گوسٹ رائیٹنگ (Ghost Writing) کا پیشہ اختیار کرنے کا حکم:

6 min readFatwa Vol 9 #399Urdu

Question

کیا گوسٹ رائیٹنگ کا پیشہ اختیار کرنا جائز ہے یا نہیں؟ نیز گوسٹ رائیٹنگ سے کمایا ہوا مال حلال ہو گا یا نہیں؟ گوسٹ رائیٹنگ کا مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی اپنی کاریگری اور ہنر مندی اور تجربہ کاری سے کہانیاں وغیرہ کی کتابیں لکھتا ہے، پھر معاہدہ کے تحت کوئی اور کمپنی اپنے نام سے شائع کرتی ہے اور اس کتاب نویس کو اس کی اجرت ادا کر دیتی ہے، اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اصل مؤلف کو اس کی شہرت نہ ملے۔

Answer

یہاں دو مسئلے علیحدہ ہیں: ۱۔ ایسی کہانیاں یا کتابیں لکھنا جن میں محاسن اخلاق اور سبق آموز واقعات اور معاشرے کی اصلاح کے تعلق سے مضامین شامل ہوں جائز اور درست ہے۔ ہاں مخربِ اخلاق، فحش اور گندے مضامین اور عریانیت کو پھیلانے والی باتیں ہوں تو اس کا لکھنا اور شائع کرنا جائز نہیں ہے۔
۲۔ تنخواہ اور اجرت لینے سے متعلق شرعی حکم یہ ہے کہ جن مضامین کا لکھنا درست ہے ان کی اجرت بھی جائز ہے اور جن مضامین کا لکھنا جائز نہیں ہے ان کی اجرت بھی ناجائز ہے۔ خلاصہ یہ ہو گا کہ گوسٹ رائیٹنگ کا حکم اور اس کی اجرت کا حکم مضامین کے اوپر مرتب ہو گا، یعنی اگر مضامین درست ہوں تو جواز کا حکم ہو گا ورنہ عدمِ جواز کا حکم لاگو ہو گا۔ لیکن اگر ایسے مضامین ہیں جن کا دینی یا دنیوی کوئی فائدہ نہیں تو یہ لا یعنی میں داخل ہو گا اور اس سے بچنا بہتر ہو گا۔ ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:

عن علي بن حسين قال: قال رسول الله ﷺ: إن من حسن إسلام المرء تركه ما لا يعنيه. (سنن الترمذي، رقم: ۲۳۱۸).
أخرج أبو يعلى في مسنده: عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه، أن رسول الله ﷺ قال: حدثوا عني ولا حرج حدثوا عني ولا تكذبوا علي ومن كذب علي متعمداً فقد تبوأ مقعده من النار وحدثوا عن بني إسرائيل ولا حرج. (مسند أبي يعلي، رقم: ۱۲۰۹).
وفي تعليقاته لحسين سليم أسد: إسناده صحيح.
قال في الدر المختار: وحديث حدثوا عن بني إسرائيل يفيد حل سماع الأعاجيب والغرائب من كل ما لا يتيقن كذبه بقصد الفرجة لا الحجة بل وما يتيقن كذبه لكن بقصد ضرب الأمثال والمواعظ وتعليم نحو الشجاعة على ألسنة آدميين أو حيوانات ذكره ابن حجر. وفي الشامية: وفي لفظ لا حمد بن منيع عن جابر رضي الله عنه: حدثوا عن بني إسرائيل فإنه كان فيهم أعاجيب

فرق عليه الصلاة والسلام بين الحديث عنه والحديث عنهم. قوله بقصد الفرجة لا الحجة، الفرجة مثلثة التفصي عن الهمّ، قوله: لكن بقصد ضرب الأمثال، وذلك مقامات الحريري فإن الظاهر أن الحكايات التي فيها عن الحارث بن همام والسروجي لا أصل لها وإنما أتي بها علي هذا السياق العجيب لما لا يخفى على من يطالعها وهل يدخل في ذلك مثل قصة عنترة والملك الظاهر وغيرهما. (الدر المختار مع رد المحتار: ٦/٤۰۵، سعيد).

معارف القرآن میں مذکور ہے:
اس زمانہ میں بیشتر نوجوان فحش ناول یا جرائم پیشہ لوگوں کے حالات پر مشتمل قصے یا فحش اشعار دیکھنے کے عادی ہیں، یہ سب چیزیں اسی قسم لہو حرام میں داخل ہیں، اسی طرح گمراہ اہل باطل کے خیالات کا مطالعہ بھی عوام کے لیے گمراہی کا سبب ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے، راسخ العلم علماء ان کے جوابات کے لیے دیکھیں تو کوئی مضائقہ نہیں ۔ (معارف القرآن: ۷/۲۳) ۔
حلال و حرام میں مولانا خالد سیف اللہ صاحب لکھتے ہیں:
اگر یہ مفروضہ کہانیاں عبرت آموز اور نصیحت خیز ہوں، صالح مقصد کی حامل ہوں اور تعمیری ہوں تو نہ صرف جائز بلکہ بہترین ہیں، لیکن اگر ان کا مقصد سفلی جذبات کو برانگیختہ کرنا اور اخلاقی انارکی پیدا کرنا ہو تو ظاہر ہے کہ سخت گناہ اور ناجائز ہیں۔ (حلال و حرام، ص ۲۳٤) ۔
ناجائز فعل کی اجرت بھی ناجائز ہے؛ چنانچہ فحش ناول قصہ کہانی کی کتاب اجرت پر دینا اور اجرت لینا جائز نہیں ہے۔ ملاحظہ ہو: جدید معاملات کے شرعی احکامیں مرقوم ہے:
بعض لوگ دکان میں مختلف قسم کے فحش ناول قصہ کہانی کی کتابیں رکھتے ہیں ان کو کرایہ پر دے کر آمدنی حاصل کرتے ہیں، اولاً تو فحش تصاویر والے لیٹریچر اسی طرح ناول، جرائم پیشہ لوگوں کے حالات پر مشتمل قصے یا فحش اشعار وغیرہ اسی طرح اہل باطل کے خیالات کا مطالعہ کرنا بھی عوام کے لیے گمراہی کا سبب ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے، اس کے لیے کتب فراہم کرنا یہ ناجائز کام میں تعاون ہونے کی وجہ سے گناہ کا کام ہے۔ (۱/۲۲۹) ۔
دوسری جگہ مرقوم ہے:
معقود علیہ عین معصیت ہو جیسے ناچ، گانا بجانا، زنا، چوری، جعل سازی، چغل خوری، تعزیہ بنانا، بت سازی، تصویر سازی، شراب کشی، شرک و کفر اور حرام کاموں کی ترویج اور بدعات و فسق و فجور، یہ اجارہ بالاتفاق ناجائز اور حرام ہے۔ ان گناہ کے کاموں کی انجام دہی سے جو اجرت یا نفع حاصل ہوا وہ ملک خبیث ہے بلا نیت ثواب صدقہ کر دینا واجب ہے ۔ (جدید معاملات کے شرعی احکام، جلد اول، ص ۲۰٤، و ص ۱۱۰) ۔
آپ کے مسائل اور ان کا حل میں مرقوم ہے: حرام کام کی اجرت بھی حرام ہے۔ (٦/٤۰) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.