درجہ حفظ میں سبق یا د کرتے وقت، سناتے وقت تکرارِ آیت پر تکرارِ سجدہ کا حکم:
Question
درجہ حفظ میں طلبہ اپنی جگہ پر سبق یاد کرتے ہیں، پھر استاذ صاحب کے پاس جا کر سناتے ہیں تو کیا یہ تبدیل مجلس کے حکم میں ہو گا اور دو سجدے واجب ہوں گے یا ایک؟ ۲ ۔ جب استاذ کسی طالبِ علم کی اصلاح کرے تو کتنے سجدے واجب ہوں گے؟ ۳ ۔ طالبِ علم اپنا دور یاد کرتے ہوے تھوڑا وقفہ لے کر پانی پینے کے لیے چلا جائے تو تبدیل مجلس کے حکم میں ہو گا یا نہیں؟
بينوا بالتفصيل توجروا بالأجر الجزيل.
Answer
۱ ۔ بصورتِ مسئولہ اگر استاذ اور طالبِ علم کا مکان متحد ہو تو دونوں پر ایک ہی سجدہ واجب ہوگا اور دو تین قدم کی حرکت مضر نہیں ہے، اور اگر دونوں کا مکان مختلف ہے تو دو سجدے واجب ہوں گے ۔
۲ ۔ اصلاح اور تنبیہ کرتے وقت اگر سجدہ کے لفظ کے ساتھ اکثر آیت پڑھی تو سجدہ واجب ہو گا ورنہ نہیں ۔ ہاں ایک مجلس میں ایک آیتِ سجدہ پڑھی پھر وہی آیت دوسرے سے بھی سنی تب بھی ایک سجدہ واجب ہوگا ۔
۳ ۔ طالبِ علم آموختہ یاد کرتے وقت اپنی جگہ پر ہی بیٹھے بیٹھے چند گھونٹ پانی پی لے تو تبدیل مجلس نہیں ہو گی، ہاں باہر چلا جائے تو مجلس بدل جائے گی اور تکرارِ آیت سے تکرارِ سجدہ کا حکم عائد ہو گا ۔
۱، اور ۳ کے دلائل ملاحظہ فرمائیں ؛در مختار مع رد المحتار میں منقول ہے:
ولو كررها في مجلسين تكررت وفي مجلس واحد لا تتكرر بل كفته واحدة. وفي رد المحتار: قوله ولو كررها
الأصل أنه لا يتكرر الوجوب إلا بأحد أمور ثلاثة اختلاف التلاوة أو السماع أو المجلس أما الأولان فالمراد بهما اختلاف المتلو والمسموع حتى لو تلا سجدات القرآن كلها أو سمعها في مجلس أو مجالس وجبت كلها، وأما الأخير فهو قسمان حقيقي بالانتقال منه إلى آخر بأكثر من خطوتين كما في كثير من الكتب أو بأكثر من ثلاث كما في المحيط ما لم يكن للمكانين حكم الواحد كالمسجد والبيت والسفينة ولو جارية والصحراء بالنسبة للتالي في الصلاة راكباً وحكمي وذلك بمباشرة عمل يعد في العرف قطعاً لما قبله كما لو تلا ثم أكل كثيراً أو نام مضطجعاً
بخلاف ما إذا طال جلوسه أو قراءته أو سبح أو هلل أو أكل لقمة أو شرب شربة أو نام قاعداً أو كان جالساً فقام أو مشى خطوتين أو ثلاثاً
الخ. (فتاوى الشامي: ۲/۱۱۴، سعيد).
مراقی الفلاح میں علامہ شرنبلالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ولا يتبدل مجلس السماع والتلاوة بزوايا البيت الصغير ولا يتبدل مجلس التلاوة بزوايا المسجد ولو كان كبيراً لصحة الاقتداء مع اتساع الفضاء فيه. (مراقي الفلاح مع حاشية الطحطاوي، ص ۴۹۵، ط: قديمي).
بدائع الصنائع میں مذکور ہے:
الأصل فيه ما روي أن جبرئيل عليه السلام كان ينزل بالوحي فيقرأ آية السجدة على رسول الله ﷺ، ورسول الله ﷺ كان يسمع ويتلقن ثم يقرأ على أصحابه وكان لا يسجد إلا مرة واحدة وروي عن أبي عبد الرحمن السلمي معلم الحسن والحسين رضي الله تعالى عنهم، أنه كان يعلم الآية مراراً وكان لا يزيد على سجدة واحدة والظاهر أن علياً رضي الله تعالى عنه كان عالماً بذلك ولم ينكر عليه.
وروي عن أبي موسي الأشعري، رضي الله تعالى عنه، أنه كان يكرر آية السجدة حين كان يعلم الصبيان وكان لا يسجد إلا مرة واحدة ولأن المجلس الواحد جامع للكلمات المتفرقة كما في الإيجاب والقبول ولأن في إيجاب السجدة في كل مرة إيقاع في الحرج لكون المعلمين مبتلين بتكرار الآية لتعليم الصبيان والحرج منفي بنص الكتاب. (بدائع الصنائع: ۱/۱۸۱، سعيد).
زبدۃ الفقہ میں حضرت مولانا سید زوار حسین صاحب رحمه الله فرماتے ہیں:
مجلس بدلنے کی دو قسمیں ہیں: حقیقی یعنی ایک مجلس سے دوسری مجلس میں دو قدم سے زیادہ چل کر جانا، اب اگر وہ اسی جگہ آ کر دوبارہ وہی آیت سجدہ پڑھے تب بھی دو سجدے واجب ہوں گے اور بعض کے نزدیک تین قدم سے زیادہ چل کر جانا لیکن اگر وہ جگہ مکان واحد کے حکم میں ہو مثلاً: چھوٹی مسجد ہو یا چھوٹا گھر یا کمرہ یا کوٹھڑی ہو تو اس میں مختلف جگہ تلاوت سے ایک ہی سجدہ واجب ہوگا
دوم حکمی یعنی ایک ہی آیتِ سجدہ دو دفعہ پڑھنے کے درمیان عمل کثیر کرنا مثلاً خرید و فروخت کرنا ایک دو لقمے سے زیادہ کھانا لیٹ کر سونا تو اس صورت میں سجدۂ تلاوت مکرر واجب ہوگا ۔ (زبدۃ الفقہ: ۱/۳۳۲) ۔
جواب ۲ کے دلائل ملاحظہ فرمائیں: فتح باب العنایہ میں مذکور ہے:
ولو قرأ آية السجدة إلا الحرف الذي في آخرها لا يسجد ولو قرأ الحرف الذي يسجد فيه وحده لا يسجد إلا أن يقرأ أكثر آية السجدة معه. (فتح باب العناية: ۱/۳۸۸، وكذا في الفتاوى الهندية: ۱/۱۳۲).
مزید ملاحظہ ہو : (فتاوی دار العلوم زکریا: ۲/۴۷۹) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3310
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3310