خریدار کا دوسرے خریداروں کے لیے ایجنٹ بننے اور ان سے کمیشن لینے کا حکم:

21 min readFatwa Vol 8 #119Urdu

Question

سوال تفصیلی ہے لیکن اختصار کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے: ایک کمپنی ہے جس کا نام Tiens ہے اور یہ تقریباً ۱۲۰ ممالک میں رجسٹرڈ ہے یہ کمپنی اپنی مختلف اشیاء فروخت کرتی ہے اس کمپنی کا قانون یہ ہے کہ پہلے اس کمپنی میں رجسٹریشن کرائی جاتی ہے اس کے بعد ایک کوڈ حاصل ہوتا ہے، اس کے ذریعہ کمپنی سے اشیاء خریدی جاتی ہیں، یہاں تک کہ جب خریدی ہوئی اشیاء کی قیمت ۳۵۰۰۰ روپے مکمل ہو جاتے ہیں تو پھر مشتری ۳ اسٹاربن جاتا ہے یعنی دوسرے تین آدمیوں کو رجسٹرڈ کروانے ہوں گے پھر وہ تین آدمی تین اسٹاربن جائیں گے تو پہلا مشتری ٤اسٹاربن جائے گا، اور تینوں مشتری کی خریدی ہوئی چیزوں کا منافع پہلے کو دیا جائے گا، پھر وہ تین مشتری تین اسٹاربن جائیں گے یعنی مزید تین تین کو اس کمپنی میں رجسٹرڈ کروائیں گے تو پہلا مشتری ۵ اسٹاربن جائے گا، اسی طرح ہلم جراً، یعنی جتنے آدمی بڑھتے جائیں گے اس کے موافق پہلے مشتری کالیول بڑھتا جائے گا اور ان سب کا منافع اس پہلے کو ملے گا۔ نیز پہلے مشتری کے ماتحت والے بھی جس لیول پر ہوتے جائیں گے ان کو بھی ان کے ماتحت کا منافع ملتا رہے گا۔
یاد رہے کہ سب کا منافع فیصد کے اعتبار سے متعین ہوتا ہے۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ Tiens کمپنی کے اس کاروبار میں حصہ لینا اور منافع حاصل کرنا جائز ہے یا نہیں ؟
بينوا بالتفصيل توجروا بالأجر الجزيل.

Answer

اس معاملہ میں مفتی حضرات کے نزدیک دو چیزیں زیادہ قابل اعتراض ہیں ایک یہ کہ پہلے کمیشن ایجنٹ کا دوسرے کمیشن ایجنٹ کی تجارت اور نفع میں کوئی دخل نہیں تو وہ نفع کیوں لیتا ہے اس لیے عام مفتی حضرات فرماتے ہیں کہ اگر پہلا کمیشن ایجنٹ آرام سے بیٹھا ہے اور اس کے بعد والے کمیشن ایجنٹ اپنی محنت سے خریدار بنا رہے ہیں تو پہلے کمیشن ایجنٹ کے لیے بعد والوں کی کمائی سے حصہ مقرر کرنا جائز نہیں۔ اس لیے کہ پہلے ایجنٹ نے بعد والوں کے ساتھ کچھ کام نہیں کیا۔ لیکن باب المضاربہ کے ایک مسئلہ سے اس صورت کی گنجائش معلوم ہوتی ہے۔
بابِ مضاربت کا مسئلہ یہ ہے کہ اگر کسی رب المال نے مضارب کو مال دیا اور یہ کہا کہ نصفِ ربح مجھے ملے گا اور یہ اجازت دی کہ تم دوسرے کو مال بطورِ مضاربت دے سکتے ہو، پھر مضاربِ اول نے مضاربِ ثانی کو مال دیا کہ تم کو پورے نفع کا ایک ثلث ملے گا، مثلاً: چھ ہزار نفع ہو تو اس میں سے رب المال کو تین ہزار اور مضاربِ ثانی کو دو ہزار اور مضاربِ اول کو ایک ہزار نفع میں سے حصہ ملے گا، حالانکہ یہاں بھی مضاربِ اول نے کچھ کام نہیں کیا، سب کام تو دوسرے مضارب نے کیا اور مال رب المال کاہے۔ لیکن اس کے باوجود فقہاء کرام نے اس مسئلہ کو جائز قرار دیا ہے۔ چنانچہ علامہ حصکفی رحمه الله الدر المختار میں رقم طراز ہیں:

فإن أذن المالك بالدفع ودفع بالثلث وقد قيل للأول ما رزق الله فبيننا نصفان فللمالك النصف، عملاً بشرطه وللأول السدس الباقي وللثاني الثلث المشروط ولو قيل ما رزقك الله بكاف الخطاب والمسألة بحالها فللثاني ثلثه والباقي بين الأول والمالك نصفان باعتبار الخطاب فيكون لكل ثلث. (الدر المختار: ۵/٦۵۳، سعيد).
قال في رد المحتار: قال في البحر: وطاب الربح للجميع لأن عمل الثاني عمل عن المضارب كالأجير المشترك إذا استأجر آخر بأقل مما استؤجر. (فتاوى الشامي: ۵/٦۵۳، باب المضارب يضارب، سعيد).
(وكذا في البحر الرائق: ۷/۲٦٦، باب المضارب يضارب، ط: دار المعرفة، بيروت).
وقال في الهداية: قال: وإذا دفع إليه رب المال مضاربة بالنصف وأذن له أن يدفعه إلى غيره فدفعه بالثلث وقد تصرف الثاني وربح فإن كان رب المال قال له على أن ما رزق الله فهو بيننا نصفان فلرب المال النصف وللمضارب الثاني الثلث وللمضارب الأول السدس لأن الدفع إلى الثاني مضاربة قد صح لوجود الأمر به من جهة المالك. (الهداية: ۳/۲٦۳، ۲٦٤، باب المضارب يضارب).
قال في العناية: وإنما قال: يطيب لهما ذلك: أي للمضارب الأول والثاني الثلث والسدس لأن الأول وإن لم يعمل بنفسه شيئاً فقد باشر العقدين. (العناية شرح الهداية: ۸/٤٦۳، ط: دار الفكر).

علامہ اکمل الدین بابرتی رحمه الله فرماتے ہیں کہ مضاربِ اول کے لیے نفع حلال اور طیب ہے اگر چہ اس نے کچھ بھی کام نہیں کیا لیکن عقد کا ذریعہ اور وسیلہ بنا، جس طرح ہمارے مسئلہ میں اول نے دوم کو ایجنٹ بنایا اس وجہ سے دونوں کے لیے نفع حلال ہوگا۔ علامہ زیلعی رحمه الله نے مزید ایک بات فرمائی ہے کہ اس میں شبہ نہ کرے یہ نفع دونوں مضارب کے لیے حلال اور طیب ہے اگر چہ پہلا مضارب گھر میں آرام سے بیٹھا ہے۔
قال: فهذه لا شبهة فيها وهي تجارة حسنة حيث يستحق الأول سدس الربح، وهو قاعد. (تبيين الحقائق: ۵/٦۵، إمدادية، ملتان).

مزید ملاحظہ ہو: (
تبيين الحقائق: ۵/٦٤، ط: إمدادية، ملتان، والفقه الحنفي وأدلته: ۲/۱۲۲).

خلاصہ یہ ہے کہ یہاں مضاربِ اول کا عمل اور کسبِ ربح میں کوئی دخل نہیں اس کے باوجود اس کو ایک سدس ملے گا، اس لیے کہ مضاربِ ثانی مضاربِ اول کی اجازت سے اس کا قائم مقام بن کر تجارت کر رہا ہے، اسی طرح یہاں بھی نیا کمیشن ایجنٹ پہلے کی اجازت سے اس کے قائم مقام کی طرح کا عمل کرتا ہے تو اگر یہ معاملہ سود و قمار سے خالی ہو تو اس کی گنجائش ہونی چاہیے۔
مسئلہ مذکورہ پر ایک اشکال اور جواب:
اشکال: فتاوی ہندیہ کی درجِ ذیل عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ صورت ناجائز ہے۔ ملاحظہ کیجیے:

قال للدلال أعرض ضيعتي وبعها على أنك إذا بعتها فلك من الأجر كذا فلم يقدر الدلال إتمام الأمر ثم باعها دلال آخر، قال أبو القاسم: ولو عرضها الأول وصرف فيه روزجارا يعتد به فأجر مثله له واجب بقدر عنائه وعمله

ولا يجب له استحساناً إذا تركه وبه نأخذ. (الفتاوى الهندية: ٤/٤۵۱).

الجواب: عالمگیری کی عبارت کا مطلب یہ ہے کہ دوسرے دلال نے پہلے دلال کی اجازت کے بغیر اپنے اصل موکل کی اجازت سے کام کیا اور دوسرا دلال پہلے دلال کا قائم مقام نہیں بنا تو پہلے دلال کے نفع میں سے دوسرے دلال کو کچھ نہیں ملے گا۔
مسئلہ مذکورہ بالا کے جواز کی دوسری نظیر:
بعض احادیث اور فقہی جزئیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر پہلے آدمی کا کسی کاروبار میں کچھ دخل ہو اگر چہ کام نہ کرتا ہو تب بھی معاوضہ لے سکتا ہے۔ مثلاً: اگر کسی درزی نے اپنی دکان پر ایک صاحب وجاہت شخص کو بٹھا لیا اور اس کے ساتھ یہ معاملہ طے کیا کہ نفع کا نصف حصہ آپ کو ملے گا اور نصف میرا ہوگا، تو یہ معاملہ جائز ہے اگر چہ صاحب وجاہت شخص کا درزی کے عمل میں کوئی حصہ نہیں ہے لیکن اس کی وجاہت کا دخل ہے، بنا بریں اس کے لیے عوض لینا جائز ہے، یہاں بھی عمل اور کام نمبر دو یا نمبر تین نے کیا لیکن پہلے دلال کا اس میں دخل ہے اگر وہ نمبر دو کی ممبر سازی نہ کرتا تو کاروبار ترقی نہ کرتا۔
سنن ابن ماجہ شریف میں روایت ہے:

عن المنذر بن جرير عن أبيه قال: قال رسول الله ﷺ: "من سن سنة حسنة فعمل بها كان له أجرها ومثل أجرمن عمل بها لا ينقص من أجورهم شيئاً، ومن سن سنة سيئة فعمل بها كان عليه وزرها ووزر من عمل بها لا ينقص من أوزارهم شيئاً. (سنن ابن ماجه: ۱/۱۸).

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے کوئی اچھا طریقہ رائج کیا اور اس پر عمل کیا تو اس کو اس کا اجر ملے گا اور اس پر عمل کرنے والوں کے اجر کے مثل اجر اس کو بھی ملے گا اور ان کے اجر میں سے کوئی کمی نہیں کی جائے گی، اور جس نے برا طریقہ جاری کیا اور اس کو اپنایا تو اس کو اس کا گناہ ہوگا اور اس برا کام کرنے والوں کا گناہ بھی اس کے سر ہوگا اور ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہو گی۔
طبرانی شریف میں روایت ہے:

عن سهل بن سعد رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: "الدال على الخير كفاعله". (رواه الطبراني في المعجم الكبير: ۵/٤۷۷).

حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: خیر کی رہنمائی کرنے والا کارِ خیر کرنے والے کی طرح ہے۔ یعنی اجر میں دونوں برابر کے شریک ہیں۔
احادیث سے معلوم ہوا کہ دوسرے کے عمل کا باعث اور ذریعہ بننے کی وجہ سے جزا یا سزا کا مستحق ہوا، اسی طرح یہاں بھی پہلا ممبر دوسرے ممبر کو تجارت میں لانے اور کاروبار آگے بڑھانے کا باعث اور وسیلہ بنتا ہے۔
اسی طرح کتبِ فقہ میں یہ مسئلہ مذکور ہے کہ اگر کسی درزی نے کسی مشہور درزی یا مشہور شخصیت کو اپنی دکان پر بٹھایا اور اس کی شہرت کی وجہ سے گاہک کپڑا سلانے کے لیے بکثرت آتے ہیں، مشہور آدمی کچھ نہیں کرتا صرف بیٹھا ہے اور آپس میں یہ طے کیا کہ نصف اجرت ایک کو ملے گی اور نصف دوسرے کو، تو یہ معاملہ جائز ہے، حالانکہ مشہور آدمی کچھ نہیں کرتا صرف اس کی وجاہت چلتی ہے، اسی طرح یہاں بھی پہلا کمیشن ایجنٹ دوسرے کے کام میں عمل و تصرف نہیں کرتا لیکن اس نے جاری تجارت کی بنیاد رکھی ہے اور طریقہ جاری کیا۔

قال في الدر المختار: أقعد خياط أو صباغ في حانوته من يطرح عليه العمل بالنصف، سواء اتحد العمل أو اختلف كخياط مع قصار صح استحساناً، لأنه شركة الصنائع، فهذا بوجاهته يقبل وهذا بحذاقته يعمل.
قوله صح لأن شركة الصنائع يتقبل كل منهما العمل على أن ما يتقبله يكون أصلاً فيه بنفسه ووكيلاً عن شريكه فيكون الربح بينهما وهنا كذلك، فإن ما يلقيه عليه صاحب الحانوت من العمل يعمله الصانع أصالة عن نفسه ووكالة عن صاحب الحانوت فيكون الأجر بينهما كذلك، رحمتي. (فتاوى الشامي: ٦/۸۹، سعيد).
وفي فتح القدير: صورة المسألة إذا كان للخياط أو الصباغ دكان معروف وهو رجل مشهور عند الناس وله وجاهة ولكنه غير حاذق فيقعد في دكانة رجلاً حاذقاً ليتقبل العمل من الناس ويعمل ذلك الرجل على أن ما أصابا من شيء فهو بينهما نصفان. (فتح القدير: ۸/۸۹، مسائل منثورة من كتاب الإجارة، ط: كوئته). (وكذا في الكفاية على هامش فتح القدير: ۸/۸۹).

محمود الفتاوی میں "اے ٹوزیڈمارکیٹنگ" نامی کمپنی کا گاہک بننے سے متعلق تفصیلی سوال کے جواب میں لکھا ہے:
زید کے واسطے سے براہِ راست گاہک بننے والے حضرات جتنی خریداری کریں، اس پر زید کو دو فیصد کے حساب سے کمیشن دینا بشرطیکہ یہ سلسلہ آگے جاری نہ ہوتا ہو، یہ دلالی ہونے کی وجہ سے درست ہے، اور اگر اس کے ذریعہ بالواسطہ بننے والے گاہکوں کو بھی یہ کمیشن دیا جاتا ہو تو دلالی کا مصداق نہ ہونے کی وجہ سے درست نہیں (محمود الفتاوی:
۳
/
۲۰
۔
۲۱
)۔
دوسرا اعتراض یہ ہے کہ اس میں بیع بشرط پائی جاتی ہے جو جائز نہیں ہاں اگر شرط معروف بن جائے تو وہ مفسدِ عقد نہیں۔ ملاحظہ ہو شرح مجلہ میں ہے:

وحاصل ما ذكره الفقهاء في البيع مع الشرط أن الشرط الذي يقترن به البيع إما أن يقتضيه العقد، وإما أن لا يقتضيه العقد لكن يلائمه، وإما أن لا يقتضيه العقد ولا يلائمه لكن قد جري العرف باشتراطه، وإما أن لا يقتضيه العقد ولا يلائمه ولا جري العرف باشتراطه، لكن لا منفعة فيه لا حد، فالبيع في هذه الوجوه الأربعة صحيح والشرط معتبر في الوجوه الثلاثة الأولى منها، ويلغو في الوجه الرابع. (شرح المجلة لمحمد خالد الأتاسي، ۲/۵۹، الفصل الرابع في حق البيع بشرط).

مفتی تقی عثمانی صاحب تکملہ میں فرماتے ہیں:

وخلاصة مذهب الحنفية في ذلك أنه إن كان شرطاً يقتضيه العقد، أو يلائم العقد أو شرطاً جري به التعامل بين الناس، فهو جائز ولا يفسد به البيع

ومثال الشرط الذي جري به التعامل ما إذا اشتري نعلاً على أن يحذوه البائع أو جراباً على أن يخرزه له خفاً، قال السرخسي رحمه الله في المبسوط: وإن كان شرطاً لا يقتضيه العقد، وفيه عرف ظاهر فذلك جائز أيضاً، كما لو اشتري نعلاً وشراكاً بشرط أن يحذوه البائع، لأن الثابت بالعرف ثابت بدليل شرعي، ولأن في النزع عن العادة الظاهرة حرجاً بيناً، وقال الكاساني: في "البدائع:
۵
/
۱۷۲
" والقياس أن لا يجوز وهو قول زفر رحمه الله، وجه القياس أن هذا شرط لا يقتضيه العقد وفيه منفعة لا حد العاقدين، وإنه مفسد

ولنا أن الناس تعاملوا هذا الشرط في البيع، كما تعاملوا الاستصناع فسقط القياس بتعامل الناس، كما سقط في الاستصناع. (تكملة فتح الملهم: ۱/٦۲۹، مسألة الشرط في البيع).

ہدایہ میں ہے:

ومن اشتري نعلاً على أن يحذوه البائع أو يشركه فالبيع فاسد

وفي الاستحسان يجوز للتعامل فيه. (الهداية: ۳/٦۱).

جدید فقہی مسائل میں ہے:
اپنی مصنوعات کو فروغ دینے اور گاہکوں کی ترغیب کے لیے آج کل یہ صورت مروج ہے کہ خریدار کو ایک مدت تک سامان کی اصلاح اور مرمت کا تیقن دیا جاتا ہے، یہ مسئلہ اس لیے اہم ہے کہ شریعت نے خرید و فروخت میں کسی ایسی اضافی شرط کو جائز قرار نہیں دیا ہے، اسی بنا پر فقہاء نے ایسی شرطوں کی وجہ سے خرید و فروخت کے معاملے کو فاسد قرار دیا ہے، اس کا تقاضا یہ ہے کہ اس قسم کی گیا رنٹی کی وجہ سے یہ معاملہ ناجائز قرار پائے لیکن فقہاء کے نزدیک شریعت کی اس ممانعت کا منشا امکانی نزاع کا دروازہ بند کرنا ہے اور جو شرطیں معروف و مروج ہو جاتی ہیں وہ نزاع کا باعث نہیں بنتی ہیں، لہذا ایسی شرطوں کو جائز اور قابل اعتماد قرار دیا گیا ہے۔
صاحب ہدایہ ایسی شرطوں کو مستثنی قرار دیتے ہوے فرماتے ہیں: "
إلا أن يكون متعارفاً". (الهداية: ۳/۵۹، باب البيع الفاسد). (
ماخوذ از جدید فقہی مسائل:
۱
/
۳۸۷
، و کذا فی تقریر الترمذی:
۱
/
۱۰۹
)۔
خلاصہ یہ ہے کہ ہر شرط مفسدِ عقد نہیں بلکہ جو مفضی الی النزاع ہو وہ شرط مفسدِ عقد ہے، ورنہ جو مقتضائے عقد کے موافق ہو اور شرطِ ملائم ہو تو اس کی گنجائش ہے، اور آج کل اکثر شرائط عرف میں رائج ہیں اور مقتضائے عقد کے موافق بھی ہیں، لہذا فسادِ عقد کا حکم نہیں لگایا جائے گا۔
بیع بشرط سے متعلق مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (فتاوی دار العلوم زکریا، جلد پنجم،
۵۵
، ط: زمزم)۔
البتہ اس مسئلہ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ چونکہ یہ شرط عام نہیں ہے بلکہ اس کمپنی کے ساتھ خاص ہے لہذا یہ شرط مفسدِ عقد ہونی چاہیے۔
ہم نے یہ جواب لکھا تھا اس کے بعد دار الافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی سے ماہنامہ "الفاروق" میں ایک فتوی شائع ہوا جس میں اس قسم کے معاملہ کو ناجائز قرار دیا گیا ہے، اور اس مسئلہ پر کچھ اشکالات کیے ہیں، چنانچہ ان اشکالات کی روشنی میں اس قسم کے معاملہ سے اجتناب کرنا چاہیے۔
چند اشکالات حسبِ ذیل ہیں:
(۱) کمپنی (DXN) کا مقصد مصنوعات کا بیچنا نہیں۔
(۲) خریداری سے خریدار کا مقصد ممبر بننا ہے نہ کہ ذاتی استعمال کرنا ہے۔
(۳) خریدار اپنی رقم صرف کرنے کے بعد بھی وہ نفع سے پورے طور پر مطمئن نہیں ، کیوں کہ معلوم نہیں آگے ممبر تلاش کر سکے گا یا نہیں۔ یہ غرر ہے۔ اور صرف کمیشن اور بونس حاصل کرنے کی غرض سے جانا جب کہ خریداری مقصود نہ ہو تو یہ سود کے مشابہ ہے۔ یعنی پیسوں کے بدلہ میں پیسوں کا معاملہ ہے۔
(٤) (DXN) کمپنی کے اعلان کے مطابق کمپنی کا ممبر اجیر اور ملازم نہیں بنتا بلکہ خریدار یعنی مشتری بنتا ہے اور مشتری پر شرائط عائد کرنا جائز نہیں۔
شرط (الف) کمپنی کی طرف سے متعینہ قیمت پر بیچنے کی پابندی۔ یہ شرط مفسدِ عقد ہے اس کی وجہ سے خود مختاری سلب ہو جاتی ہے۔
شرط (ب) کھلے عام بازار میں نہیں بیچ سکتا۔ (ج) کمپنی کے علم کے بغیر اس کی مصنوعات کو تشہیراً کسی کو ہدیہ دینا بھی جائز نہیں۔
پھر آخر میں یہ مرقوم ہے: لہذا یہ ایسا کاروبار ہے جس میں جھوٹ، دھوکا شامل ہے، سود اور غرر کا شائبہ ہے اور عقد میں اس قسم کی شرائط ہیں جو مفسدِ عقد ہیں، اس لیے ملٹی لیول مارکیٹنگ کمپنی سے ڈسڑی بیوٹرشپ کا معاملہ کرنا جائز نہیں۔ اور اگر بالفرض ان کے طریقہ کار میں دھوکا، سود، جوا اور غرر نہ بھی ہو تو بھی ان کے قوانین و ضوابط میں موجود خلاف شریعت باتوں کی وجہ سے ڈی ایکس این کمپنی کے ساتھ ڈسٹری بیوٹرشپ کا معاملہ کرنا جائز نہیں۔ (از ماہنامہ "الفاروق"، ص
۲۹
۔
۳۲
، بعنوان:
DXN
کمپنی کا طریقہ کار، کمپنی کا ایجنٹ بننے کا حکم)۔
نیز دار العلوم دیوبند سے بھی اس معاملہ کے عدمِ جواز کا فتوی شائع ہوا ہے، جو حسبِ ذیل ہے:
مذکورہ چائنا کمپنی کا جو طریقہ کار آپ نے تحریر فرمایا ہے اس میں اپنا رجسٹریشن کرانا اور کام کر کے پیسے کمانا، ناجائز و حرام ہے۔ اول تو ممبر سازی کمپنی والوں کی منشا کے مطابق آپ کے بس میں نہیں ہے، اگر آپ نے اس امید پر ممبر سازی کی کہ اگر ممبر تین بن گئے تو مجھے آئندہ ترقی در ترقی ملے گی اور نہیں بن سکے تو ترقی نہیں ملے گی اور دوسروں کی ممبر سازی پر آپ کو معاوضہ لینا یہ بھی شرعی اصول کے خلاف ہے، جو ممبر سازی کرے گا اسی کو معاوضہ لینے کا حق ہے دوسروں کو لینے کا حق نہیں ہے۔ ان وجوہ کی وجہ سے اس کمپنی میں مسلمانوں کو شرکت کرنا جائز نہیں ، مسلمانوں کو چاہیے کہ اور کوئی دوسرا جائز و حلال کمائی کمانے کا راستہ اختیار کریں۔
(از (مفتی) حبیب الرحمن عفا اللہ عنہ۔ الجواب صحیح؛ محمود حسن بلند شہری غفر لہ، محمد نعمان سیتا پوری غفر لہ۔ مفتیانِ دار الافتاء، دار العلوم دیوبند)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.