حضرت دانیال علیہ السلام کے بچپن کے ایک قصہ کی تحقیق:

7 min readFatwa Vol 8 #290Urdu

Question

میں نے ایک عالم سے دانیال علیہ السلام کا ایک واقعہ سنا کہ جب قاضیوں نے ایک بے گناہ عورت کے رجم کا حکم دیا تھا، اور بادشاہ وغیرہ سب اس کے بچانے میں حیران تھے؛ لیکن کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا تو دانیال علیہ السلام جو اس وقت بچے تھے، انہوں نے بچوں کی مجلس میں ایسی تدبیر بتائی جس کی وجہ سے بے گناہ عورت بچ گئی اور قاضی سنگ سار کیے گئے، یہ قصہ صحیح ہے یا نہیں ، اور کون سی کتاب میں ہے؟

Answer

یہ قصہ علامہ ابن قیم رحمه الله (م ۷۵۱ ھ) نے اپنی کتاب الطرق الحکمیہ میں ذکر کیا ہے:

ثم حدثهم (علي رضي الله عنه): أن دانيال عليه السلام كان يتيماً، لا أب له ولا أم، وأن عجوزاً من بني إسرائيل ضمته وكفلته، وأن ملِكاً من ملوك بني إسرائيل كان له قاضيان. وكانت امرأة مهيبة جميلة، تأتي الملك فتناصحه وتقص عليه، وأن القاضيين عشقاها. فراوداها عن نفسها فأبت، فشهدا عليها عند الملك أنها بغت. فدخل الملك من ذلك أمر عظيم فاشتد غمه، وكان بها معجباً. فقال لهما: إن قولكما مقبول، وأجلها ثلاثة أيام، ثم ترجمونها. ونادي في البلد: احضروا رجم فلانة، فأكثر الناس في ذلك، وقال الملك لثقته: هل عندك من حيلة؟ فقال: ماذا عسى عندي؟ يعني وقد شهد عليها القاضيان. فخرج ذلك الرجل في اليوم الثالث، فإذا هو بغلمان يلعبون، وفيهم دانيال، وهو لا يعرفه، فقال دانيال: يا معشر الصبيان تعالوا حتى أكون أنا الملك، وأنت يا فلان المرأة العابدة، وفلان وفلان القاضيين الشاهدين عليها. ثم جمع تراباً وسيفاً من قصب، وقال للصبيان: خذوا بيد هذا القاضي إلى مكان كذا وكذا ففعلوا، ثم دعا الآخر فقال له: قل الحق، فإن لم تفعل قتلتك، بأي شيء تشهد؟ والوزير واقف ينظر ويسمع، فقال: أشهد أنها قد بغت، قال: متي؟، قال: في يوم كذا وكذا. قال: مع من؟ قال: مع فلان بن فلان. قال: في أي مكان؟ قال: في مكان كذا وكذا. قال: ردوه إلى مكانه، وهاتوا الآخر. فردوه إلى مكانه، وجاؤوا بالآخر، فقال: بأي شيء تشهد؟ قال: بغت. قال: متي؟ قال: يوم كذا وكذا. قال: مع من؟ قال: مع فلان بن فلان. قال: وأين؟ قال: في موضع كذا وكذا، فخالف صاحبه، فقال دانيال: الله أكبر، شهدا عليها والله بالزور، فاحضروا قتلهما. فذهب الثقة إلى الملك مبادراً، فأخبره الخبر، فبعث إلى القاضيين، ففرق بينهما، وفعل بهما ما فعل دانيال. فاختلفا كما اختلف الغلامان. فنادي الملك في الناس: أن احضروا قتل القاضيين، فقتلهما. (الطرق الحكمية في السياسة الشرعية: ۶۱).

ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فیصلہ کرنے کے بعد یہ قصہ سنایا: دانیال علیہ السلام یتیم تھے، اور بنی اسرائیل کی ایک بڑھیا کی پرورش میں تھے، اُس زمانے میں جو بنی اسرائیل کا بادشاہ تھا اس کے دو قاضی تھے۔ بادشاہ کے پاس ایک خوبصورت عورت آتی تھی جو بادشاہ کو نصیحت کرتی، اور مختلف قصے سناتی تھی۔ دونوں قاضی اس کے عاشق تھے، انہوں نے اس عورت کو پھسلانا چاہا لیکن عورت نے انکار کر دیا، اس پر ان دونوں نے بادشاہ کے سامنے اس کی بد کاری کی گواہی دی۔ بادشاہ یہ سن کر بہت پریشان اور غمگین ہو گیا کیوں کہ اسے وہ عورت بہت پسند تھی۔ بہرحال بادشاہ نے کہا کہ ٹھیک ہے، تمہاری گواہی قبول ہے، اور اس عورت کو تین دن کی مہلت دی جاتی ہے، اس کے بعد اس کو رجم کر دیا جائے گا۔ اور شہر میں منادی کرا دی کہ سب شہر والے فلاں عورت کے رجم میں حاضر ہو جائیں۔ پھر بادشاہ نے اپنے ایک معتمد وزیر کو بلایا اور پوچھا: کیا تمہارے پاس اس عورت کی جان بچانے کی کوئی ترکیب ہے؟ اس نے کہا کہ میرے پاس کیا ترکیب ہو گی، جب کہ دو قاضی اس کے خلاف گواہی دے چکے ہیں۔ اتفاق سے تیسرے دن وزیر کسی کام سے باہر نکلا، اس نے دیکھا چند لڑکے کھیل رہے ہیں، اور ان میں دانیال علیہ السلام بھی ہیں۔ وزیر دانیال علیہ السلام کو نہیں پہچانتا تھا۔ دانیال علیہ السلام نے فرمایا: اے بچو! سب جمع ہو جاؤ، اور میں بادشاہ بنتا ہوں، اور تم فلاں عبادت گزار عورت بن جاؤ، اور فلاں فلاں دو قاضی بن جائیں، پھر مٹی جمع کی اور لکڑی کی ایک تلوار بھی بنا لی، پھر بچوں سے کہا: ان میں سے ایک قاضی کو فلاں فلاں جگہ لے جاؤ، چنانچہ وہ اس کو لے گئے، پھر دوسرے قاضی کو بلا کر پوچھا کہ سچ سچ بتانا ورنہ قتل کر دیے جاؤ گے، تم کس چیز کی گواہی دیتے ہو، (وزیر یہ سب ماجرا دیکھ رہا تھا)۔ قاضی نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اس عورت نے بد کاری کی تھی، بادشاہ نے پوچھا: کب کی تھی؟ قاضی نے کہا: فلاں فلاں دن۔ بادشاہ نے پوچھا: کس کے ساتھ اور کہاں کی تھی؟ قاضی نے جواب دیا: فلاں فلاں کے ساتھ فلاں فلاں جگہ پر کی تھی۔ بادشاہ نے کہا: لے جاؤ اس کو اور دوسرے کو لاؤ، چنانچہ پہلے قاضی کو لے جایا گیا اور دوسرے قاضی کو حاضر کیا گیا، بادشاہ نے اس سے بھی وہی سوال پوچھے جو پہلے قاضی سے پوچھے تھے۔ اس نے پہلے قاضی سے بالکل مختلف جواب دیے۔ دانیال علیہ السلام نے نعرہ ٔ تکبیر بلند کیا اور کہا کہ ان دونوں نے اس عورت کے خلاف جھوٹی گواہی دی تھی۔ لہذا سب ان کے قتل کی سزا میں حاضر ہو جاؤ۔ وزیر جو یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا تیزی سے بادشاہ کے پاس پہنچا، اور اس کو یہ سارا ماجرا سنایا، بادشاہ نے فوراً دونوں قاضیوں کو بلایا اور ان دونوں کو الگ کر کے سوالات کیے، اور جیسے دانیال علیہ السلام نے کیا تھا بالکل ویسے ہی کیا۔ ان دونوں نے ایک دوسرے سے بالکل مختلف جواب دیے۔ بادشاہ نے لوگوں میں منادی کرا دی کہ سب لوگ ان کے قتل کی سزا میں حاضر ہو جائیں؛ چنانچہ وہ دونوں قتل کر دیے گئے۔
اسی طرح اس قصے کو داؤد بن عمر الانطاکی المعروف بالاکمہ (م ۱۰۰۸ ھ) نے اپنی کتاب
تزيين الأسواق في أخبار العشاق
(
۱
/
۱۱۵
) میں، اور زینب بنت علی (م ۱۳۳۲ ھ) نے اپنی کتاب
الدر المنثور في كتاب طبقات ربات الخدور
(
۱
/
۲۵۴
) میں بھی ذکر کیا ہے اور یہ لکھا ہے کہ یہ قصہ تورات میں سفرِ دانیال میں موجود ہے۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.