طلاق کے مطالبہ پر I divorce youلکھنے سے طلاق کا حکم:
Question
بیوی نے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کیا، شوہر نے بیوی کے اِس مطالبہ کرنے پر تحریری میسیج (message) بھیجا I divorce you کیا اِس تحریری میسیج سے طلاق واقع ہو گئی یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
اپنی رضامندی سے تحریری طلاق خود لکھنے یا دوسرے سے لکھوانے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے، اگر چہ زبان سے کچھ نہ کہا ہو؛ اس لیے کہ وقوعِ طلاق کے لیے تکلم شرط نہیں ہے، لہذا بصورتِ مسئولہ مذکورہ میسیج سے ایک طلاقِ رجعی واقع ہو گئی ۔ دلائل ملاحظہ ہو :
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع
میں ہے:
وكذا التكلم بالطلاق ليس بشرط فيقع الطلاق بالكتابة المستبينة وبالإشارة المفهومة من الأخرس؛ لأن الكتابة المستبينة تقوم مقام اللفظ والإشارة المفهومة تقوم مقام اللفظ. (بدائع الصنائع: ۳/۱۰۰).
درر الحكام شرح مجلة الأحكام
میں ہے:
الكتاب كالخطاب
والحاصل أن كل كتاب يحرر على الوجه المتعارف من الناس حجة على كاتبه كالنطق باللسان. (درر الحكام شرح مجلة الأحكام: المادة ٦۹: ۱/٦۲).
در مختار مع رد المحتار میں ہے:
كتب الطلاق وإن مستبيناً على نحو لوح وقع إن نوى، وقيل مطلقاً، ولو على نحو الماء فلا مطلقاً، ولو كتب على وجه الرسالة والخطاب، كأن يكتب يا فلانة: إذا أتاك كتابي هذا فأنت طالق طلقت بوصول الكتاب جوهرة، وفي الشامية: (قوله كتب الطلاق الخ) قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدراً ومعنوناً مثل ما يكتب إلى الغائب، وغير المرسومة أن لا يكون مصدراً معنوناً، وهو على وجهين: مستبينة وغير مستبينة، فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته، وغير المستبينة ما يكتب علي الهواء والماء وشيء لا يمكنه فهمه وقراءته، ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى، وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق وإلا لا، وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة، وإن علق طلاقها بمجيء الكتاب بأن كتب: إذا جاء ك كتابي فأنت طالق فجاء ها الكتاب فقرأته أو لم تقرأ يقع الطلاق كذا في الخلاصة، (الدر المختار مع رد المحتار: ۳/۲٤٦)
باب الصريح (صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) ولو بالفارسية، وفي الشامية، (قوله ولو بالفارسية) فما لا يستعمل فيها إلا في الطلاق فهو صريح يقع بلا نية، وما استعمل فيها استعمل الطلاق وغيره فحكمه حكم كنايات العربية في جميع الأحكام بحر. (۳/۲٤۷)
جدید فقہی مسائل میں ہے:
غیر عربی لفظوں سے نکاح و طلاق: شریعت کا اصول یہ ہے کہ جو امور ذکر سے متعلق ہیں ان میں الفاظ و معانی دونوں ہی مقصود ہو تے ہیں ۔ مثلاً قرآن مجید، نماز وغیرہ جس میں تلاوت قرآن اور بعض اذکار واجب ہیں ۔ اگر ان میں اس کی بجائے اس کا ترجمہ پڑھ دیا جائے تو صحیح تر قول کے مطابق درست نہ ہوگا ۔ لیکن عام گفتگو اور معاملات میں عربی کے الفاظ کی کوئی خصوصیت نہیں ہے جیسے خریدنا، بیچنا، ہبہ کرنا وغیرہ ۔
نکاح و طلاق بھی ان ہی معاملات میں ہے ۔ وہ تمام الفاظ جن سے کسی بھی زبان میں نکاح و طلاق کا مفہوم واضح ہو جاتا ہے ۔ نکاح ہو جانے اور طلاق واقع ہونے کے لیے کافی ہوں گے ۔ طلاق کے لیے کسی دوسری زبان کا ایسا لفظ استعمال کیا جائے جو خاص اسی مفہوم کو ادا کرتا ہو اور اس کو بولنے کے بعد کسی اور طرف ذہن جاتا ہی نہ ہو تو اس سے طلاق رجعی واقع ہو گی یعنی اس طلاق کے بعد بیوی کو لوٹا لینے کا حق باقی رہے گا ۔ (جدید فقہی مسائل: ۱/۲۸۹) ۔ و (فتاوی دار العلوم زکریا: ٤/۱۷٤) ۔
مجموعہ قوانین اسلامی میں ہے:
تحریری طلاق: تحریری طلاق کی چند صورتیں ہیں: کتابت مستبینہ: یعنی کسی کاغذ، دیوار وغیرہ پر ایسی تحریر جو واضح ہو اور باقی رہنے والی ہو ۔ اس کی دو قسمیں ہیں: (۱) مستبینہ مرسومہ (۲) مستبینہ غیر مرسومہ
اگر باضابطہ نامہ یا مکتوب عنوان اور مخاطب کے ساتھ لکھا گیا ہو تو اسے کتابت مستبینہ مرسومہ کہتے ہیں، اور اگر یوں ہی کسی کاغذ کے ٹکڑے یا دیوار پر بیوی کی طرف اضافت کے بغیر صرف یہ لکھے کہ طلاق ہے یا طلاق دی، اور یہ تحریر بیوی کو نہ بھیجے تو کتابت مستبینہ غیر مرسومہ ہے ۔
کتابت مستبینہ مرسومہ تلفظ کے قائم مقام ہے، اس سے طلاق واقع ہو جاتی ہے ۔ کتابت مستبینہ غیر مرسومہ سے طلاق ایسی صورت میں واقع ہو گی جب کہ شوہر کہے کہ میری نیت بیوی کو طلاق دینے کی تھی ۔
کتابت غیر مستبینہ: جو تحریر ظاہر نہ ہو اور پڑھنے میں نہ آئے، جیسے پانی اور ہوا پر لکھنا، اس سے کسی حال میں طلاق واقع نہیں ہو گی ۔ (مجموعہ قوانین اسلامی، ص: ۱۲۹) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3624
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3624