دین کے غلبے کے وسائل اور خلافت اسلامیہ قائم کرنے کے طریقے:
Question
دین کے غلبے کے وسائل کیا ہیں؟ خلافتِ اسلامیہ کس طرح قائم کی جائے؟ فی زماننا خلافتِ اسلامیہ کا نعم البدل کیا ہے؟ نیز خلافتِ اسلامیہ اور اس کے مقابل کے مابین کیا فرق ہے؟ درجِ ذیل حدیث شریف کی تشریح درکار ہے؟
عن جنادة بن أبي أمية قال: دخلنا على عبادة بن الصامت رضي الله عنه وهو مريض قلنا: أصلحك الله حَدِّث بحديث ينفعك الله به سمعته من النبي ﷺ، قال: دعانا النبي ﷺ فبايعناه فقال: فيما أخذ علينا أن بايعنا على السمع والطاعة في منشطنا ومكرهنا وعسرنا ويسرنا وأثرة علينا وأن لا ننازع الأمر أهله إلا أن تروا كفراً. بينوا بالتفصيل توجروا بالأجر الجزيل.
Answer
دین کے غلبے کے چھ وسائل اور طریقہ کار ہیں: (۱) حجت (۲) دعوت (۳) المدارس و الجامعات الدینیہ (٤) محو الادیان الباطلہ (۵) الحکومۃ الاسلامیہ یعنی مضبوط اسلامی حکومت (٦) الخلافۃ الاسلامیہ۔
(١) غلبہ بالحجہ: دلائل کی روشنی میں اسلام کا غلبہ ہے اس حصے کے بیان کی ضرورت نہیں اس لیے کہ ہر زمانے میں دلائل کی روشنی میں اسلام کی برتری اور سربلندی غیر مسلم بھی مانتے ہیں اور اس میدان میں کام کرنے والے علماء ہوں یا غیر علماء، غیر مسلم ان کے دلائلِ حقہ کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہیں اور سامنے آنے سے کتراتے ہیں آج تک مسیحی ایک تین اور تین ایک کا فلسفہ نہ سمجھ سکے اور نہ سمجھا سکے۔
(٢) غلبہ بالدعوۃ: دعوت و تبلیغ کے نتیجہ میں لوگوں کا دین پر آنا ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے، یہ کام غیر مسلموں میں کیا جائے یا مسلمانوں میں دونوں کے نتیجہ میں مساجد، مدارس اور جامعات آباد ہو جاتے ہیں، بے دینی کا ماحول دینداری میں بدل جاتا ہے اور اس سے غفلت برتنے کی صورت میں خطرناک صورتِ حال پیدا ہو جاتی ہے۔ "
الإيمان يمان والحكمة يمانية" (صحيح البخاري، رقم: ٤۳۸۸)
کہ ایمان تو یمن والوں کا ہے اور ہوشیاری بھی یمن والوں کی ہے۔
اس کی اچھی تشریح بندۂ عاجز کے خیال میں یہ ہے کہ متعدی اور دوسروں کے دلوں کو منور کرنے والا ایمان تو یمن والوں کا ہے، اس لیے کہ یمن کے علماء اور تاجر پہلے زمانے میں جہاں بھی جاتے تھے تجارت اور علم کے ساتھ ساتھ اسلام کی دعوت کے مشن کو ساتھ لے جاتے تھے اور مخالفین کے دلوں کو دعوت کی تلوار سے فتح کرتے تھے، ہندوستان میں کوکن، کیرالہ، پھر مالدیپ، سری لنکا، انڈونیشیا، ملیشیا، افریقہ میں صومالیہ، کینیا، موزنبیق تک شافعی مسلک کے علاقے سب یمن کے ہوشیار حضرات کی محنتوں کا ثمرہ معلوم ہوتا ہے۔
میرے خیال میں خانقاہیں بھی پرانے زمانے میں دعوت و تبلیغ کے مراکز تھے، شیخ عبد القادر جیلانی رحمه الله، شیخ معین الدین اجمیری رحمه الله، خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمه الله، حضرت نظام الدین اولیاء رحمه الله، حضرت مجدد الف ثانی رحمه الله، حضرت حاجی امداد اللہ رحمه الله، حضرت تھانوی رحمه الله، اور دوسرے بزرگوں کی خانقاہیں عوام کی اصلاح اور ان میں دعوت چلانے کے مراکز تھے، جن کی تفصیلات یہاں بیان نہیں کی جا سکتیں۔
(٣) مدارسِ دینیہ: دینی مدارس کی خدمات اور اسلام کے غلبے کی کوشش ہم سب کے سامنے ہے، جب متحدہ ہندوستان میں غیر مسلم حکومت کے خلاف سیاسی تحریکیں کامیاب نہیں ہوئیں تو ہمارے اکابر رحمه الله نے دار العلوم دیوبند، مظاہر علوم سہارنپور، ندوۃ العلماء، شاہی مراد آباد اور دیگر مدارس کی بنیاد رکھی اور انھیں مدارس کی برکت سے ہزاروں لاکھوں مدارس قائم ہوئے، بلکہ بریلویوں اور اہل حدیث غیر مقلدوں نے ہمارے اکابر رحمه الله سے یہ کام سیکھا اور انھیں کے منہج کو اپنایا۔
اِن مدارس نے بے شمار لوگوں کی فکری، ذہنی، ظاہری، باطنی اور روحانی اصلاح فرمائی، اور اب پوری دنیا میں بہترین نظام کے ساتھ لاکھوں کروڑوں بچوں کی تعلیم و تربیت کر رہے ہیں اور مکاتب سے لیکر تحفیظ تک اور تحفیظ سے لیکر درس نظامی اور تخصصات تک کا انتظام کر رہے ہیں، جن کی تفصیلات بیان کرنا تحصیل حاصل ہے۔
(٤) محو الادیانات الاخری: دوسرے ادیان ختم ہو کر صرف اسلام رہ جائے گا اور یہ غلبہ کی کامل شکل ہے یہ کام آخری زمانہ میں حضرت عیسی علیہ السلام کے نزول اور حضرت مہدی رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے میں ہوگا، حضرت عیسی علیہ السلام کا نزول قیامت کی علاماتِ کبری میں سے ہے، اس وقت ہر کتابی ان پر ایمان لائے گا اور صحیح معنوں میں مسلمان بن جائے گا، احادیث میں اس کی تفصیلات موجود ہیں۔
(٥) مضبوط اسلامی حکومت: جب مسلمانوں کی ایک یا کئی مستحکم حکومتیں سرگرم عمل ہوں اور غیرت ایمانی سے لبریز ہوں، ایمانی حرارت کے ساتھ اسباب و وسائل اور اسلحہ سے مسلح ہوں تو یہ بھی اسلام کے غلبے کی نشانی ہے، مضبوط اسلامی حکومت وہ ہے جس میں ایمانی قوت و غیرت کے ساتھ اسباب بھی ہوں، اللہ تعالی نے اس دنیا کو عالمِ اسباب بنایا اس لیے اسباب کے ساتھ مقصد تک رسائی ہوتی ہے، ہاں کرامت اور معجزہ الگ شئی ہے جو ہمیشہ نہیں کبھی کبھی ظہور پذیر ہوتا ہے اور وہ ہمارے اختیار میں نہیں جب کہ اسباب ہمارے اختیار میں ہیں، یاد رہے کہ اسباب توکل کے ساتھ منافی نہیں ہیں، توکل قلبی عمل ہے اور اسباب اعضاء کے اعمال ہیں، توکل اسباب کو لیکر نتیجہ اللہ تعالی کے حوالے کرنا ہے، انبیاء علیہم السلام اعلی درجہ کے متوکل تھے لیکن اسباب بھی اختیار کرتے تھے۔
التوكل: الاعتماد على الله تعالى مع رعاية الأسباب وضده التعطل.
حدیث میں آتا ہے:
ما أكل إنسان طعاماً خيراً من أن يأكل من عمل يده وإن نبي الله داود عليه السلام كان يأكل من عمل يده
۔ (صحیح البخاری، رقم:
۲۰۷۲
) بہترین طعام وہ ہے جو آدمی اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھاوے حضرت داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھانا تناول فرماتے تھے، رسول اللہ ﷺ سے سوال ہوا کہ ہم دوائی کھاتے ہیں، علاج کراتے ہیں، جھاڑ پھونک کرتے ہیں، احتیاط و پرہیز کرتے ہیں، کیا یہ تقدیر کے خلاف ہے؟ آپ نے فرمایا یہ بھی تقدیر کا حصہ ہے۔
اللہ تعالی فرماتے ہیں:
يا أيها الذين آمنوا خذوا حذركم. وقال: وابتغوا من فضل الله، وقال: وأعدوا لهم ما استطعتم من قوة. وقال: فأسر بعبادي ليلاً إنكم متبعون. وقال: يا بني لا تقصص رؤياك على إخوتك. وقال: لا تدخلوا من باب واحد وادخلوا من أبواب متفرقة
۔ ان سب آیات میں اسباب اختیار کرنے کا حکم ہے اور اگر کوئی اشکال کرے کہ جب متوکل اور غیر متوکل دونوں اسباب اختیار کرتے ہیں تو دونوں میں فرق نہیں رہا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ دونوں میں فرق ہے کہ اگر اسباب ناکام ہوں تو متوکل کو غم نہیں ہوتا اور غیر متوکل کو ہوتا ہے اور اسباب سے کام ہونے کی صورت میں متوکل میں تکبر پیدا نہیں ہوتا اور نہ ہونے کی صورت میں شکایت نہیں ہوتی، کیوں کہ اسباب کبھی ناکام ہو جاتے ہیں، نیز متوکل اسبابِ ضعیفہ کو بھی اختیار کرتا ہے کیوں کہ اس کو اللہ تعالی کی قدرت پر یقین کامل ہوتا ہے کہ کرنے والی ذات اللہ تعالی کی ہے۔
علماء فرماتے ہیں کہ اسباب کی چار قسمیں ہیں: (۱) اسبابِ یقینیہ دنیویہ؛ جیسے بھوک کے لیے کھانا (۲) اسبابِ یقینیہ اخرویہ: جیسے نجات کے لیے نماز، روزہ۔ یہ دونوں لازم اور ضروری ہیں (۳) اسبابِ ظنیہ: جیسے رزق کے لیے ملازمت متوسطین اور ضعفاء کے لیے اس کو اختیار کرنا لازم ہے، ہاں کاملین اس کو چھوڑ سکتے ہیں اس لیے کہ تنگی آنے کی صورت میں وہ صبر کر سکتے ہیں (٤) اسبابِ وہمیہ شیطانیہ ہیں: جیسے قبر پر چادر ڈالنے، چراغ جلانے اور گنبد بنانے سے کسی مقصد کا پورا ہونا جو صرف شیطان کا وسوسہ ہے، حقیقت سے اس کا کوئی واسطہ نہیں ہے۔ اسبابِ وہمیہ واجب الترک ہیں۔
غرض یہ ہے کہ اسباب کو رسول اللہ ﷺ نے اختیار فرمایا دو زرہیں ایک دوسری کے اوپر پہنیں، جبلِ احد میں خطرہ کے مقام پر ۵۰ تیر اندازوں کو مقرر کیا، اپنی حفاظت کے لیے آدمی مقرر کیے، رسول اللہ ﷺ نے اسلامی بحری بیڑے کی پیشین گوئی فرمائی جو فتح کا سبب ہے، اس کو خواب میں دیکھ کر اظہارِ مسرت فرمایا، اس خواب کی تعبیر حضرت عثمان رضی الله عنہ کے دور میں حضرت معاویہ رضی الله عنه کے ذریعہ ظاہر ہوئی، انہوں نے بحری بیڑا بنایا، اور ان کی امارت میں بحری بیڑہ قبرص میں پہنچا اور اسی غزوہ میں حضرت امِ حرام سواری سے گر کر شہید ہوئی، اس جہاد میں امِ حرام کی شرکت کی پیشین گوئی آپ ﷺ نے فرمائی تھی، رسول اللہ ﷺ نے عروہ بن مسعود اور غیلان بن سلمہ کو شام کے شہر جرش بھیجا تاکہ وہاں دبابے (ٹینک) اور منجنیق (توپ) دیکھ لیں اور سیکھ لیں اس لیے یہ دونوں غزوۂ طائف میں شریک نہ ہو سکے۔ (البدایہ و النہایہ:
٤
/
۳٤۸
)
اور حضرت سلمان رضی الله عنه کے مشورے سے غزوۂ طائف میں منجنیق استعمال ہوا، قرآن کریم کی ایک سورت کا نام سورۂ حدید رکھ کر حدید کی اہمیت کو واضح فرمایا، حضرت داود علیہ السلام کے لیے:
و ألنا له الحديد أن اعمل سابغات وقدر في السرد
فرمایا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے لیے فرمایا:
يعملون له ما يشاء من محاريب وتماثيل وجفان كالجواب
۔ حضرت ذو القرنین کے لیے:
آتوني زبر الحديد
فرمایا، حضرت سلمان فارسی رضی الله عنه کے مشورے سے مدینہ کے اطراف میں خندق بنوائی۔
ہاں اگر روحانی اور اعمال کی طاقت ہو تو کبھی کمزور اسباب اور کبھی بغیر اسباب کے بھی کام ہو جاتا ہے اور بعض تبلیغی حضرات کا یہ کہنا کہ اللہ سے ہونے کا یقین اور غیر اللہ یا اسباب سے نہ ہونے کا یقین، اس کا مطلب یہ ہے کہ اسباب کو اختیار کرتے ہوے یقین اللہ تعالی کی ذات پر ہو کہ وہی اسباب کو منزل مقصود تک پہنچاتے ہیں۔ دل بیاردست بکار۔ کا یہی مطلب ہے۔ اور اگر چاہیں تو اسباب کو ناکام بنا دیں گے جیسے نمرود کی آگ ناکام ہوئی، حضرت موسی علیہ السلام کے ڈبونے میں پانی ناکام ہوا، حضرت یوسف علیہ السلام کی ہلاکت کا منصوبہ کنویں کی شکل میں ناکام ہوا، وہ اسباب سے یقین ہٹانے کی بات کرتے ہیں اسباب کے ترک کی بات نہیں کرتے تاکہ اسباب کو مقصود نہ سمجھیں اور ان میں رد و بدل کر کے اللہ تعالی کے راستے میں نکلے، غرض یہ کہ جب اسلامی حکومت ہو تو اس سے حق کا غلبہ بالکل واضح ہوگا۔
میں نے برما کی تاریخ میں پڑھا ہے کہ پاکستان میں ایوب خان کے زمانے میں جب پاکستان اور بنگلہ دیش ایک تھے اس وقت مسلمانوں پر مظالم شروع ہوے تو ایوب خان نے پیغام بھیجا کہ کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ ہماری فوج صبح ڈھاکہ سے چلے اور عصر کے وقت عصرانہ رنگون میں کھائے، یہ پیغام پہونچتے ہی مظالم بند ہوئے، اس وقت اگر چہ اسلامی حکومت نہیں تھی لیکن پاکستان کی اتحادی اور فوجی قوت مضبوط تھی، یہ واقعہ میں نے برما کے مظالم کی تاریخ میں پڑھا ہے۔
(٦) اسلامی خلافت: اسلامی حکومت چھوٹی ہوتی ہے اور خلافت بہت بڑی ہوتی ہے اس لیے دونوں کو الگ ذکر کیا گیا، خلافت کے موضوع پر علمائے کرام اور مصنفین نے بہت کچھ تحریر فرمایا، ابن خلدون رحمه الله نے اپنی تاریخ کے مقدمہ میں، شاہ ولی اللہ رحمه الله نے ازالۃ الخفاء عن تاریخ الخلفاء میں، ابن جریر طبری رحمه الله نے جلد اول، ص ٤۸۰ میں، علامہ بیضاوی رحمه الله نے اپنی تفسیر میں، راغب رحمه الله نے مفردات القرآن میں، ابن منظور افریقی نے لسان العرب میں، علامہ آلوسی رحمه الله نے روح المعانی میں، عبد الباقی حقانی نے اسلام کے نظامِ سیاست میں، وہبہ زحیلی رحمه الله نے حقوق الانسان فی الاسلام میں، ماوردی نے الاحکام السلطانیہ میں، مفتی تقی صاحب نے تکملہ فتح الملہم میں، ان سب نے خلافت کے معنی اور تفصیلات لکھی ہیں، مفسرین نے
وإذ قال ربك للملائكة إني جاعل في الأرض خليفة
کے ذیل میں خلافت کے معنی اور تعریف لکھی ہے۔ میں خلافت کی دو تعریفات نقل کرتا ہوں۔ علامہ ماوردی رحمه الله نے الاحکام السلطانیہ،
الباب الأول في عقد الإمامة
میں لکھا ہے:
الإمامة موضوعة لخلافة النبوة في حراسة الدين وسياسة الدنيا (الأحكام السلطانية، ص ۳)
امامت، نبوت والی خلافت ہے جس کا مقصد دین کی حفاظت اور دنیا کی سیاست یعنی دنیوی کاموں کی نگرانی اور صحیح طور پر چلانا ہے۔
علامہ تفتازانی رحمه الله نے شرح مقاصد میں بہت واضح تعریف لکھی ہے:
رئاسة عامة في أمر الدين والدنيا، خلافة عن النبي ﷺ (شرح المقاصد: ۲/۲۷۲، ط: دار المعارف النعمانية)،
خلافت اس بین الاقوامی اسلامی حکومت کو کہتے ہیں جو رسول اللہ ﷺ کی نیابت میں لوگوں کے دین اور دنیا دونوں کی حفاظت کرے۔
اس سے معلوم ہوا کہ پوری دنیا کے لیے ایک خلیفۃ المسلمین ہوگا، ہاں علامہ عبد القادر بغدادی رحمه الله نے اصول الدین ص، ۲۷٤، میں لکھا ہے کہ اگر دو حکومتیں ایک دوسرے سے اتنی دور ہوں کہ ایک دوسرے کی مدد کے لیے نہیں پہونچ سکتیں تو دو خلیفہ ہو سکتے ہیں۔
لا يجوز أن يكون في الوقت الواحد إمامان، واجبي الطاعة إلا أن يكون بين البلدين بحر مانع من وصول النصرة أهل كل واحد منهما إلى الآخرين فيجوز حينئذٍ لا هل كل واحد منهما عقد الإمامة لواحد من أهل ناحية،
اس سے معلوم ہوا کہ کسی شدید ضرورت اور انتہائی مجبوری کے عالم میں دو خلافتیں ہو سکتی ہیں۔ یاد رہے کہ مسیحی غیر مسلموں نے مسلمانوں سے خلافت کا تصور سیکھا پہلے ان کا مرکز وحدت انگلینڈ اور اب واشنگٹن ہے۔ اور ہماری خلافتِ عثمانیہ کو ختم کر کے دم لیا۔
خلافت کے مفید اور نافع ہونے میں کسی مسلمان کو کلام نہیں ، کون نہیں جانتا کہ جب دنیا میں خلافتِ راشدہ اور اس کے بعد خلافتِ بنو امیہ قائم تھی تو مشرق اور مغرب کے غیر مسلموں کا سنجیدہ طبقہ دل و جان سے خلافت کے ثمرات لوٹتا تھا اور شیطانی طبقہ پر خلافت کے تصور سے کپکپی طاری تھی، خلافت کے شجرۂ طوبی کا ٹھنڈا سایہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے سروں پر سایہ فگن تھا، پھر حضرت معاویہ
رضي الله عنه
کے دور میں جب اسلامی حدود مغرب میں مراکش، جنوب میں افریقہ اور شمال میں خراسان، ترکستان، سمرقند و بخارا تک پہونچ گئیں، حضرت معاویہ رضی الله عنه کو یہ خطرہ لاحق ہوا کہ اگر میں اپنے بعد اپنے بیٹے کو نامزد نہ کروں اور دنیا سے چلا جاؤں تو خلافت کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے اور فتنہ فساد کا زبردست خطرہ ہے تو انہوں نے خلافت کو بچانے کے لیے بیٹے کی صلاحیت کو دیکھتے ہوے بیٹے کو خلافت کے لیے نامزد کیا اور اکثر مسلمانوں نے اس فیصلہ کو قبول کر لیا، ابن خلدون مقدمہ میں لکھتے ہیں:
وكذلك عهد معاوية رضي الله عنه إلى يزيد خوفاً من افتراق الكلمة بما كانت بنو أمية لم يرضوا بتسليم الأمر إلى من سواهم، فلو قد عهد إلى غيره اختلفوا عليه. (
مقدمۃ ابن خلدون: ۱/۱۰٦)، اور حافظ ابن حجر رحمه الله لکھتے ہیں:
وكان رأي معاوية رضي الله عنه في الخلافة تقديم الفاضل في القوة والرأي والمعرفة على الفاضل في السبق إلى الإسلام والدين والعبادة. (فتح الباري: ۷/۳۲٤).
جو لوگ غیر مسلم ممالک میں رہتے ہیں اور خلافت کی بات کرتے ہیں وہ آٹے میں نمک کے برابر نہیں ، نہ ان کو عام مسلمان اہل حل و عقد تسلیم کرتے ہیں علاوہ ازیں اعوذ باللہ بسم اللہ سے پہلے ہوتی ہے یعنی یہ کہ جن غیر مسلم طاقتوں نے خلافتِ اسلامیہ کو ختم کیا تھا، خلافت کے مدعیوں کو ان سے باز پرس کر کے ان کا محاسبہ کرنا چاہیے، لیکن یہ حضرات تو ان کی چھتری کے نیچے آرام سے رہتے ہیں اور اگر یہ لوگ زبردستی خلافت قائم کرنے کی کوشش کریں تو یہ لوگ مسلمان ممالک کی مسلح افواج رکھنے والی قوتوں کے مقابلہ میں صفر ہیں، یہ فساد تو کر سکتے ہیں خلافت قائم نہیں کر سکتے۔
غیر مسلم ممالک میں قیام پذیر مسلمانوں کے لیے خلافت کا نعم البدل؛
آج کل ووٹ کا زمانہ ہے اور الیکشن کے ذریعے حکم ران منتخب ہوتا ہے قطع نظر اس سے کہ یہ طریقہ صحیح ہے یا نہیں، لیکن یہی طریقہ رائج ہے، لہذا خلافت قائم کرنے کا راستہ یہ نظر آتا ہے کہ ہم اور خلافت کے دعویدار حضرات پوری دنیا میں مساجد، مکاتب، ، مدارس دینیہ، جامعاتِ اسلامیہ اور دعوت و تبلیغ اور خانقاہیں قائم کریں تاکہ لوگوں کا ذہن اسلامی بن جائے اس کے بعد ہر ملک میں اسلام کے علم بردار حکم ران منتخب کر لیں بعد ازاں وہ سب حکم ران مل کر ایک خلیفۃ المسلمین منتخب کر لیں۔ اللہ تعالی ہم سب کو مساجد، مکاتب، مدارسِ دینیہ، جامعاتِ اسلامیہ، دعوت و تبلیغ اصلاحِ نفوس کے کام کے لیے قبول فرمائیں۔
اسلامی خلافت قائم کرنے پہلا طریقہ؛ بیعتِ عامہ:
خلافت کا پہلا طریقہ بیعتِ عامہ ہے؛ رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر صدیق
رضي الله عنه
کے نام کی خلافت نہیں لکھی تھی لیکن اشارات فرمائے: مثلاً:
مروا أبابكر فليصل بالناس. (صحيح البخاري، رقم: ٦٦۴)، ويأبي الله والمؤمنون إلا أبابكر. (مسلم، رقم: ۲۳۸۷)
ایک عورت نے کہا آپ نہ ہوں تو کس کی طرف رجوع کروں فرمایا: ابوبکر
(مسلم، رقم: ۲۳۸٦) اقتدوا بالذين من بعدي أبو بكر وعمر. (ترمذي، رقم: ۳٦٦۲)
آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے بعد سقیفہ بنی ساعدہ میں مہاجرین اور انصار کا اختلاف ہوا حضرت ابوبکر رضی الله عنه کے بیان سے انصار بات سمجھ گئے اور خلافت سے دست بردار ہو گئے گویا کہ مہاجرین نے انصار کو قائل کر لیا اور حضرت عمر
رضي الله عنه
نے یہ ذمہ داری حضرت ابوبکر رضی الله عنه پر ڈالی، انصار اور مہاجرین نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی، حضرت علی
رضي الله عنه
نے بھی دوسرے دن اور ایک روایت میں چھ مہینہ کے بعد بیعت کی، یعنی دو مرتبہ بیعت فرمائی، سقیفہ بنی ساعدہ میں پوری قوم کے نمائندے شریک تھے انہوں نے بیعت کی پھر دوسرے دن مسجد میں عام بیعت ہوئی، ایک روایت میں سعد بن عبادہ
رضي الله عنه
نے بھی بیعت فرمائی، اس طرح حضرت ابوبکر رضی الله عنه کی بیعت مکمل ہوئی اور حضرت ابوبکر
رضي الله عنه
نے خلافت کے زمانہ میں داخلی اور خارجی فتنوں کا مقابلہ فرمایا اور اسلامی حدود کی توسیع کی۔ (تاریخ الخلفاء للامام جلال الدین السیوطی رحمه الله، ص
۵۸
، قدیمی کتب خانہ)۔
دوسرا طریقہ نامزدگی؛ جیسے حضرت ابوبکر
رضي الله عنه
نے حضرت عمر
رضي الله عنه
کو اپنے بعد نامزد کیا اور یہ نامزدگی ہر قسم کے مشورہ اور رائے عامہ معلوم کرنے کے بعد تھی، مشورہ میں بعض حضرات نے حضرت عمر
رضي الله عنه
کی سختی کا ذکر کیا حضرت ابوبکر
رضي الله عنه
نے اس کا تسلی بخش جواب دیا، تاریخ طبری میں ہے کہ بعض نے کہا:
ما أنت قائل لربك إذا سألك عن استخلافك عمر علينا وقد تري غلظته،
حضرت ابوبکر رضی الله عنه نے فرمایا:
إذا لقيتُ الله ربي فسألني قلت: استخلفت على أهلك خير أهلك، طبري (۲/ ۳۵۵، دار الكتب العلمية، بيروت)، طبقات ابن سعد
میں ہے: کہ ابوبکر
رضي الله عنه
نے لوگوں کی طرف جھانک کر فرمایا:
إني عهدت عهداً أفترضون به؟ فقال الناس: قد رضينا يا خليفة رسول الله، (۳/۱۹۲و ۲۰۰، دار صادر بيروت)،
میں ایک شخصیت کے بارے میں وصیت کرنا چاہتا ہوں کیا تم اس پر راضی ہوں گے، لوگوں نے کہا ہم بالکل راضی ہیں اے اللہ کے رسول کے خلیفہ! تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ ابوبکر
رضي الله عنه
نے کہا میں کسی رشتہ دار کو نہیں بلکہ عمر
رضي الله عنه
کو مقرر کرتا ہوں
فاسمعوا وأطيعوا،
لوگوں نے کہا:
سمعنا وأطعنا.
علامہ ابن تیمیہ رحمه الله نے
منهاج السنه (۱/۵۳۰)
میں لکھا ہے:
كذلك عمر رضي الله عنه لما عهد إليه أبوبكر رضي الله عنه إنما صار إماماً لما بايعوه وأطاعوه ولو قدر أنهم لم ينفذوا عهد أبي بكر رضي الله عنه ولم يبايعوه لم يصر إماماً.
اور تاریخ کے مراجع سے پتا چلتا ہے کہ حضرت عمر کے تقرر میں حضرت ابوبکر صدیق نے صرف اپنی رائے کو اصل قرار نہیں دیا تھا بلکہ مہاجرین اور انصار کے اکابر سے مشورہ لیا تھا۔ اس بات کو ابن سعد نے طبقات میں لکھا ہے:
عن أبي سلمة بن عبد الرحمن وإبراهيم بن الحارث التيمي وعبد الله البهي
أن أبابكر عند استخلاف عمر شاور عبد الرحمن بن عوف وعثمان وسعيد بن زيد وأسيد بن الحضير وغيرهم من المهاجرين والأنصار ث. (الطبقات الكبري: ۳/۱۹۹، دار صادر، بيروت)،
ابن عساکر نے تاریخ دمشق (٤٤/۲٤۸) میں اور ابن الجوزی نے مناقب عمر میں بھی ابو بکر کے مشورہ لینے کی بات لکھی ہے۔
تیسرا طریقہ شوری ہے: خلیفہ بر حق انتخاب کا حق ایک ایسی جماعت کے سپرد کرے جس میں خلافت کی صلاحیت اور صفات ہوں اور یہ رائے عامہ کو معلوم کر کے ایک کو منتخب کرے۔ حضرت عمر
رضي الله عنه
نے حضرت عثمان
رضي الله عنه،
حضرت علی
رضي الله عنه،
حضرت عبد الرحمن بن عوف
رضي الله عنه،
حضرت طلحہ
رضي الله عنه،
حضرت زبیر
رضي الله عنه
کی شوری بنائی، حضرت سعید بن زید
رضي الله عنه
جو عشرۂ مبشرہ میں سے ہیں ان کو نہیں لیا کیوں کہ وہ حضرت عمر
رضي الله عنه
کے چچا زاد تھے ابن عمر
رضي الله عنه
کو بطورِ مشیر مقرر کیا کہ وہ خلیفہ نہیں ہوں گے اور یہ فرمایا کہ تین ایک طرف اور تین دوسری جانب ہوں تو جس جانب حضرت ابن عمر
رضي الله عنه
ہوں گے ان کو خلیفہ بنایا جائے، اگر اس پر راضی نہ ہو تو جس طرف عبد الرحمن بن عوف
رضي الله عنه
ہوں گے، پھر آخر میں عیونِ ثلاثہ رہ گئے، عبد الرحمن، عثمان، علی رضی اللہ تعالی عنہم، پھر عبد الرحمن رضی الله عنه نے فرمایا میں خلیفہ نہیں بنتا آپ مجھے اختیار دیں، چنانچہ حضرت عبد الرحمن رضی الله عنه تین دن تک رائے عامہ معلوم کرتے رہے، سب لوگوں نے حضرت عثمان
رضي الله عنه
کو ترجیح دی، عبد الرحمن رضی الله عنه اور حضرت علی رضی الله عنه نے عثمان رضی الله عنه کے ہاتھ پر بیعت کی پھر سب لوگوں نے بیعت فرمائی۔
خلافتِ حقہ اور اس کے مقابل میں کیا فرق ہے؟ خلافتِ راشدہ پر سب مسلمانوں کا اتفاق ہے وہ خلافتِ حقہ تھی اس کے بعد بنو امیہ کی خلافت نے مسلمانوں کی خدمت کی اور اسلامی حدود کی توسیع کی اور اسپین اور سندھ و ہند اور پنجاب اور چین کے بعض حصوں کو فتح کیا، اس کے بعد خلافتِ عباسیہ نے بھی اسلام کی خدمت کی پھر خلافتِ عثمانیہ نے فتوحات کیں اور اسلام کا بول بالا کیا، یہ سب خلافتیں بر حق تھیں اِس زمانے کی کاغذی خلافت کے ماتحت نہ کوئی مسلمان ملک ہے اور نہ غیر مسلم ملک بلکہ وہ خود غیر مسلم ممالک کے قوانین کے پابند رعایا ہیں، اس لیے خلافتِ حقہ اور اس کے بالمقابل میں ایسا فرق ہے جیسے مرد و عورت میں۔
آخری سوال، حدیث کی شرح:
عن جنادة بن أبي أمية قال: دخلنا على عبادة بن الصامت رضي الله عنه وهو مريض قلنا: أصلحك الله حَدِّث بحديث ينفعك الله به سمعته من النبي ﷺ، قال: دعانا النبي ﷺ فبايعناه فقال: فيما أخذ علينا أن بايعنا على السمع والطاعة في منشطنا ومكرهنا وعسرنا ويسرنا وأثرة علينا وأن لا ننازع الأمر أهله إلا أن تروا كفراً بواحاً عندكم من الله فيه برهان. (صحيح البخاري، رقم: ۷۰۵۵، كتاب الفتن).
حضرت عبادہ بن صامت رضی الله عنه بیمار تھے ہم ان کے پاس گئے اور ان سے کہا اللہ تعالی آپ کو فائدہ پہنچا دے آپ ایک حدیث سنا دیں جو آپ کے لیے مفید ہو اور آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو، انہوں نے فرمایا: ہم کو رسول اللہ ﷺ نے بلایا تو ہم نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی انہوں نے ہم سے تابعداری پر بیعت لی کہ امیر کی تابعداری کریں گے ہم راضی ہوں یا ناراض، تنگی کی حالت ہو یا فراخی، یا ہم پر دوسرے کو فوقیت اور فضیلت دی جا رہی ہو اور یہ کہ تم حکام سے لڑائی جھگڑا نہیں کرو گے الا یہ کہ کھلا ہوا کفر دیکھو گے۔
علمائے کرام نے لکھا ہے کہ جو فسق فجور امام کی ذات تک محدود ہو ایسے مسلمان حاکم کے خلاف مسلح جدوجہد نہ کی جائے اور جو امام اور حاکم متعدی فسق و فجور میں مبتلا ہو، کفر کو رواج دے، کفریہ قوانین کو نافذ کر دے اور اسلام کو ہلکا سمجھے اس کے خلاف مسلح خروج جائز ہے بشرطیکہ اس کو ہٹانے پر قدرت ہو اور کسی بڑے فساد کا خطرہ نہ ہو اور اس کے ہٹنے کے بعد اس سے زیادہ برے امام کی توقع نہ ہو۔ واللہ سبحانہ و تعالی اعلم بالصواب۔
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2988
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2988