مدرس کا درس کے علاوہ خارجی اوقات میں اپنے طلبہ کو اجرت پر ٹیوشن دینے کا حکم:

4 min readFatwa Vol 9 #436Urdu

Question

ایک اسلامی اسکول کے اساتذہ خارجی اوقات میں اپنے طلبہ کو اجرت لے کر ٹیوشن دیتے ہیں، انتظامیہ کو اس پر اشکال ہے اور بعض ممبران یہ قانون بنانا چاہتے ہیں کہ اگر اپنے طلبہ کو ٹیوشن دے تو اجرت نہیں لے سکتے، اب سوال یہ ہے کہ کیا کسی ادارے میں تعلیم دینا اور پھر اپنی کلاس کے بعض طلبہ کو خارج اوقات میں اجرت لے کر پرائیویٹ ٹیوشن دینا جائز ہے یا نہیں؟ نیز ایسا قانون بنانا جائز ہو گا یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ اگر اساتذہ پرائیویٹ ٹیوشن کی وجہ سے مدرسہ کے اوقات میں بچوں پر زیادہ توجہ نہیں دیتے تو یہ اپنے منصب میں خیانت ہے اور
تخونوا أماناتكم[الأنفال: ۲۷]
میں شامل ہو گا، اور اگر اساتذہ اوقاتِ درس میں پوری توجہ اور امانت داری سے پڑھاتے ہوں لیکن بعض طلبہ مزید نمبرات حاصل کرنے کی غرض سے ٹیوشن لیتے ہوں تو اس کی گنجائش ہے، اور یہ قانون بنانا کہ اوقاتِ درس کے علاوہ نہیں پڑھا سکتے، صحیح نہیں، الا یہ کہ خارج میں پڑھانے کی وجہ سے مدرس اوقاتِ درس میں تقصیر کرتا ہو یا اتنا تھک جاتا ہو کہ تعلیم دینا اس کے لیے مشکل ہو ۔
کیونکہ اساتذہ اجیر خاص کے حکم میں ہیں اور اجیر خاص اپنے استراحت کے اوقات میں دیگر غیر ضروری مصروفیات میں تھک کر اپنے فرائض منصبی میں کوتاہی کرے تو یہ خیانت میں شامل ہو گا ۔ شرعاً اس کی اجازت نہیں ۔ ملاحظہ ہو شرح مجلہ میں مرقوم ہے:

لو استأجر أستاذ لتعليم علم أو صنعة وسميت الأجرة فإن ذكرت انعقدت الإجارة صحيحة علي المدة حتى أن الأستاذ يستحق الأجرة بكونه حاضراً ومهيئاً للتعليم تعلم التلميذ أو لم يتعلم

لأنه لما انعقدت الإجارة صحيحة بتعيين الأجر والمدة استحق الأستاذ الأجرة لمجرد تسليمه نفسه للتعليم

لكونه أجيراً خاصاً

أن الأجير الخاص يستحق الأجرة إذا كان في مدة الإجارة حاضراً للعمل ولا يشترط عمله بالفعل. (شرح المجلة لسليم رستم باز: ۱/۳۰۵، المادة: ۵٦۸).
لو استأجر أستاذ لتعليم علم أو صنعة وسميت الأجرة فإن ذكرت انعقدت الإجارة صحيحة علي المدة حتى أن الأستاذ يستحق الأجرة بكونه حاضراً ومهيئاً للتعليم تعلم التلميذ أو لم يتعلم

لأنه لما انعقدت الإجارة صحيحة بتعيين الأجر والمدة استحق الأستاذ الأجرة لمجرد تسليمه نفسه للتعليم

لكونه أجيراً خاصاً

أن الأجير الخاص يستحق الأجرة إذا كان في مدة الإجارة حاضراً للعمل ولا يشترط عمله بالفعل. (شرح المجلة لسليم رستم باز: ۱/۳۰۵، المادة: ۵٦۸).
قال في الدر المختار: والثاني وهو الأجير الخاص ويسمي أجير وحد وهو من يعمل لواحد عملاً موقتاً بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استوجر شهراً للخدمة. (الدر المختار: ٦/٦۹، سعيد، ومثله في الهداية: ۳/۳۱۰).

فتاوی محمودیہ میں ہے:
جب مدرس کے لیے اوقات متعین کر دیے گئے ہیں تو ان اوقات میں وہ اجیر خاص ہیں، ان اوقات میں اس کو دوسرا کام اجارہ پر کرنا جائز نہیں ۔ (فتاوی محمودیہ:) ۔
آپ کے مسائل اور ان کا حل میں مذکور ہے:
آج کل ملک میں جو عام وبا پھیلی ہوئی ہے کہ اکثر اساتذہ اسکول و کالجوں کے ٹیوشن پڑھاتے ہیں گورنمنٹ سے بھی تنخواہ لیتے ہیں اور بچوں سے فیس بھی جن کو ٹیوشن پڑھاتے ہیں ٹیوشن لینا جائز ہے مگر تعلیم گاہ میں بچوں پر توجہ نہ کرنا گناہ ہے ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل: ۷/۲۳۵) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.