غیر مستحق کو مستحق سمجھ کر زکوٰۃ دینے سے ادائیگی کا حکم:
Question
ایک زکاتی ادارے نے درخواست دہندہ سے فارم میں تفصیلات درج کروائی، پھر اندازہ اور تحقیق سے مستحق زکوٰۃ ہونے کا فیصلہ کیا اور چند سال تک زکوٰۃ لیتا رہا، انتقال کے بعد اس کے ورثاء نے ادارے کو اطلاع دی کہ مرحوم زکوٰۃ کا مستحق نہیں تھا، اس کے اکاؤنٹ میں ایک لاکھ رینڈ جمع تھے، اور ورثاء زکوٰۃ کی رقم واپس کرنے کو تیار ہے ۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ: کیا یہ رقم ادارے کو واپس کی جائے؟ کیا اس آدمی کو دی گئی زکوٰۃ ادا ہو گئی یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
عام طور پر زکوٰۃ وصول کرنے والی تنظیمیں اور ادارے تحقیق، تفتیش و تحری کے بعد فقراء و مستحقین کی فہرست مرتب کرتے ہیں، نیز یہ ادارے معطین اور فقراء دونوں کے وکیل ہوتے ہیں، بنا بریں زکوٰۃ کی رقم پر قبضہ کرتے ہی معطین کی زکوٰۃ ادا ہو جاتی ہے، چنانچہ صورتِ مسئولہ میں زکوٰۃ ادا ہو گئی، ہاں ورثاء رقم واپس کر دیں تو یہ میت کی طرف سے احسان اور فراغتِ ذمہ کا سبب و ذریعہ ہوگا ۔ ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:
دفع بتحر، لمن يظنه مصرفاً فبان أنه عبده أو مكاتبه أو حربي ولو مستأمنا أعادها، وإن بان غناه أو كونه ذمياً أو أنه أبوه أو ابنه أو امرأته أو هاشمي لا يعيد، لأنه أتى بما في وسعه، حتى لو دفع بلا تحر لم يجز إن أخطأ وفي الشامية: وفيه: واعلم أن المدفوع إليه لو كان جالساً في صف الفقراء يصنع صنعهم أو كان عليه زيهم أو سأله فأعطاه كانت هذه الأسباب بمنزلة التحري كذا في المبسوط حتى لو ظهر غناه لم يعد
ولا يسترد في الولد والغني وهل يطيب له؟ فيه خلاف، وإذا لم يطب قيل يتصدق وقيل يرد على المعطي. (الدر المختار مع رد المحتار: ۲/۳۵۲، سعيد).
احسن الفتاوی میں مرقوم ہے:
اگر دینے والے نے غور و فکر کے بعد مصرف سمجھ کر زکوٰۃ دی تھی تو اس کی زکوٰۃ ادا ہو گئی، مگر زید (ہاشمی ہے) کو اس چیز کے زکوٰۃ ہونے کا علم ہو گیا تو اس پر لازم ہے کہ معطی کو واپس کرے ۔ (احسن الفتاوی: ٤/۲۸۰) ۔
جواہر الفقہ میں مذکور ہے: اگر کسی کو غریب و مستحق سمجھ کر زکوٰۃ دے دی پھر معلوم ہوا کہ وہ تو ذمی کافر ہے یا مالدار ہے یا تاریک رات میں کسی کو دی پھر معلوم ہوا کہ وہ اس کی ماں، باپ یا کوئی اور ایسا رشتہ دار ہے جس کو دینا اس کے لیے درست نہیں تو ان تمام صورتوں میں زکوٰۃ ادا ہو گئی، دوبارہ دینا واجب نہیں، لیکن لینے والے کو اگر معلوم ہو جائے کہ زکوٰۃ کا روپیہ ہے اور میں زکوٰۃ لینے کا مستحق نہیں ہوں تو اسے نہ لینا چاہیے اور واپس کر دینا چاہیے ۔ (جواہر الفقہ: ۳/۲٤۷) ۔
مزید ملاحظہ ہو : (بہشتی زیور، حصہ سوم، ص ۲٤۹، و فتاوی محمودیہ: ۹/۵۱۵، جامعہ فاروقیہ، و امداد المفتین، جلد دوم، ص ۳۹۲، ط: دار الاشاعت) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3512
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3512