سنت کے مطابق ڈاڑھی نہ رکھنے والے کی امامت تراویح:

2 min readFatwa Vol 2 #297Urdu

Question

ایک حافظ صاحب کسی مسجد میں ٤۰ سال تراویح پڑھاتے ہیں بڑے با اخلاق اور لوگوں کے خیر خواہ ہیں اور کفن دفن وغیرہ کاموں میں بھی شرکت کرتے ہیں اور بہت سارے مصلی حضرات ان کے شاگرد بھی ہیں لیکن وہ اپنی ڈاڑھی سنت کے مطابق نہیں رکھتے ہیں کترواتے ہیں تو اب کیا کرنا چاہیے اگر ان کو تراویح پڑھانے سے علیحدہ کر دیا جائے تو مصلیوں میں انتشار کا خوف ہے لہذا کوئی حل بتائیں؟

Answer

سنت کے مطابق ڈاڑھی نہ رکھنے والے کی امامتِ تراویح مکروہ ہے، صورتِ مسئولہ میں حافظ صاحب دوسرے امور میں متبعِ شریعت ہے اور بڑے با اخلاق ہے تو داڑھی ایک قبضہ رکھنا بھی تو شریعت ہی کا حکم ہے اور آنحضور ﷺ کی دائمی سنت ہے لہذا حافظ صاحب سے کہا جائے کہ سنت کے مطابق رکھیں اور ایک قبضہ سے قبل نہ کتروائیں، اس سے حافظ کا اتباعِ شریعت میں اضافہ ہوگا اور حضور ﷺ کا قرب حاصل ہوگا اور مصلی حضرات کی محبت و ہمدردی میں اضافہ ہوگا ۔
اگر حافظ صاحب کو یہ بات منظور نہ ہو تو ان کو علیحدہ کر دیا جائے اس لیے کہ شریعت کا معاملہ مقدم ہے نیز دیگر نیکی طاعات کے قبیل سے ہے اور امامتِ تراویح عبادات کے قبیل سے ہے جو طاعات پر مقدم ہے اور تمام مصلی حضرات کی عظیم عبادت اس سے وابستہ ہے ۔ دلائل "باب الامامت" میں گذر گئے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.