شمسی ہجری کیلنڈر مرتب کرنے کا حکم:

10 min readFatwa Vol 8 #242Urdu

Question

واقعاتِ سیرت نبی ﷺ پر مشتمل شمسی ہجری کیلنڈر کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ ۱۹۹۰ ؁ میں پاکستان میں ایک عالمی رؤیتِ ہلال کانفرنس منعقد ہوئی تھی، اس کانفرنس کے مقالہ نگاروں نے امتِ مسلمہ کے لیے قمری ہجری کیلنڈر پر زور دیا تھا۔ بعض حضرات نے اپنے مقالہ میں شمسی ہجری کیلنڈر پر زور دیا اور مولانا سید شبیر احمد صاحب نے اپنی تصنیف کشفِ ہلال میں اسلامی تشخص کو قائم رکھنے، اسلامی تاریخ اور ثقافت کا اظہار کرنے کے لیے شمسی ہجری کیلنڈر مرتب کیا اور یہ اصول بنایا کہ جو واقعہ آنحضرت ﷺ کی حیاتِ طیبہ میں ترتیب کے لحاظ سے پہلے آتا ہو اس کو مہینوں کی ترتیب میں پہلے لایا جائے۔
نیز قمری ہجری کیلنڈر کے ساتھ ہماری کئی عبادات وابستہ ہیں۔ لیکن انتظامی اور تجارتی امور کے لیے عیسوی کیلنڈر ہماری مجبوری بن چکا ہے۔ عیسوی کیلنڈر اگر چہ شمسی کیلنڈر کے فوائد لیے ہوے ہے۔
عیسوی کیلنڈر کے مہینوں کے نام رومی دیوی، دیوتاؤں اور ڈکٹیٹروں کے ناموں پر مشتمل ہیں، یہ اہل اسلام کے لیے ذہنی اذیت کا باعث ہے۔
قمری کیلنڈر کی طرح شمسی کیلنڈر کی ابتدا بھی ہجرت سے کی جائے۔ شمسی کیلنڈر میں مہینوں کے نام سیرتِ طیبہ میں پیش آنے والے واقعات کے نام پر رکھے جائیں، جو واقعہ جس عیسوی ماہ میں پیش آیا اس عیسوی ماہ کا نام اسی واقعہ پر رکھا جائے۔
مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر شمسی ہجری کیلنڈر مرتب کرنا اور اس کو رائج کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔

Answer

بصورتِ مسئولہ ہجری کیلنڈر کو عیسوی کیلنڈر میں تبدیل کرنا ایک مشکل کام ہے، علاوہ ازیں اس کا مقبول ہونا اور نہ ہونا بھی ایک مشکوک امر ہے۔ لہذا اوقاتِ صلوات وغیرہ کے لیے عیسوی کیلنڈر کا استعمال جائز ہے، اس کے استعمال میں چنداں حرج نہیں ہے۔
جنوری، فروری وغیرہ نام اگر چہ اصل میں دیوی دیوتاؤں کے نام ہیں، لیکن یہ حقیقتِ متروکہ مہجورہ کی طرح بن چکے ہیں، کسی کا ذہن بھی ان ناموں سے دیوتاؤں کی طرف منتقل نہیں ہوتا، بلکہ بڑا طبقہ اس کی حقیقت سے بھی ناواقف ہے۔ ویکی پیڈیا سے مہینوں کے اسماء کے معانی ملاحظہ کیجیے:
جنوری: لاطینی لفظ [mensis lanuarius] سے ہے janusکا مہینہ، رومیوں کا دیوتا ہے جو کواڑ و دروازوں کا اور ابتدا و انتہا کا دیوتا ہے۔
فروری: لاطینی لفظ [mensis Februarius] سے ہے، Februaکا مہینہ، رومیوں کا تطہیر کا تہوار ہے، یہ اور Februusکا مادہ ایک ہے، Februusبعض رومی باشندوں (Etruscan) کے یہاں موت کی دیوی کا نام ہے۔
مارچ: کا مہینہ، لاطینی لفظ[mensis Martius] سے ہے، Marsکا مہینہ، رومیوں کی جنگوں کا دیوتا ہے۔
اپریل: لاطینی لفظ [mensis Aprilis] سے ہے، اس کا معنی حتمی طور پر معلوم نہیں ، یہ عام طور پر aperire (کھولنا) کے مشتقات سے لیا جاتا ہے یا Aphroditeسے جو کہ دیوی ہے۔
مئی: کا مہینہ، لاطینی لفظ[mensis Maius] سے ہے، Maiaکا مہینہ، رومی دیوی جو نباتات کی دیوی ہے، اس کا مادہ اور لاطینی لفظ magnus (بڑا) اور انگریزی لفظmajor (عظیم) کا مادہ ایک ہے۔
جون: لاطینی لفظ [mensis Iunius] سے ہے، junoکا مہینہ، رومی دیوی ہے جو شادی، ولادت اور حکومت کی دیوی ہے۔
جولائی: لاطینی لفظ [mensis Iulius] سے ہے، julius Caesar (ایک بادشاہ کا نام) کا مہینہ اس کی پیدائش کا مہینہ، جس کی ترویج ٤٤ ق م میں ہوئی اس کی جنتری کی اصطلاحات کے تحت۔
اگست: لاطینی لفظ [mensis Augustus] سے ہے، Augustusکا مہینہ، Augustusنے اس کو ۸ ق م میں رائج کیا کیونکہ اس مہینے میں اس کے اقتدار حاصل کرنے کے دوران چند اہم واقعات پیش آئے تھے۔
ستمبر: لاطینی لفظ [mensis September] سے ہے، روم کی جنتری کا ساتواں مہینہ، جو ۱۵۳ ق م سے پہلے رائج تھا۔
اکتوبر: لاطینی لفظ [mensis October] سے ہے، روم کی جنتری کا آٹھواں مہینہ ہے جو ۱۵۳ ق م سے پہلے رائج تھا۔
نومبر: لاطینی لفظ [mensis November] سے ہے، روم کی جنتری کا نواں مہینہ ہے جو ۱۵۳ ق م سے پہلے رائج تھا۔
دسمبر: لاطینی لفظ [mensis December] سے ہے، روم کی جنتری کا دسواں مہنہ ہے جو ۱۵۳ ق م سے پہلے رائج تھا۔
حقیقتِ متروکہ مہجورہ کی چند مثالیں ملاحظہ کیجیے:
۱۔ صلاۃ کے معنی تحریک صلوین، ۲۔ بغداد میں بت کے تحفہ و عطیہ کے معنی، ۳۔
فداك أبي وأمي
کے حقیقی معنی اور ٤۔
تربت يداك
کے حقیقی معنی؛ یہ سب متروک ہو چکے ہیں اور ان الفاظ کا استعمال جائز اور درست ہے، بلکہ احادیث میں بھی وارد ہے؛ نبی ﷺ نے بعض صحابہ کرام کے لیے
فداك أبي وأمي
فرمایا، اگر کوئی شخص یہ کہے کہ نعوذ باللہ جھوٹ اور گستاخی ہے کیوں کہ حضور ﷺ کے والدین حیات ہی نہیں تھے، نیز والدین کا کسی پر فدا کرنا تو گستاخی ہے تو اس کے جواب میں یہی کہا جائے گا کہ حقیقت متروک ہو چکی ہے اور یہ شدتِ رضا اور اظہارِ مسرت و خوشی کے معنی میں ہے۔
۱
ـ قال في تاج العروس: الصلاة واوية، مأخوذة من: صلي إذا دعا، قيل: إنها من الصلوين. (۳۸/٤٤۲). قال أبو البقاء الكفومي: إن الصلاة في الأصل انعطاف جسماني لأنها من تحريك الصلوين ثم استعمل في الرحمة والدعاء. (معجم في المصطلحات والفروق اللغوية، ص ۸۷٤، مؤسسة الرسالة).

۲
ـ قال ابن كثير رحمه الله في البداية والنهاية: بغ اسم صنم وقيل: شيطان وداد عطية أي عطية الصنم. (۱۰/۱۰۸، ط: دار إحياء التراث). (وكذا في تاريخ بغداد: ۱/٦۰، وتاج العروس: ۷/٤٤۲، دار الهداية).

ملاحظہ ہو بخاری شریف میں روایت ہے:
۳
ـ عن عبد الله بن شداد قال: سمعت علياً رضي الله عنه يقول: ما رأيت النبي ﷺ يفدي رجلاً بعد سعد سمعته يقول: ارم فداك أبي وأمي. (صحيح البخاري، رقم: ۲۹۰۵، باب المجن ومن يترس بترس صاحبه).
عن عبد الله بن الزبير رضي الله عنه قال: كنت يوم الأحزاب جعلت أنا وعمر بن أبي سلمة في النساء فنظرت فإذا أنا بالزبير على فرسه يختلف إلى بني قريظة مرتين أو ثلاثاً فلما رجعت قلت: يا أبت! رأيتك تختلف قال: أو هل رأيتني يا بني! قلت: نعم، قال: كان رسول الله ﷺ قال: من يأت بني قريظة فيأتيني بخبرهم فانطلقت فلما رجعت جمع لي رسول الله ﷺ أبويه فقال: فداك أبي وأمي. (صحيح البخاري، رقم: ۳۷۲۰، باب مناقب الزبير بن العوام).

اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے بعض صحابہ کرام کے لیے "
تربت يداك"
فرمایا، اگر کوئی کہے یہ تو ہلاکت کی دعا ہے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ حقیقت متروک ہو چکی ہے اور اس کا مطلب توبیخ اور ملامت ہے۔
٤
ـ عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال: تنكح المرأة لأربع: لمالها ولحسبها، ولجمالها، ولدينها، فاظفر بذات الدين تربت يداك. متفق عليه. (بلوغ المرام، ص: ۲۹۲ رقم: 964).

فقالت أم سلمة: يا رسول الله! وتحتلم المرأة فقال: تربت يداك فبم يشبهها ولدها. (صحيح مسلم، رقم: ۳۱۳).
عن عائشة رضي الله تعالى عنها قالت: أتاني عمي من الرضاعة

ولم يرضعني الرجل قال: تربت يداك، أو يمينك. (صحيح مسلم، رقم: ۱٤٤۵).

عربی زبان میں اس کی سینکڑوں مثالیں موجود ہیں۔ اس لیے ہمارے نزدیک ان مہینوں کے استعمال میں قباحت نہیں۔ کچھ بریلوی اور سلفی ہم پر اشکال کرتے ہیں کہ آپ رسول اللہ ﷺ کو آنحضور کہتے ہیں جس کے معنی حاضر کے ہیں اور تم آپ ﷺ کو حاضر ناظر نہیں مانتے، اس کا جواب بھی وہی ہے کہ یہاں آنحضور محترم اور آنجناب اور حاضر فی القلب کے معنی میں ہے اور اصلی معنی متروک ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ مہینوں کے ناموں کے استعمال میں کوئی حرج نہیں۔ کیوں کہ ان کے حقیقی معانی متروک ہو چکے ہیں۔

قال في الأشباه: تترك الحقيقة بدلالة الاستعمال والعادة. كذا ذكره فخر الإسلام. (الأشباه والنظائر: ۱/۹۳، ط: بيروت).
قال الشيخ أحمد الزرقا: لأن الاستعمال والتعارف يجعل إطلاق اللفظ على ما تعورف استعماله فيه حقيقة بالنسبة إلى المستعملين ويجعل إطلاقه على معناه الوضعي الأصلي في نظرهم مجازاً، ومن المعلوم أن الأمر إذا دار بين الحقيقة والمجاز تترجح الحقيقة وهي هنا العرف والعادة ويترك المجاز وهو المعني الوضعي الأصلي فقد قال صاحب جامع الفصولين: مطلق الكلام محمول على المعتاد. (شرح القواعد الفقهية، ص ۱۳۲، ط: دار القلم).

شیخ احمد زرقا رحمه الله کی عبارت کا خلاصہ یہ ہے کہ لوگوں کے استعمال کی وجہ سے عرفی معنی حقیقت کے درجہ میں ہے اور اصلی اور حقیقی معنی مجاز کے درجہ میں ہے۔ اور بوقتِ تعارض عرفی حقیقی معنی ہی مقدم ہوں گے۔ حاصل یہ ہوا کہ جنوری، فروری وغیرہ اسماء کا استعمال جائز ہے، کیوں کہ عوام و خواص میں ان کے حقیقی معنی عنقاء کی طرح ہو چکے ہیں۔ نیز شریعتِ مطہرہ میں مسائل کا مدار تحقیقاتِ غامضہ پر نہیں بلکہ عرفِ عام میں مستعمل الفاظ و معانی پر ہوتا ہے۔ حضرت مفتی محمد تقی صاحب دامت برکاتہم فرماتے ہیں: اس قسم کے مسائل میں شریعت کا مزاج یہ ہے کہ وہ لوگوں کے عام عرف کا اعتبار کرتا ہے، فنی باریکیوں کو نہیں دیکھتا۔ (فقہی مقالات:
۳
/
۲۱۹
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.