لے پالک بیٹے کے لیے وصیت کرنے کا حکم:
Question
ایک عورت کا انتقال ہوا اس نے اپنی ایک لے پالک بیٹی کے لیے کچھ زیورات کی وصیت کی تھی، کیا یہ وصیت نافذ ہو گی یا نہیں ؟ نیز لے پالک کو میراث میں سے حصہ ملے گا یا نہیں ؟
Answer
بصورتِ مسئولہ متبنی کا حکم حقیقی بیٹی کا نہیں ہے اس وجہ سے میراث کی مستحق نہیں ہو گی، بنا بریں اس کے لیے وصیت صحیح ہے پھر میت کا قرض ادا کرنے کے بعد اگر زیورات کل مال کا ایک تہائی بنتے ہوں تو صحیح ہے اور اگر ایک تہائی سے زائد ہوں تو صرف ایک تہائی تک وصیت نافذ ہو گی الا یہ کہ دیگر ورثاء اجازت دے دیں تو پھر درست ہے۔ ملاحظہ ہو احکام القرآن میں مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله لکھتے ہیں:
المتبني لا يلحق بالأبناء في الأحكام
الثاني: أن الدعي والمتبني لا يلحق في الأحكام بالابن، فلا يستحق الميراث ولا يرث عنه المدعي، ولا يحرم حليلته بعد الطلاق والعدة على ذلك المدعي ولا عكسه. (أحكام القرآن: ۳/۲۹۱، إدارة القرآن، كراتشي).
مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:
إن معاذ بن جبل رضي الله عنه قال: إن الله تصدق عليكم بثلث أموالكم زيادة في حياتكم، يعني: الوصية. (مصنف ابن أبي شيبة: ۱٦/۱۸۱).
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
اگر کوئی شخص کسی بچے کو لے پالک یعنی منہ بولا بیٹا (متبنی) بنا لے تو حقیقت کے اعتبار سے وہ اس شخص کا بیٹا اور وہ شخص اس کا باپ نہیں بن جاتا، اس بچے کا حقیقی باپ وہی ہے جس کے نطفہ سے وہ پیدا ہوا ہے، اور اس بچے کا نسب بھی اسی حقیقی باپ سے ثابت ہوگا اور اسی کا وارث بنے گا، جس شخص نے منہ بولا بیٹا بنایا ہے اس کا وارث نہ ہوگا اس بچے سے محبت ہو تو بخشش کے طور پر اپنے مال کے تیسرے حصہ میں سے دے سکتا ہے یا وصیت کر سکتا ہے۔ (فتاوی رحیمیہ:
۵
/
۵۲۳
و
۵۰۱
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3235
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3235