پرانی عید گاہ کو مسجد و مدرسہ بنانے کا حکم:
Question
ایک پرانی عید گاہ تھی جس کی اب بالکل ضرورت نہ رہی کیونکہ دوسری عید گاہ موجود ہے نیز لوگ مسجدوں میں بھی نماز عید پڑھتے ہیں یہ خالی جگہ بیکار پڑی رہی اس میں گدھے گھوڑے گھومتے تھے واقف نے اس کو مدرسہ بنا دیا جس میں سبق کے ساتھ ساتھ عیدین و جمعہ کی نمازوں کے لیے مسجد بھی ہے ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟
Answer
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ذكر في المنتقي عن محمد رحمه الله تعالى في الطريق الواسع بني فيه أهل. المحلة مسجداً وذلك لا يضر الطريق فمنعهم رجل فلا بأس أن يبنوا كذا في الحاوي."
قوم بنوا مسجداً واحتاجوا إلى مكان ليتسع المسجد اخذوا من الطريق وادخلوه في المسجد إن كان يضر بأصحاب الطريق لا يجوز وان كان لا يضر بهم رجوت ألا يكون به بأس، كذا في المضمرات وهو المختار كذا في خزانة المفتين. (الفتاوى الهندية: ۲/٤۵٦، ٤۵۷).
امداد الفتاویٰ میں ہے:
سوال: ایک قبرستان عرصہ ۲۵ سال سے ویران پڑا ہے اور اس میں موتیٰ بھی دفن نہیں کیے جاتے، اب اس میں ایک مکان انجمن اسلام بنانا چاہتے ہیں تو یہ جائز ہے یا نہیں؟
الجواب: عینی شرح بخاری میں ہے:
"وقال ابن القاسم لو أن مقبرة من مقابر المسلمين عفت يبني فيها مسجداً لم أر بذلك بأساً وذلك لأن المقابر وقف من أوقاف المسلمين لدفن موتاهم لا يجوز لا حد أن يملكها فإذا درست واستغني عن الدفن فيها جاز صرفها إلى المسجد لأن المسجد أيضا وقف من أوقاف المسلمين لا يجوز تمليكه لا حد فمعنا هما على هذا واحد."
جوابِ مذکور سے بعلت اشتراکِ علت معلوم ہوا کہ انجمن کا مکان وقفی نفع عام کے لیے اس مقبرہ کی جگہ بنانا جائز ہے ۔ واللہ اعلم (امداد الفتاوی: ۲/۵٦۵) ۔
مذکورہ عبارات سے یہ بات واضح ہو گئی کہ عید گاہ بھی مسلمانوں کے نفع عام کے لیے وقف کردہ ہوتی ہے اور جب اس کا نفع بظاہر نہیں ہوا اور اس کا نعم البدل بھی موجود ہے لہذا مدرسہ بنانا جائز و درست ہے اس میں عام مسلمانوں کا فائدہ بھی ہے اور عید گاہ کا مقصد بھی حاصل ہو رہا ہے اور وقف کی زمیں بھی ویران ہونے کے بعد آباد ہو گئی جو کہ وقف کے مقاصد میں سے بڑا مقصد ہے لہذا اس طرح مدرسہ بنانا درست اور صحیح ہے ۔
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/336
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-336