کلب کارڈ حاصل کرنے اور اس سے فائدہ اُٹھانے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 9 #405Urdu

Question

کیا کلب کارڈ حاصل کرنا اور اس سے فائدہ اُٹھانا جائز ہے یا نہیں؟ کلب کارڈ بھی پوئنٹ کارڈ کی طرح ہوتا ہے جو ایک خاص دکان کلکس سے حاصل کیا جاتا ہے اور اس دکان سے خریداری پر پوئنٹ ملتے ہیں، برائے مہربانی حکمِ شرعی سے مطلع فرما کر اجر عظیم کے مستحق ہوں؟

Answer

کلب کارڈ حاصل کرنا اور اس سے فائدہ اُٹھانا جائز اور درست ہے، اور یہ تبرعِ مشروط کے حکم میں ہے، یعنی دکان دار نے ہدیہ میں خریداری کی شرط لگائی اور یہ جائز ہے جب کہ سامان عام قیمت میں فروخت ہوتا ہو اور ہدیہ کی وجہ سے زیادہ قیمت نہ لی جاتی ہو۔ تبرعِ مشروط کے چند دلائل ما قبل میں مذکور ہوئے ۔ کچھ مزید ملاحظہ ہو: امداد الاحکام میں ہے:
پس ارشاد ہوا کہ معاہدہ مذکور کے خریدار کو سال بھر برابر چالومار کو مال خریدتے رہنے کی حالت میں دو تین روپیہ سیکڑہ مثلاً سال کے تمام پر رعایت دی جائے اور دورانِ سال دوسری جگہ ایک مرتبہ بھی خریدنے میں بالکل کچھ نہ دیا جائے شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
الجواب: یہ معاہدہ جائز ہے کیوں کہ خریدار کو سال تمام پر کمیشن پر سیکڑہ پر دیا جاتا ہے وہ بائع کی طرف سے تبرع ہے خریدار کا حق لازم نہیں، اور تبرع کو کسی شرط سے مشروط کرنا جائز ہے۔ (امداد الاحکام: ۳/ ٦۰٦) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.