جو شخص عبادات میں منہمک ہو اور کبائر کا مرتکب ہو اس کا کیا حکم ہے؟
Question
جن احادیث میں اعمالِ حسنہ کو مکفرات الذنوب بتایا گیا ہے ان سے مراد فقط صغائر ہیں یا کبائر بھی؟ اگر فقط صغائر ہیں تو اس شخص کا کیا حکم ہے جو اچھے اعمال کے ساتھ اپنے کبیرہ گناہوں سے توبہ کا اہتمام نہیں کرتا، کیا شریعت کی نگاہ میں مرنے کے بعد اس کو فاسق سمجھا جائے گا یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔
Answer
بصورتِ مسئولہ مکفرات سے مراد متاخرین کے نزدیک صغائر ہیں، اور متقدمین نے تفویض والا قول اختیار فرمایا ہے، یعنی اللہ تعالی اپنے فضل و کرم سے کبائر بھی معاف کرنا چاہے تو بلا توبہ معاف کر سکتا ہے، علامہ انور شاہ کشمیری رحمه الله نے متقدمین کے قول کو ترجیح دی ہے۔ ملاحظہ ہو العرف الشذی میں لکھتے ہیں:
(يخرج من الذنوب الخ) قال المتأخرون: الحسنات مكفرات السيئات الصغائر، وقال المتقدمون: يفوض الأمر إلى الله بلا تقييد بالصغائر والكبائر، وتمسك المتأخرون بما سيأتي "ما لم يغش الكبائر" وأقول: التحقيق أن لا يقيد بالصغائر، ويتمشي على ألفاظ الأحاديث لغة، وفي اللغة: الذنوب: العيوب والخطايا ما ليس بصواب، والمعصية (
نافرمانی)
والسيئة
(برائی)،
فالمعاصي في أعلي مراتب الإثم ودونها السيئات ودونها الخطايا، ودونها الذنوب، وأشكل الحديث بأنه يدل على خروج الذنوب، والخروج يقتضي أن يكون الشيء الخارج ذا جرم، والذنوب أخواتها من المعاني، فالأصوب التفويض إلى الله تعالى
الخ. (
العرف الشذی علی ہامش سنن الترمذی: ۱/٤، باب ما جاء فی فضل الطہور)۔
پھر جو شخص کبیرہ گناہ پر اصرار کرتا ہو اور اس پر جما ہوا ہو اور اس پر اس کا انتقال ہو جائے تو یہ آدمی شریعت کی نظر میں عادل نہیں ہے ہاں ممکن ہے کہ اللہ تعالی اس کے گناہوں کی مغفرت فرما کر بغیر کسی سزا کے اس کے لیے دخولِ جنت کا فیصلہ فرما دے۔ ملاحظہ ہو شرح العقائد النسفیہ میں ہے:
ويغفر ما دون ذلك لمن يشاء من الصغائر والكبائر مع التوبة أو بدونها
الخ. (شرح العقائد النسفية، ص ۱۱۳، ط: قديمي).
علامہ شبیر احمد عثمانی رحمه الله آیتِ کریمہ: "
و يغفر ما دون ذلك لمن يشاء"
کے تحت فرماتے ہیں:
چوری کرنا اور تہمت جھوٹی لگانا اگر چہ کبیرہ گناہ تھے، مگر یہ بھی احتمال تھا کہ اللہ تعالی اپنی رحمت سے اس چور کو بخش دیتا الخ۔ (تفسیر عثمانی، ص
۱۲۷
)۔
حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله نے معارف القرآن (
۲
/
۵۴۸
) میں بھی اسی طرح کا مضمون نقل فرمایا ہے۔
الفقہ الاکبر میں مذکور ہے:
وما كان من السيئات دون الشرك والكفر ولم يتب عنها صاحبها حتى مات مؤمناً فإنه مؤمن في مشية الله تعالى إن شاء عذبه بالنار وإن شاء عفا عنه ولم يعذب بالنار أصلاً. (الفقه الأكبر، ص ۷۸، ط: قديمي).
یعنی کفر و شرک کے علاوہ معاصی سے توبہ کرنے سے پہلے ایمان کی حالت پر انتقال ہو جائے تو اس کا معاملہ اللہ تعالی کے سپرد ہے اگر اللہ تعالی چاہے تو گناہوں کی بدولت سزا دے اور اگر چاہے تو معاف فرما دے۔
اسی طرح کا مضمون شرح عقیدۃ الطحاوی میں بیان کیا گیا ہے۔ ملاحظہ ہو:
وأهل الكبائر من أمة محمد ﷺ في النار لا يخلدون، إذا ماتوا وهم موحدون وإن لم يكونوا تائبين بعد أن لقوا الله عارفين، وهم في مشيته وحكمه، إن شاء غفر لهم وعفا عنهم بفضله، كما ذكر عزوجل في كتابه ﴿ويغفر ما دون ذلك لمن يشاء﴾ وإن شاء عذبهم في النار بعدله، ثم يخرجهم منها برحمته وشفاعة الشافعين من أهل طاعته، ثم يبعثهم إلى جنته، وذلك بأن الله تعالى مولي أهل معرفته، ولم يجعلهم في الدارين كأهل نكرته الذين خابوا من هدايته، ولم ينالوا من ولايته، اللهم يا ولي الإسلام وأهله، ثبتنا على الإسلام حتى نلقاك به. (شرح العقيدة الطحاوية، ص ۳٦۰، ط: اوقاف السعودية).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3187
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3187