فضولیات میں وقت گزارنا مکروہ ہے:
Question
کیا فضول باتوں میں لگنا ہر وقت مکروہ ہے یا اس وقت مکروہ ہے جب کہ فرائض و واجبات کے ترک کا باعث بنے، یعنی ایک شخص فرائض وغیرہ کا اہتمام کرتا ہے پھر فضول باتوں میں لگتا ہے تو یہ درست ہے یا نہیں ؟ نیز فضول باتوں میں لگنے سے گناہ ہو گا یا نہیں ؟ کیا شریعتِ مطہرہ ذہنی تفریح اور شوق و دل چسپی کی باتوں کی اجازت نہیں دیتی؟ بینوا توجروا۔
Answer
بصورتِ مسئولہ قرآن و احادیث کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ لا یعنی اور فضولیات اور ایران تران میں لگنا جس میں نہ کوئی دینی فائدہ ہو اور نہ دنیوی، مکروہ اور گناہ ہے، چاہے آدمی فرائض کی پابندی کرے یا نہ کرے بہر صورت مکروہ ہے۔ ہاں ذہنی تفریح کے لیے وقتاً فوقتاً دائرۂ شریعت میں رہتے ہوے مزاح کی گنجائش ہے، نیز مفید کھیل جو احادیث میں وارد ہوئے ہیں جیسے: تیراکی، دوڑ لگانا، تیر اندازی وغیرہ ذہنی تفریح کے لیے بہت مفید ہیں، باقی ایسے فضول کام جس میں نہ تو کوئی دنیوی فائدہ ہو اور نہ اخروی، مکروہ اور قابل ترک ہیں۔ اللہ تعالی فلاح پانے والے بندوں کی صفات میں فرماتے ہیں:
﴿والذين هم عن اللغو معرضون﴾ [المؤمنون: ۳].
دوسری جگہ فرماتے ہیں:
﴿وإذا مروا باللغو مروا كراماً﴾ [الفرقان: ۷۲].
حدیث شریف میں ہے:
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: من حسن إسلام المرء تركه ما لا يعنيه. (سنن الترمذي، رقم: ۲۳۱۷).
یعنی اسلام کا حسن اور اس کی خوبی یہ ہے کہ انسان فضول اور لا یعنی باتوں سے پرہیز کرے۔
دوسری حدیث میں ہے کہ ہر انسان سے زندگی خصوصاً نوجوانی کے بارے میں سوال ہو گا کہ کہاں خرچ کی۔
عن ابن مسعود رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال: لا تزول قدما ابن آدم يوم القيامة من عند ربه حتى يسال عن خمس، عن عمره فيما أفناه، وعن شبابه فيما أبلاه، وماله من أين اكتسبه وفيم أنفقه، وماذا عمل فيما علم. (سنن الترمذي، رقم: ۲٤۱٦).
ایک اور حدیث میں ہے: نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالی، مال ضائع کرنے کو اور کثرتِ سوال کو اور زیادہ قیل قال کو پسند نہیں فرماتے۔
قال رسول الله ﷺ: لا يحب الله إضاعة المال، ولا كثرة السؤال، ولا قيل وقال. (صحيح البخاري، رقم: ۲٤۰۸).
لہو و لعب کو نبی ﷺ نے پسند نہیں فرمایا مگر مفید کھیلوں کی ترغیب فرمائی۔ ملاحظہ ہو:
وعن عطاء بن أبي رباح قال: رأيت جابر بن عبد الله وجابر بن عبيد الله الأنصاري يرتميان، فمل أحدهما فجلس فقال له الآخر: كسلت سمعت رسول الله ﷺ يقول: كل شيء ليس من ذكر الله عزوجل، فهو لهو أو سهو، إلا أربع خصال، مشي الرجل بين الغرضين، وتأديبه فرسه، وملاعبته أهله، وتعليم السباحة. (
مجمع الزوائد: ۵/۲٦۹، باب ما جاء فی القسی و الرماح)۔
ہدایہ میں مرقوم ہے:
و يكره اللعب بالشطرنج
وكل لهو؛ لأنه إن قامر بها فالميسر حرام بالنص وهو اسم لكل قمار، وإن لم يقامر فهو عبث ولهو. (الهداية: ٤/٤۷۵).
فتاوی رحیمیہ میں مذکور ہے: گپ شپ میں وقت گزارنا خسران ہی خسران ہے۔ (فتاوی رحیمیہ:
۵
/
۵۷۸
)۔
مزید ملاحظہ ہو: (احسن الفتاوی: ۸/۲۱۲)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3188
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3188