باپ کو بچے نہ دینے کی شرط لگانے کا حکم:

4 min readFatwa Vol 9 #340Urdu

Question

زید اور اس کی بیوی کے درمیان کچھ نا اتفاقی ہو گئی، بیوی میکے آ گئی ہزار کوشش کے بعد بھی آنے کے لیے تیار نہیں ہوئی، بیوی نے ایک شرط لگائی کہ اگر کسی وجہ سے ان دونوں کے درمیان طلاق ہو جائے تو زید یعنی باپ کو بچے لینے کا حق نہیں ہوگا، زید نے مجبور ہو کر شرط منظور کر لی اور وہ آ گئی، چند دن ساتھ رہنے کے بعد پھر کسی وجہ سے اپنے بچوں کولے کر میکے چلی گئی، اب سوال یہ ہے اگر طلاق ہو جائے تو باپ اپنے بچوں کو شرعاً لینے کا حقدار ہوگا یا نہیں؟ مہربانی فرما کر قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیں ۔

Answer

شریعتِ مطہرہ نے بیٹے کی پر ورش کا حق سات سال کے بعد اور بیٹی کی پر ورش کا حق نو سال کے بعد باپ کو دیا ہے، چنانچہ اس قسم کی شرط قبول کرنے سے اس کا ایفا واجب نہیں ہوتا، اور والد کے لیے بدستور اپنا حق پر ورش باقی رہے گا ۔
ملاحظہ ہو قبولِ شرط کے باے میں امام بخاری رحمه الله نے باب قائم فرما کر حدیث ذکر فرمائی ہے:

باب المكاتب وما لا يحل من الشروط التي تخالف كتاب الله، وقال جابر بن عبد الله في المكاتب شروطهم بينهم وقال ابن عمر رضي الله عنه أو عمر رضي الله عنه كل شرط خالف كتاب الله فهو باطل وإن اشترط مائة شرط قال أبوعبد الله: ويقال عن كليهما عن عمر وابن عمر. حدثنا علي بن عبد الله حدثنا سفيان عن يحيى عن عمرة عن عائشة رضي الله عنها قالت: أتتها بريرة تسألها في كتابتها فقالت: إن شئت أعطيت أهلك ويكون الولاء لي، فلما جاء رسول الله ﷺ ذكرته ذلك قال النبي ﷺ: ابتاعيها فأعتقيها فإنما الولاء لمن أعتق ثم قام رسول الله ﷺ على المنبر فقال: ما بال أقوام يشترطون شروطاً ليست في كتاب الله من اشترط شرطاً ليس في كتاب الله فليس له وإن اشترط مائة شرط. (صحيح البخاري: ۱/۱۸۳/۲۷۳۵).

بخاری شریف کی دوسری حدیث میں ہے:

عن عقبة بن عامر رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: أحق الشروط أن توفوا به ما استحللتم به الفروج. (رقم: ۲۷۲۱، باب الشروط في المهر).

عمدۃ القاری میں مرقوم ہے:

والمراد بالشروط التي هي أحق بالوفاء هل هو عام في الشروط كلها أو الشروط المباحة أو ما يتعلق بالنكاح من المهر والنحلة والعدة أو المراد وجوب المهر فقط، ولا شك في أن الشروط التي لا تجوز خارجة عن هذا وأنها لا يوفي بها وكذلك الشروط التي تنافي موجب العقد كاشتراط أن يطلقها أو أن لا ينفق عليها أو نحو ذلك. (عمدة القاري: ۹/٦۲۰، دار الحديث، ملتان).
البحر الرائق
میں مذکور ہے:

لو اختلعت على أن تترك ولدها عند الزوج فالخلع جائز والشرط باطل لأن هذا حق الولد أن يكون عند أمه ما كان إليها محتاجاً، زاد في المبسوط: فليس لها أن تبطله بالشرط. (البحر الرائق: ٤/۱۸۰، دار المعرفة). (وكذا في الدر المختار: ۳/۵٦٦، سعيد، وفتح القدير: ٤/۳٦۸، دار الفكر، وتبيين الحقائق: ۳/٤۸، ط: إمداديه، والفتاوى التاتارخانية: ٤/۹۰، وفتح باب العناية: ۳/۹۹، وجديد فقهي مسائل: ۳/۳۳).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.