بہ سببِ عذر ڈاڑھی صاف کرانے والے کی امامت کا حکم:
Question
کیا ایسا شخص امام بن سکتا ہے جس کو میڈیکل وجوہات (مثلاً أکنی، acne) کی وجہ سے ڈاڑھی صاف کرانے کی ضرورت پڑی ہو؟ نیز دیگر علماء و حفاظ کی موجود گی میں ایسے شخص کی امامت کا کیا حکم ہے؟
Answer
کسی عذر کے سبب ڈاڑھی صاف کرانے والا بہ نگاہِ شریعت فاسق و گنہگار نہیں ہے جب کہ گناہ کی کوئی اور بات اس میں موجود نہ ہو، بنا بریں ایسا شخص امامت کر سکتا ہے، ہاں اگر مقتدیوں کے لیے یہ بات قابل نفرت ہو تو امامت نہیں کرنی چاہیے، نیز جب دیگر علماء و حفاظ موجود ہیں جن میں امامت کی شرائط علی وجہ الاتم پائی جاتی ہیں تو وہ زیادہ مستحق ہیں تاہم اگر یہ معذور شخص ان کی موجود گی میں امامت کر لے تب بھی نماز درست ہو جائے گی ۔ اسی طرح کینسر کی وجہ سے بال گر جاتے ہیں اس کا بھی یہی حکم ہے ۔
فتاوی محمودیہ میں مذکور ہے:
سوال: ایک شخص ہے جس کی ڈاڑھی میں روگ لگ گیا ہے، جس کا کافی علاج بھی کیا گیا، لیکن کوئی فائدہ نہیں ہے، نیز ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ڈاڑھی صاف کرا دیجیے، اس کے بعد آپ کا علاج کامیاب ہو جائے گا، کیا ایسی صورت میں ڈاڑھی صاف کرانا شرعاً جائز ہے؟
الجواب: امراض کے علاج کے لیے جب کوئی جائز دوا مفید نہ ہو تو مجبوراً نجس اور حرام دوا کے استعمال کی بھی اجازت ہے، جب کہ تجربہ کار اور دیندار معالج تجویز کر دے، کہ شفا حرام چیز سے ہی ہو سکتی ہے، اسی طرح اگر بغیر ڈاڑھی صاف کرائے صحت نہیں ہو سکتی تو مجبوراً تحصیل صحت کے لیے اس کی گنجائش ہے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۲۷/ ٤۹۸، ط: مکتبہ محمودیہ) ۔
وبهامشه: قال: يجوز للعليل شرب الدم والبول وأكل الميتة للتداوي إذا أخبره طبيب مسلم إن شفاء فيه ولم يجد من المباح ما يقوم مقامه، الخ. (عالمگيري: ۵/۳۵۵). والضرورات تبيح المحظورات، الخ. (الأشباه والنظائر، ص ۱٤۰، ط: ديوبند).
فتاوی الشامی میں ہے:
مطلب في إمامة الأمرد، قوله وكذا تكره خلف أمرد، الظاهر تنزيهيه أيضاً، والظاهر أيضاً كما قال الرحمتي: إن المراد به الصبيح الوجه لأنه محل الفتنة وهل يقال: هنا أيضاً إذا كان أعلم القوم تنفي الكراهة فإن كانت علة الكراهة خشية الشهوة وهو الأظهر فلا، وإن كانت غلبة الجهل أو نفرة الناس من الصلاة خلفه فنعم فتأمل. (فتاوى الشامي: ۱/۵٦۲، سعيد).
کتاب الفتاوی میں مرقوم ہے:
جو شخص جسمانی طور پر معذور ہو، لیکن رکوع اور سجدہ کر سکتا ہو، اس کی امامت درست ہے، لیکن چوں کہ عام طور پر لوگ ایسے شخص کے پیچھے پڑھنے میں کراہت محسوس کرتے ہیں، اور امام ایسے شخص کو ہونا چاہیے جس کی اقتدا لوگ رغبت کے ساتھ کریں، تاکہ نماز میں خشوع و خضوع کی کیفیت باقی رہے، اس لیے فقہاء نے ایسے لوگوں کی امامت کو مکروہ قرار دیا ہے، علامہ شامی رحمه الله نے مفلوج، لنگڑے اور لنجے کے بارے میں یہی بات لکھی ہے:
(قوله ومفلوج وأبرص شاع برصه) وكذلك أعرج يقوم ببعض قدمه، فالاقتداء بغيره أولي تتارخانية، وكذا أجزم برجندي، ومجبوب وحاقن، ومن له يد واحدة فتاوى الصوفية عن التحفة، والظاهر أن العلة النفرة. (رد المحتار: ۱/۵٦۲)
اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ اگر کوئی شخص جسمانی اعتبار سے عیب زدہ ہو، لیکن اس کے علم و تقوی کی وجہ سے لوگ اس کے پیچھے نماز پڑھنے کو پسند کرتے ہیں، تو ایسے شخص کی امامت میں کوئی حرج نہیں ۔ (کتاب الفتاوی: ۲/۲۹۷) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3323
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3323