مشیمہ (جھلی) کی طہارت اور استعمال کا حکم:

3 min readFatwa Vol 9 #3Urdu

Question

مشیمہ یعنی وہ جھلی جس میں بچہ مادرِ رحم میں لپٹا ہوا ہوتا ہے اور بہ وقتِ ولادت بچہ کے ساتھ نکلتی ہے ۔ کیا یہ نجس ہے یا نہیں؟ چاہے مذبوحہ کی ہو یا اسقاط کے بعد برآمد ہوئی ہو یا فطری طریقہ پر ولادت کے ذریعہ نکلی ہو ۔ کیا مشیمہ کو کھانا جائز ہے یا نہیں؟ کیا اس کا خارجی استعمال درست ہے، مثلاً: میک اَپ کا سامان، بدن پر ملنے والی کریم اور شیمپو وغیرہ؟
بينوا بالبرهان توجروا عند الرحمن.

Answer

احناف کے نزدیک گائے، بکری کی جھلی پاک اور حلال ہے، بنا بریں اس کا داخلی اور خارجی استعمال دونوں طرح جائز اور درست ہے ۔ احناف کے نزدیک مذبوحہ شرعیہ مثلاً: بکری، گائے وغیرہ کے اعضاء اور اجزاء میں سے سات کے علاوہ سب کا کھانا جائز اور درست ہے ۔ فقط سات اعضاء کا کھانا درست نہیں؛ وہ سات اعضاء یہ ہیں: دمِ مسفوح، شرمگاہ، خصیتین، غدود، مثانہ، پتا اور آلہ تناسل ۔ اور مشیمہ ان اعضاء میں سے نہیں ہے اس لیے اس کا داخلی استعمال جائز ہے ۔ ملاحظہ ہو مصنف عبد الرزاق میں روایت ہے:

عبد الرزاق، قال: أخبرنا الأوزاعي، عن واصل، عن مجاهد، قال: كان رسول الله ﷺ يكره من الشاة سبعاً: الدم، الحيا، والأنثيين، والغدة، والذكر والمثانة، والمرارة، وكان يستحب من الشاة مقدمها. (مصنف عبد الرزاق: ٤/۵۳۵/۸۷۷۰، ط: المجلس العلمي افريقيا).
قال في تنقيح الفتاوى الحامدية: والمكروه تحريماً من الشاة سبع الفرج والخصية والغدة والدم المسفوح والمرارة والمثانة وقد نظمها بعضهم بقوله:
إذا ما ذكيت شاة فكلها، سوى سبع ففيهن الوبال
ففاء ثم خاء ثم غين، وذال ثم ميمان ودال.
أقول: وقد نظمتها بقولي إن الذي من الشاة يحرم يجمعه حروف فخذ مدغم. (تنقيح الفتاوى الحامدية: ۲/۳٦۷، ط: دار الكتب العلمية بيروت).

نیز مشیمہ جسم کے ان اجزا میں سے ہے جن میں حیات حلول نہیں کرتی تو موت بھی اثر نہیں کرتی، بنا بریں مشیمہ پاک ہے، اور اس کا خارجی استعمال جائز اور درست ہے ۔ ہاں اگر مردار کی جھلی ہو تو پاک تو ہو گی لیکن جزء المیتہ ہونے کی وجہ سے اس کا کھانا درست نہیں ہوگا ۔

البحر الرائق
میں ہے:
والأصل أن كل ما لا تحله الحياة من أجزاء الهوية محكوم بطهارته بعد موت ما هي جزؤه: كالشعر والريش والمنقار والعظم والعصب والحافر والظلف واللبن والبيض الضعيف القشر. (البحر الرائق: ۱/۱۱۲، ط: دار المعرفة، بيروت).
قال في الدر المختار مع رد المحتار: كما ينتفع بما لا تحله الحياة منها، كعصبها وصوفها، أدخلت الكاف عظمها وشعرها وريشها ومنقارها وظلفها وحافرها فإن هذه الأشياء طاهرة لا تحلها الحياة فلا يحلها الموت ويجوز بيع عظم الفيل والانتفاع به في الحمل والركوب والمقاتلة، منح ملخصاً. (الدر المختار مع رد المحتار: ۵/۷۳، سعيد).
(وكذا في فتح القدير: ٦/٤۲۷، دار الفكر).
وفي الفتاوى الهندية: البيضة إذا خرجت من دجاجة ميتة أكلت وكذا اللبن الخارج من ضرع الشاة الميتة كذا في السراجية. (الفتاوى الهندية: ۵/۳۳۹).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.