عید گاہ پر چھت بنانے کا حکم:
Question
عید گاہ پر چھت بنانا درست ہے یا نہیں؟ اور کیا چھت کے نیچے عید کی نماز پڑھنا خلافِ سنت ہے؟ نیز اطراف میں دیوار نہیں بنائی جائے گی فقط چھت ہو گی ستونوں کے سہارے پر جیسا کہ اجتماع میں کیا جاتا ہے، کیا اس کی اجازت ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
Answer
بصورتِ مسئولہ دھوپ، بارش اور گرمی، سردی سے حفاظت کی خاطر عید گاہ پر چھت بنانا جائز اور درست ہے، اور چھت کے نیچے عید کی نماز ادا کرنا کھلے میدان کی سنت کے خلاف نہیں ہے۔
ملاحظہ ہو فتاوی دار العلوم دیوبند میں مذکور ہے: عید گاہ وقف ہے اس میں کوئی تصرف تعمیر مکان وغیرہ کا درست نہیں، البتہ اگر نمازیوں کے آرام کے لیے دھوپ اور بارش سے بچنے کے لیے کوئی درجہ مسقف کر دیا جائے مثل مسجد کے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند: ۵/۲۱٤، ط؛ دار الاشاعت)۔
امداد الاحکام میں مرقوم ہے:
سوال: عید گاہ پختہ بنانا شرع شریف میں درست ہے یا نہیں؟ علامہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی حنفی رحمه الله جذب القلوب الی دیار المحبوب میں جو زیرین بیان مصطفی تحریر فرماتے ہیں: مصلی عید در زمانِ آں سرور بنا نداشت بلکہ از بنائے آں نہی فرمود، علامہ سمہودی وفاء الوفاء باخبار المصطفی ص ٦ میں لکھتے ہیں:
ولم يكن المصلى في زمن النبي ﷺ مسجداً، بأن كانت صحراء لا بناء بها ونهى ﷺ عن البناء بها،
نیز صفحہ ۱۱ میں ہے:
روى ابن أبي شيبة عن أنس بن مالك رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ خرج إلى المصلى يستسقي فبدأ بالخطبة ثم صلى وكبر واحدة افتتح بها الصلاة وقال: هذا مجمعنا ومستمطرنا ومدعانا لعيدنا ولفطرنا وأضحانا فلا يبنى فيه لبنة على لبنة ولا خيمة،
اسی طرح خلاصۃ الوفاء میں بھی ہے، ان کی کیا غرض ہے؟ بینوا توجروا۔
الجواب: عید گاہ پختہ تعمیر کرنا جائز ہے،
قال الشامي وفي الخلاصة عن خواهر زاده هذا أي بناء حسن في زماننا، ص ۸٦۸، ج ۱، وفي البخاري عن أبي سعيد وفيه فلما أتينا المصلى إذا منبر بناه كثير بن الصلت، قلت: ولم ينكر عليه الصحابة واستمر ذلك بعده فكان إجماعاً على جوازه قال الحافظ في الفتح: وقد وقع في المدونة لمالك رحمه الله رواه عمر بن شيبة عن أبي غسان عنه قال: أول من خطب الناس في المصلى على المنبر عثمان بن عفان كلمهم على منبر من طين بناه كثير بن الصلت، وقال أيضاً وفي هذا الحديث من الفوائد بنيان المنبر قال الزين بن المنير وإنما اختار وأن يكون باللبن لا من الخشب لكونه يترك بالصحراء في غير حرز فيؤمن عليه النقل، قلت: فلو أحيط المنبر بالأسوار من الجدران لأجل صيانته وبقائه فلا بأس به لأنه أدخل في الأمن من النقل،
اور جو احادیث سائل نے جذب القلوب اور سمہودی رحمه الله سے نقل کی ہیں جن میں مذکور ہے کہ حضور ﷺ نے مصلی میں عمارت بنانے سے منع فرمایا ہے، ان کا مطلب بتقدیر صحت یہ ہے کہ میدانِ مصلی میں کوئی شخص اپنا گھر نہ بناوے، بلکہ اس کو نمازِ عید کے واسطے وقف کر دینا ضروری ہے، کسی کو خاص اپنا قبضہ اس پر جمانا جائز نہیں میں کہتا ہوں کہ اس مصلحت کے لیے بھی عید گاہ کا پختہ بنا دینا اولی ہے تاکہ خالی زمین دیکھ کر کوئی شخص اس پر قبضہ نہ کر بیٹھے، کیوں کہ آج کل زراعت کرنے والے وقف کی زمین کو بھی تھوڑی بہت اپنی زراعت میں داخل کر لیں گے پھر ان سے مقدمہ لڑنا اور زمین عید گاہ کو ان کے قبضہ سے نکالنا دردِ سر ہے، غالباً انہی مصلحتوں پر نظر کر کے متقدمین نے بناءِ عید گاہ کو پسند کیا ہے، واللہ اعلم۔ (امداد الاحکام: ۱/۷۳۳، ط: دار العلوم کراچی)۔
وفاء الوفاء میں مذکور حدیث کی تحقیق ملاحظہ ہو:
قال: وأخبرني أبو ضمرة الليثي (ثقة)، عن حمزة بن عبد الواحد (ثقة)، عن داود بن بكر (ثقة) عن جابر بن عبد الله رضي الله عنه، عن أنس بن مالك رضي الله عنه؛ أن رسول الله ﷺ خرج إلى المصلى ليستسقي، فبدأ بالخطبة، ثم صلى وكبر واحدة افتتح بها الصلاة، فقال: هذا مجمعنا
الخ. (تاريخ المدينة لابن شبة، ص ۱۳۵، ط: دار الفكر).
اس روایت کی سند صحیح ہے، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ جگہ ہم نے عید گاہ اور استسقاء وغیرہ کے لیے مخصوص کر دی ہے لہٰذا کوئی شخص اس کو مباح سمجھ کر اپنی ضرورت کے لیے تعمیر نہ کرنے لگے۔ یہ جگہ کارِ خیر کے لیے استعمال کی جائے گی۔ فقہاء نے بوقتِ ضرورت تعمیر کی اجازت دی ہے۔ ملاحظہ ہو فتاوی الشامی میں ہے:
واختلف المشايخ في بنائه في الجبانة، قيل: يكره وقيل: لا، فدل كلامهما على أنه خلاف في كراهة إخراجه إليها وإنما الخلاف في بنائه فيها، ويمكن حمل الكراهة على التنزيهة وهي مرجع خلاف الأولى المفاد من كلمة لا بأس غالباً فلا مخالفة فافهم وفي الخلاصة عن خواهر زاده هذا أي بناء حسن في زماننا. (فتاوى الشامي: ۲/۱٦۹، سعيد).
مذکورہ بالا عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کی سہولت کے لیے مسقف عید گاہ بنانا جائز اور درست ہے۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3457
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3457