چندہ میں مدد کرنے والے کو چندہ کی رقم سے انعام دینے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 9 #373Urdu

Question

مدرسہ میں چندہ وغیرہ میں مدد کرنے والے شخص کو مدرسہ کی مد سے ہدیہ دینا کیسا ہے؟ یعنی کسی گاؤں میں چندہ کے لیے جائے اور وہاں کوئی پہچان والا شخص مدرسہ کے سفیر کو ساتھ لے کر چندہ کرا دے تو چندہ میں سے اس کو کچھ ہدیہ دینا جائز ہے یا نہیں؟ تاکہ آئندہ کے لیے ترغیب ہو اور چندہ میں مدد مل جائے ۔

Answer

مدرسہ کی رقم اپنی ذاتی ملک نہیں، ہدیہ اور تحفہ اپنی ذاتی ملکیت سے دیا جاتا ہے، ہاں جو حضرات مدرسہ کے معاون ہیں اور چندہ کے حصول میں مدد کرتے ہیں تو ان کو بطورِ ہدیہ کچھ دینے کی گنجائش ہے ۔

قال في الشامية: والحاصل أن الوجه يقتضي أن ما كان قريباً من العمارة يلحق بها في التقديم علي بقية المستحقين

فيقدم أولاً العمارة الضرورية ثم الأهم فالأهم من المصالح والشعائر بقدر ما يقوم به الحال فإن فضل شيء يعطي لبقية المستحقين إذ لا شك أن مراد الواقف انتظام حال مسجد ه أو مدرسته لا مجرد انتفاع أهل الوقف

إنما هو فيما إذا لم يكن الوقف معيناً على جماعة معلومين كالمسجد والمدرسة إما لو كان معيناً كالدار الموقوفة على الذرية أو الفقراء فإنه بعد العمارة يصرف الريع إلى ما عينه الواقف بلا تقديم لا حد على أحد، فاغتنم هذا التحرير. (فتاوى الشامي: ٤/۳٦۸، سعيد).
وقال أيضا: لكن أفتي في الخيرية: بأنه إذا كان في ريع الوقف عوائد قديمة معهودة يتناولها الناظر بسعيه له طلبها لقول الأشباه عن إجارات الظهيرية والمعروف عرفاً كالمشروط شرطاً فهو صريح في استحقاقه ما جرت به العادة. (فتاوى الشامي: ٤/٤۵۰، سعيد).

ملاحظہ ہو فتاوی محمودیہ میں ہے:
اگر چندہ دہندگان نے مصرف کی تعیین کر دی ہے تو اسی مصرف پر چندہ صرف کیا جائے گا، اس کے خلاف نہ کیا جائے اگر مصرف کی تعیین نہیں کی، بلکہ مہتمم کو مصالح مدرسہ میں صرف کرنے کا کلی اختیار دے دیا ہے تو پھر ہر مصلحت میں صرف کرنا درست ہے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۵/٤٦٦، جامعہ فاروقیہ) ۔
امداد الفتاوی میں مذکور ہے: سوال کا ماحصل یہ ہے کہ ایک تختہ پر مدرسہ کا نام لکھ معلق کیا ہے، بعض کی رائے یہ ہے اس کا خرچہ مدرسہ کے مال سے نہیں دینا چاہیے، کیوں کہ یہ کام مدرسہ کا نہیں ہے؟
فقہاء نے ایک قاعدہ لکھا ہے کہ مسجد کا نقش و نگار مالِ وقف سے جائز نہیں لیکن استحکام جائز ہے پس اسی نظیر پر صورتِ مسئولہ کا حکم یہ ہے کہ اگر اس تختہ کی تعلیق سے مدرسہ کو کوئی بین نفع ہو تو مالِ مدرسہ کا لگانا اس میں جائز ہے اور اگر کوئی معتدبہ مصلحت نہیں ہے محض احتمال ہی کا درجہ ہے تو اپنے پاس سے اس کے دام دینا چاہیے ۔ (امداد الفتاوی: ۲/۵۹٤، ط: کراچی) ۔
مزید ملاحظہ ہو : (فتاوی رحیمیہ: ۵/۱۵۲، مکتبہ احسان دیوبند، و فتاوی قاسمیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.