بلڈنگ کے کرایہ کی وصیت کا حکم:
Question
اگر کوئی شخص کسی کے لیے کسی بلڈنگ کے کرایہ کی وصیت کرے تو یہ درست ہے یا نہیں ؟ اگر یہ وصیت صحیح ہو تو اس کا نفاذ کب تک رہے گا؟ بینوا توجروا۔
Answer
بصورتِ مسئولہ یہ وصیت صحیح اور درست ہے، پھر اگر وصیت مطلق ہو تو موصی لہ کی موت تک وصیت نافذ کی جائے گی اور اگر مقید ہو مثلاً: ایک سال یا دو سال تو اس کے مطابق عمل کیا جائے گا۔ نیز اگر بلڈنگ کا کرایہ کل مال کا ایک تہائی یا اس سے کم بنتا ہو تو ٹھیک ہے اور اگر ایک تہائی سے زیادہ ہو تو وصیت فقط ایک تہائی میں نافذ ہو گی ما بقی ترکہ میں واپس کیا جائے گا۔ ملاحظہ ہو ملتقی الابحر میں مرقوم ہے:
تصح الوصية بخدمة عبده، وسكني داره وبغلتها مدة معينة وأبداً، فإن خرج ذلك من الثلث سلم إلى الموصي له، وإلا قسمت الدار، وتهايئا في العبد يومين لهم ويوماً له (لأن حقه الثلث فقط). (ملتقي الأبحر، ص ٦۸۲، باب الوصية بالخدمة والسكني والثمرة، ط: دمشق).
عالمگیری میں مرقوم ہے:
يجب أن يعلم بأن الوصية بخدمة الرقيق وسكني الدور وبغلة الرقيق والدور والأرضين والبساتين جائزة في قول علمائنا رحمهم الله تعالى. (الفتاوى الهندية: ٦/۱۲۱).
در مختار مع رد المحتار میں ہے:
صحت الوصية بخدمة عبده وسكني داره مدة معلومة وأبداً، ويكون محبوساً على ملك الميت في حق المنفعة
قوله مدة معلومة وأبداً، وإن أطلق فعلي الأبد وإن أوصي بسنين فعلي ثلاث وكذا الوصية بغلة العبد والدار. (الدر المختار مع رد المحتار: ٦/٦۹۲، سعيد).
مجموعہ قوانین اسلامی میں ہے:
مکان میں رہنے یا اس کی آمدنی کی وصیت کرنا صحیح ہے، خواہ ہمیشہ کے لیے ہو یا مدتِ معینہ کے لیے۔ (مجموعہ قوانین اسلامی، ص
۲٦۳
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3232
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3232