اسکول کے غیر مسلم بچوں کو مسجد میں سیر کرانے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 9 #16Urdu

Question

دعوت و تبلیغ کے لیے اسکول کے غیر مسلم بچوں کو مسجد میں سیر کرانا جائز ہے یا نہیں؟ نیز مردوں اور عورتوں کو لانا جن میں غیر مسلم حائضہ عورتیں بھی ہوں تو جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

بصورتِ مسئولہ بہتر اور افضل یہ ہے کہ مسجد کے صحن میں مسجد کی حدود سے باہر انتظام کیا جائے اور وہاں دعوت پیش کی جائے ۔ لیکن اگر مسجد میں لانا ضروری ہو تو غیر مسلم مسجد میں داخل ہو سکتے ہیں جب تک کسی ظاہری ناپاکی کا علم نہ ہو نیز دوسری کوئی مضرت، مفسدہ اور فتنہ کا اندیشہ نہ ہو، پھر مردوں اور عورتوں کے درمیان پر دے کا انتظام کیا جائے ۔ اسی طرح غیر مسلم جنبی مرد اور غیرمسلم حائضہ عورت سب مسجد میں داخل ہو سکتے ہیں جب تک کہ جسم کسی ظاہری نجاست سے ملوث نہ ہو ۔ ملاحظہ ہو البحر الرائق میں ہے:

ولا بأس أن يدخل الكافر وأهل الذمة المسجد الحرام وبيت المقدس وسائر المساجد لمصالح وغيرها من المهمات. (البحر الرائق: ۵/۲۷۱، ط: دار الكتاب الإسلامي). (وكذا في الدر المختار: ٤/۳۷۸، سعيد).

فتاوی الشامی میں ہے:
قوله وجاز دخول الذمي مسجداً، ولو جنباً كما في الأشباه. (فتاوى الشامي: ٦/۳۸۷، سعيد).

کفایت المفتی میں مرقوم ہے:
مضائقہ نہیں، مسجد میں ہندو، عیسائی اور دیگر غیر مسلموں کا داخلہ ممنوع نہیں، جامع مسجد میں سیر و تفریح کے لیے روزانہ غیر مسلم داخل ہوتے ہیں تو ایک صحیح غرض اتحاد و قیامِ امن کے لیے داخل ہونے میں کیا مضائقہ ہے ۔ (کفایت المفتی: ۱۰/۳۷٦، ط: جامعہ فاروقیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.