مدرس کو اجرت کے ساتھ اجر و ثواب کی امید رکھنے کا حکم:
Question
اگر معلم اجرت لیتا ہے اور اوقات کی پابندی کرتا ہے بلکہ زیادہ وقت دیتا ہے اور خوب دل و جان سے محنت سے کام کرتا ہے تو کیا اجرت کے ساتھ اس کو اجر و ثواب ملے گا یا نہیں؟ کیا تنخواہ لینا ثواب کے منافی تو نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ متاخرین احناف نے ضرورت کی وجہ سے تدریس پر اجرت اور تنخواہ لینے کو جائز قرار دیا ہے لہٰذا اگر مدرس ضروریاتِ زندگی کے گزر بسر کے لیے تنخواہ لے اور اجر و ثواب اور خدمتِ دین کی نیت کرے، اور پوری امانت داری کے ساتھ کام کرے، ایسا نہ ہو کہ جہاں تنخواہ زیادہ ملے وہاں دوڑ کر چلا جائے تو اس میں ثواب کی امید ہے ۔ مسلمانوں کے بچوں کو دیندار بنانا اور دین اور شریعت کا علم دینا، حلال و حرام کی تمیز بتانا، یہ دین ہی ہے ۔ احادیث سے چند دلائل اور شواہد ملاحظہ فرمائیں:
۱ ۔
إن عائشة رضي الله عنها قالت: لما استخلف أبوبكر الصديق رضي الله عنه قال: لقد علم قومي أن حرفتي لم تكن تعجز عن مؤونة أهلي وشغلت بأمر المسلمين فسيأكل آل أبي بكر من هذا المال ويحترف للمسلمين فيه. (رواه البخاري: ۲/۷۲۹).
ترجمہ: ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ خلیفہ بنائے گئے تو آپ نے فرمایا کہ میری قوم جانتی ہے کہ میرا پیشہ میرے اہل و عیال کے لیے نا کافی نہ تھا اور اب میں مسلمانوں کے کام میں مشغول ہو گیا ہوں تو آل ابی بکر اس مال سے کھائیں گے اور ابوبکر مسلمانوں کے کام کی نگہبانی کرے گا ۔
۲ ۔ مسند احمد میں روایت ہے:
عن عبد الله بن زيد الأزرق قال: كان عقبة بن عامر الجهني رضي الله عنه يخرج فيرمي كل يوم وكان يستتبعه فكأنه كاد أن يمل فقال: ألا أخبرك بما سمعت من رسول الله ﷺ قال: بلي قال: سمعته يقول إن الله عزوجل يدخل بالسهم الواحد ثلاثة نفر الجنة؛ صاحبه الذي يحتسب في صنعته الخير والذي يجهز به في سبيل الله والذي يرمي به في سبيل الله وقال: ارموا واركبوا وأن ترموا خير من أن تركبوا وقال: كل شيء يلهو به ابن آدم فهو باطل إلا ثلاثاً رمية عن قوسه وتأديبه فرسه وملاعبته أهله فإنهن من الحق. (مسند احمد، رقم: ۱۷۳۳۷).
اس روایت سے معلوم ہوا کہ تیر بنانے والا حسن نیت کی وجہ سے جنت کا مستحق ہو گا اگر چہ عموماً تیر بیچنے کے لیے بناتے ہیں ۔
۳ ۔ ترمذی شریف میں ہے:
عن أبي سعيد رضي الله عنه عن النبي ﷺ، قال: التاجر الصدوق الأمين مع النبيين والصديقين والشهداء، قال أبو عيسى: هذا حديث حسن. (رواه الترمذي: ۱/۵۳۱).
اس روایت سے معلوم ہوا کہ جس تاجر کے پیش نظر سچائی، امانت داری اور مخلوق کی خدمت ہو تو اس کو اجر و ثواب ملتا ہے، تو معلّم جو دین کا علم سکھاتا ہو اور دنیا کو مقصد نہ بناتا ہو تو اس کو بھی ثواب ملتا ہے ۔
٤ ۔ مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:
قال عمر رضي الله عنه: إني أنزلت نفسي من مال الله منزلة مال اليتيم، إن استغنيت عنه استعففت، وإن افقرت أكلت بالمعروف. (مصنف ابن أبي شيبة: ۱۷/ ۳۲٤).
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: میں اللہ تعالی کے مال پر مثل یتیم کے مال کے نگہبان ہوں جب مجھے ضرورت نہیں ہوتی تو لینے سے بچتا ہوں اور محتاج ہوتا ہوں تو دستور کے موافق لیتا ہوں ۔
معلوم ہوا کہ بہ وقتِ ضرورت وظیفہ لینے سے ثواب میں کمی نہیں آتی ۔
۵ ۔ تاریخ بغداد میں ہے:
عن الحسن رحمه الله أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه وعثمان بن عفان رضي الله عنه كانا يرزقان المؤذنين والأئمة والمعلمين والقضاة. (تاريخ بغداد: ۲/۸۱، ط: دار الكتب العملية).
حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہما مؤذن، ائمہ اور معلمین کو تنخواہ دیتے تھے، معلوم ہوا کہ ان کا تنخواہ لینا ثواب کے منافی نہیں تھا ۔
٦ ۔ بخاری شریف میں روایت ہے:
عن أبي موسي رضي الله عنه قال: جاء رجل إلى النبي ﷺ، فقال: الرجل يقاتل للمغنم، والرجل يقاتل للذكر، والرجل يقاتل ليري مكانه فمن في سبيل الله، قال: من قاتل لتكون كلمة الله هي العليا فهو في سبيل الله. (رواه البخاري: ٤/۲۰).
قال ابن أبي حمزة: ذهب المحققون إلى أنه إذا كان الباعث الأول قصد إعلاء كلمة الله لم يضره ما انضاف إليه، ويدل على أن دخول غير الإعلاء ضمناً لا يقدح في الإعلاء إذا كان الإعلاء هو الباعث الأصلي ما رواه أبو داود بإسناد حسن عن عبد الله بن حوالة قال: بعثنا رسول الله ﷺ على أقدامنا لنغنم فرجعنا ولم نغنم شيئاً، فقال: اللهم لا تكلهم إلى. (فتح الباري: ٦/۲۸).
اس روایت اور اس کی تشریح سے معلوم ہوا کہ جہاد میں اعلاء کلمۃ اللہ کے ساتھ مالِ غنیمت حاصل کرنے کی نیت ہو تب بھی ثواب ملے گا جب کہ فقط دنیا کمانا مقصودِ اصلی نہ ہو ۔
علامہ شامی رحمه الله شفاء العلیل و بل الغلیل میں رقم طراز ہیں:
فإن عمل الآخرة نوعان: الأول: ما يكون قربة مقصودة بالذات كالصلاة والصوم والتلاوة والتسبيح والحج ونحوها فلا يجوز أخذ الأجرة عليه لأنه ما شرع إلا بوصف العبادة والخلوص لله تعالى وإرادة الدنيا به قلب الموضوع والثاني: ما يكون وسيلة وآلة للنوع الأول كالتعليم والإمامة ونحوها ولا خلاف أنه إذا وجد النية فيه لله تعالى يكون قربة يثاب عليها وإلا لا ولكن يبقي كونه وسيلة وآلة. (مجموعة رسائل ابن عابدين: ۱/۱۷۸).
فتاوی الشامی میں مذکور ہے:
أقول: لا يلزم من حل الأجرة المعلل بالضرورة حصول الثواب ولا سيما إذا كان لولا الأجرة لا يؤذن فإنه يكون عمله للدنيا وهو رياء لأنه لم يحتسب عمله لوجه الله تعالى فهو كمهاجر أم قيس وإذا كان الجاهل المحتسب لا ينال ذلك الأجر فهذا بالأولي كيف وقد ورد في عدة أحاديث التقييد بالمحتسب منها ما رواه الطبراني في الكبير كما في الفتح ثلاثة على كثبان المسك يوم القيمة لا يهولهم الفزع الأكبر ولا يفزعون حين يفزع الناس رجل علم القرآن فقام به يطلب وجه الله وما عنده ومملوك لم يمنعه رق الدنيا عن طاعة ربه نعم قد يقال إن كان قصده وجه الله تعالى لكنه بمراعاته للأوقات والاشتغال به يقل اكتسابه عما يكفيه لنفسه وعياله فيأخذ الأجرة لئلا يمنعه الاكتساب عن إقامة هذه الوظيفة الشريفة ولولا ذلك لم يأخذ أجراً فله الثواب المذكور بل يكون جمع بين عبادتين وهما الأذان والسعي على العيال وإنما الأعمال بالنيات. (فتاوى الشامي: ۱/۳۹۲، سعيد).
امداد الاحکام میں مذکور ہے:
اگر یہ نیت رہے کہ اگر تجھ کو اس سے زیادہ کہیں روپیہ ملا تو میں اس کو چھوڑ کر اس کو اختیار کر لوں گا تب تو ثواب نہ ملے گا اور اس کو اجرتِ محضہ کہا، یہ نیت رہے کہ زیادہ کے لیے بھی اس کو نہ چھوڑوں گا تو ثواب ضائع نہ ہوگا اور اس کو اجرت نہ کہا جائے گا بلکہ نفقہ حبس و کفایت مثل رزق قاضی کہا جائے گا ۔ (امداد الاحکام: ۳/۳٤۰) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3712
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3712