ایزی پیسہ اکاؤنٹ میں پیسے رکھ کر فری منٹ استعمال کرنے کا حکم:
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام، پاکستان میں ایک سم کارڈ کی کمپنی ہے جس میں ایزی اکاؤنٹ کھولنے اور اس میں ۱۰۰۰ روپے سے زیادہ رقم جمع رکھنے پر ماہانہ ۵۰ منٹ فری ملتے ہیں، اس کا کوئی معاوضہ نہیں ہوتا، یعنی ۱۰۰۰ روپے میں سے کوئی ایک پیسہ بھی نہیں کٹتا؟ تو کیا ۵۰ فری منٹ کا استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟ کیا یہ کمپنی کی طرف سے انعام میں شامل ہے یا پھر سود میں داخل ہو کر نا جائز ہوگا؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ ایزی اکاؤنٹ میں ۱۰۰۰ روپے جمع کرنے کے عوض ۵۰ فری منٹ استعمال کرنے کے لیے دئیے جاتے ہیں، تو یہ
"كل قرض جر نفعاً فهو ربا "
کے زمرہ میں شامل ہونے کی وجہ سے اس کا استعمال ناجائز ہے، ایسا سودی اکاؤنٹ کھولنے سے اجتناب کرنا چاہیے، عام سادہ سم والا اکاؤنٹ استعمال کرنا چاہیے ۔ ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں مذکور ہے:
قوله: كل قرض جر نفعاً فهو حرام، أي إذا كان مشروطاً كما علم مما نقله عن البحر وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطاً في القرض فعلي قول الكرخي لا بأس به. (فتاوى الشامي: ۵/۱٦٦، سعيد).
اعلاء السنن میں مذکور ہے:
باب كل قرض جر نفعاً فهو ربا، قال ابن أبي موسي: ولو أقرضه قرضاً ثم استعمله عملاً لم يكن ليستعمله مثله قبل القرض كان قرضاً جر منفعة، ولو استضاف غريمه، ولم تكن العادة جرت بينهما بذلك حسب له ما أكله، لما روى ابن ماجه في سننه عن أنس رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: إذا أقرض أحدكم قرضاً، فأهدي له أو حمله على الدابة، فلا يركبها ولا يقبله إلا أن يكون جري بينه وبينه قبل ذلك. قال الشيخ شعيب الأرناؤوط: إسناده ضعيف، عتبة بن حميد الضبي ضعيف ويحيي بن أبي إسحاق الهنائي، ويقال يزيد بن أبي إسحاق، ويقال: يزيد بن أبي يحيى، مجهول.
قال: وهذا كله في مدة القرض، فأما بعد الوفاء فهو كالزيادة من غير شروط، وحكمه أنه إذا أقرضه مطلقاً من غير شرط فقضاه خيراً منه في القدر أو الصفة أو دونه برضاهما جاز. (إعلاء السنن: ۱٤/۵۱۳، إدارة القرآن).
آپ کے مسائل اور ان کا حل میں ہے:
اگر وہ قرض کی وجہ سے کھلاتا ہے تو جائز نہیں اور اگر قرض سے پہلے دونوں جانب سے کھانے اور کھلانے کی عادت تھی تو جائز ہے، اس کے باوجود اگر احتیاط سے کام لیا جائے تو بہتر ہے ۔ (آپ کے مسائل: ۷/۱۹٤) ۔
ماہنامہ الفاروق میں دار الافتاء جامعہ فاروقیہ سے اسی قسم کا ایک مسئلہ شائع ہوا ہے، ملاحظہ ہو :
جواب: سم کارڈ پر بنائے گئے اکاؤنٹ میں پیسے جمع کرنے سے کمپنی کی طرف سے جو فری منٹ ملتے ہیں وہ قرض پر نفع ہے، لہٰذا اس کا استعمال ناجائز اور حرام ہے، البتہ نفس اکاؤنٹ کے استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ (ماہنامہ: الفاروق، جمادی الاولی، ۱٤۳۹ ھ، ص ۳۵) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3719
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3719