نزولِ مصائب و آفاتِ سماوی کے اسباب:

4 min readFatwa Vol 8 #85Urdu

Question

کیا مصیبت اور آفتِ سماوی صرف اللہ تعالی کے غضب کی وجہ سے آتی ہے، یا اور بھی اسباب ہیں، کیوں کہ طالبان کی حکومت میں دو سال قحط سالی رہی اب بارش ہو رہی ہے؟ بینوا توجروا۔

Answer

(۱) بعض مرتبہ متقیوں کو نعمتیں مل جائیں تو ان میں مست ہو کر دین سے ہٹ جانے کا خطرہ رہتا ہے اس لیے اللہ تعالی ان کو کلفت میں رکھتے ہیں۔
(۲) اور کیا رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں قحط سالی نہیں آئی تھی؟ یقیناً آئی تھی اور سوال میں مذکور قحط سالی صرف طالبان پر نہیں بلکہ پورے خطے پر تھی جو سونامی کے بعد دور ہوئی۔
(۳) نیز طالبان کے عہد میں کھانے، پینے کی چیزیں باوجود پوری دنیا کے بائیکاٹ کے کثرت سے ملتی تھیں۔
(٤) نیز ہم نے عیاشیوں کی چیزوں کا نام ضرورت کی چیزیں رکھا ہے جب کہ ضرورت اور ہے اور لذت و عیاشی اور ہے۔ اگر آدمی کو روٹی کے ساتھ معمولی سالن یا لسی مل جائے تو اس سے خوب کام چلتا ہے لیکن عرف میں ہم اس کو کافی نہیں سمجھتے ہیں، بہرحال وہ زمانہ رحمتوں اور امن و امان کا زمانہ تھا، یہی ہم نے سنا ہے۔
(۵) نیز طالبان نے شریعت کو نافذ کیا تھا اس لیے پوری دنیا کی طغیانی طاقتیں ان کی مخالف بن گئی تھیں اور کھانے، پینے کی چیزوں کی ترسیل کو بند کر دیا تھا یا کم کر دیا تھا یہ دنیا کی تقصیر تھی طالبان کی تقصیر نہیں تھی اس زمانہ میں کوئی بھی ملک دوسرے ممالک کے تعاون کے بغیر نہیں چل سکتا۔
قرآن و احادیث سے بعض اشارات ملاحظہ کیجیے:

قال الله تعالى: وإذا ابتلي إبراهيم ربه بكلمات فأتمهن، الآية،
غزوۂ خندق کے بارے میں فرمایا:
هنالك ابتلي المؤمنون وزلزلوا زلزالاً شديداً. وقال تعالى: أحسب الناس أن يتركوا أن يقولوا امنا وهم لا يفتنون. وقال تعالى: ولنبلونكم بشيء من الخوف والجوع ونقص من الأموال والأنفس والثمرات، وبشر الصابرين.
وأخرج ابن حبان في صحيحه (۲۹۰۰) بسنده عن مصعب بن سعد عن أبيه قال: يا رسول الله! من أشد الناس بلاء؟ قال: الأنبياء ثم الأمثل فالأمثل يبتلي العبد على حسب دينه فما يبرح البلاء بالعبد حتى يدعه يمشي على الأرض وما عليه خطيئة. قال الشيخ شعيب الأرناؤوط: إسناده صحيح.
وأخرج الإمام البخاري في صحيحه (۵٦٤۸) في باب أشد الناس بلاء الأنبياء ثم الأمثل فالأمثل، بسنده عن عبد الله قال: دخلت على رسول الله ﷺ وهو يوعك فقلت: يا رسول الله! إنك لتوعك وعكاً شديداً قال: أجل إني أوعك كما يوعك رجلان منكم قلت ذلك إن لك أجرين قال: أجل ذلك كذلك ما من مسلم يصيبه أذي شوكة فما فوقها إلا كفر الله بها سيئاته كما تحط الشجرة ورقها.
وأخرج الإمام مسلم في صحيحه (۳۹۹۹) بسنده عن صهيب رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: عجباً لا مر المؤمن إن أمره كله خير وليس ذاك لا حد إلا للمؤمن إن أصابته سراء شكر فكان خيراً له وإن أصابته ضراء صبر فكان خيراً له.
وأخرج الإمام البخاري في صحيحه (۵٦٤۱) بسنده عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه وعن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال: ما يصيب المسلم من نصب ولا وصب ولا هم ولا حزن ولا أذى ولا غم حتى الشوكة يشاكها إلا كفر الله بها من خطاياه.

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.