود کی رقم سے کمبل وغیرہ خرید کر مستحقین میں تقسیم کرتے ہیں، ایک مرتبہ سود کی رقم نہیں تھی تو انہوں نے للہ کی رقم قرض لے کر اس سے کمبل وغیرہ خرید لیا پھر جب سود کی رقم آئی تو اس سے قرض ادا کر دیا کیا یہ طریقہ جائز ہے یا نہیں؟
Answer
سود کی رقم کے بارے میں اصل قاعدہ یہ ہے کہ اصل مالک کو واپس کر دی جائے لیکن اگر مالک معلوم نہ ہو تو بلا نیتِ ثواب فقراء و مساکین پر صدقہ کر دیا جائے، ہاں بعض علماء نے سود کی رقم سے اس قسم کے قرض کی ادائیگی کو بھی جائز قرار دیا ہے، لہذا بوقتِ ضرورت ان کے قول پر عمل کرنے کی گنجائش ہے، البتہ حیلہ تملیک کے بعد صرف کرنا اولی اور مبنی بر احتیاط ہے ۔
ملاحظہ ہو سنن کبری بیہقی میں ہے:
عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه أنه اشتري جارية فذهب صاحبها فتصدق بثمنها وقال: اللهم عن صاحبها فإن كره فلي وعلى الغرم. (رواه البيهقي في سننه الكبرى: ٦/۱۸۸، كتاب اللقطة، دار الفكر، بيروت).
الدر المختار میں ہے:
فيجب رد عين الربا لو قائماً. (الدر المختار: ۵/۱٦۹، سعيد).
البحر الرائق میں ہے:
ويردونه على أربابه إن عرفوهم وإلا يتصدقوا به لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد. (البحر الرائق: ۸/۲۰۱، فصل في البيع، كتاب الكراهية، كوئته).
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
سوال: میں ایک مدرسہ میں ملازم ہوں، مجھے جو تنخواہ دی جاتی ہے وہ بینک کی سودی رقم میں سے دی جاتی ہے تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس سودی رقم کو لوں یا بند کر دوں؟ اس کی کیا شکل ہے؟
الجواب: سودی رقم سے تنخواہ نہ لی جائے، جائز نہیں ہے آپ کو تنخواہ دینے کی صورت یہ ہے کہ وہ لوگ کسی سے قرض لے کر آپ کو تنخواہ دیں، اور قرض اس رقم سے ادا کیا جائے گنجائش کی یہی شکل ہے ۔ (فتاوی رحیمیہ: ۳/۱۷۳) ۔
مفتی کفایت اللہ صاحب فرماتے ہیں:
سود کی رقم وصول کر کے مساکین وغیرہ پر قرض دار مسلمانوں کے قرضہ کی ادائیگی پر، تعلیم (پرائمری یا دینیات) پر اور ہر رفاہِ عام کے کام پر خرچ کیا جا سکتا ہے ۔ (کفایت المفتی: ۸/۵۹) ۔
نظام الفتاوی میں ہے:
تملیک مستحق کے حیلہ کے بعد مسجد کے پا خانہ کی صفائی وغیرہ میں بھی استعمال کرنا درست ہوگا، اور حیلہ تملیک یہ ہے کہ جتنی رقم سود کی ہے وہ غرباء و مساکین کو جو مستحق صدقہ ہوں دے کر اس کا مالک بنا دیا جائے، پھر وہ مستحق صدقہ اپنی طرف سے بطورِ چندہ مسجد میں دے دے ۔
وقدمنا أن الحيلة أن يتصدق على الفقير، ثم يأمره بفعل هذه الأشياء. (الدر المختار مع رد المحتار: ۲/۳٤۵، كتاب الزكاة، باب المصرف، سعيد). (
نظام الفتاوی: ۱/۱۹۹) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2040
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2040