غیر مسلم کمپنی کی تیار کردہ اشیائے خوردنی فروخت کرنے کا حکم:

6 min readFatwa Vol 9 #456Urdu

Question

جنوبی افریقہ میں نیستافوڈ (NESTA FOODS) نامی ایک کمپنی ہے جو پلونی (POLONY)، ورس (WORS) وغیرہ اشیائے خوردنی بناتی ہے، کمپنی کسی غیر مسلم کی ہے اور اس کے کوئی حلال سرٹیفیکٹ وغیرہ بھی نہیں ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ ایک آدمی کی دکان دیہات میں ہے جس کی اکثریت غیر مسلم ہے، تو کیا وہاں غیر مسلموں کو ایسی اشیاء فروخت کرنا جائز ہوگا یا نہیں؟

Answer

خنزیر کے سوا تمام جانور چاہے ماکول اللحم ہوں یا غیر ماکول اللحم باقاعدہ ذبح کر دینے سے ان کا گوشت پاک ہو جاتا ہے، اور اس کی بیع بھی درست ہے اور کمائی حلال ہے ۔ لیکن اگر یہ اشیاء مردار سے بنائی جاتی ہو تو ان کا بیچنا جائز نہیں ہے ۔ ملاحظہ ہو علامہ عینی رحمه الله بنایہ شرح ہدایہ میں فرماتے ہیں:

(وكذلك يطهر لحمه) أي لحم ما ذكي حتى اذا صلي ومعه من لحم الثعلب المذبوح أو نحوه أكثر من قدر الدرهم جازت صلاته (هو الصحيح) أي الحكم بطهارة لحمه هو الصحيح، واحترز به عما قال في الأسرار وغيره أنه نجس قلت: قد اختلف أصحابنا في طهارة لحمه وشحمه، فقال الكرخي رحمه الله: كل حيوان يطهر جلده بالدباغ يطهر بالذكاة فهذا يدل على أنه يطهر شحمه ولحمه وسائر أجزاء ه، وقال بعض مشائخنا: يطهر جلده لا غير منهم نصر بن يحيى والفقيه أبو جعفر والأول أقرب إلى الصواب، وقال في المفيد هو الصحيح

(البناية في شرح الهداية: ۱/۳۷٦، ط: متكبه رشيديه كوئته).

فتاوی ہندیہ میں ہے:

وفي فتاوى أهل سمرقند: إذا ذبح كلبه وباع لحمه جاز، وكذا إذا ذبح حماراً وباع لحمه وهذا فصل اختلف المشايخ فيه بناء على اختلافهم في طهارة هذا اللحم بعد الذبح واختيار الصدر الشهيد علي طهارته

ويجوز بيع لحوم السباع والحمر المذبوحة في الرواية الصحيحة، ولا يجوز بيع لحوم السباع الميتة كذا في محيط السرخسي رحمه الله. (الفتاوى الهندية: ۳/۱۱۵).

فتاوی شامی میں ہے:
قوله والسباع وكذا يجوز بيع لحمها بعد التذكية لا طعام الكلب أو سنور بخلاف لحم الخنزير لأنه لا يجوز إطعامه محيط. (فتاوى شامي: ۵/۲۲٦، سعيد).

حضرت حکیم الامت رحمه الله بہشتی زیور میں فرماتے ہیں:
مردہ ان حیوانات کی بیع درست ہے جو پاک ہیں، جیسے دریائی جانور یا حشرات غیر ذی دم یا ذی دم جانور بعد ذبح، کیوں کہ ذبح سے ہر جانور پاک ہو جاتا ہے سوائے سور کے ۔ (بہشتی زیور، نواں حصہ، ص ۱۰۳) ۔
دوسری جگہ رقم طراز ہیں:
سوائے خنزیر کے تمام وہ جانور جن میں دم سائل ہو خواہ ان کا گوشت کھانا حلال ہو یا حرام باقاعدہ ذبح کرنے سے سب پاک ہو جاتے ہیں، یعنی تمام اجزا ان کے گوشت، چربی، آنتیں، اوجھ، سنگدانہ، پتا، اعصاب سب طاہر ہو جاتے ہیں، سوائے خون کے یعنی دم مسفوح کے، نتیجہ یہ ہے کہ خارجی استعمال ان کا ہر طرح درست ہو جاتا ہے، جیسے سر پر باندھنا وغیرہ، ہاں کھانا درست نہیں سوائے حلال جانوروں کے ۔ (نواں حصہ، ص ۱۰۵) ۔
حضرت رحمه الله کی عبارت کا حاصل یہ ہے کہ خنزیر کے سوا تمام جانور ذبح سے پاک ہو جاتے ہیں اور ان کی بیع درست ہے، ہاں سوائے حلال جانوروں کے ان کا کھانا درست نہیں ۔
علامہ اکمل الدین بابرتی رحمه الله اور علامہ عینی رحمه الله نے قولِ مخالف کے جوابات بھی دیے ہیں، تفصیل کے لیے، ملاحظہ فرمائیں:
(شرح العناية على الهداية بهامش فتح القدير مع الفتح: ۱/۹۵. ۹٦، دار الفكر. والبناية في شرح الهداية: ۱/۲۳۳. وفتاوى شامي: ۱/۲۰۵، سعيد. ومجمع النهر شرح ملتقى الأبحر: ۱/٦۱، تحت الماء المستعمل. وحاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص ۱٦۹. وخلاصة الفتاوى: ۱/٤۳، أحكام الدباغة، والجوهرة النيرة: ۱/۱۷، ملتان. والفتاوى الولوالجية: ۱/٤٦، الفصل الثاني، بيروت. وإمداد الفتاح، ص ۱۷۰، بيروت).

یہاں پر مزید ایک بات قابل غور یہ ہے کہ کیا ذبح سے مراد شرعی ذبح ضروری ہے یا مجوسی وغیرہ کا ذبیحہ بھی پاک ہے، نیز غیر شرعی طریقہ پر ذبح کیا گیا اور دم مسفوح مکمل طور پر بہہ گیا تو گوشت پاک ہوا یا نہیں؟
اس مسئلہ میں بھی فقہاء کے دو قول ہیں اور دونوں کی تصحیح کی گئی ہے، چونکہ مسئلہ تجارت سے متعلق ہے اس وجہ سے بیع کی گنجائش ہو گی ۔ نیز اس کی نظیر سرطان ہے کہ غیر ماکول ہے اور اس کی بیع جائز ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں علامہ طحطاوی فرماتے ہیں:

قوله الشرعية، نقل في البحر من كتاب الطهارة عن الدراية والمجتبى والقنية أن ذبح المجوسي، وتارك التسمية عمداً يوجب الطهارة علي الأصح وإن لم يؤكل، وأفاد في التنوير أن اشتراط الذكاة الشرعية هو الأظهر وإن صحح المقابل. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص ۱٦۹، كتاب الطهارة، قديمي).

علامہ عینی رحمه الله فرماتے ہیں:

وفي القنية: قال الكرابيسي والقاضي عبد الجبار: مجوسي ذبح حماراً قيل لا يطهر والصحيح أنه يطهر. (البناية: ۱/۲۳۳).

در مختار میں ہے:

(وهل يشترط كون ذكاته شرعية) بأن تكون من الأهل في المحل بالتسمية (قيل نعم، وقيل لا، والأول أظهر)، لأن ذبح المجوسي وتارك التسمية عمداً كلا ذبح (وإن صحح الثاني) صححه الزاهدي في القنية والمجتبى، وأقره في البحر. وفي رد المحتار: قوله وأقره في البحر، حيث ذكر أنه في المعراج نقل عن المجتبى والقنية تصحيح الثاني، ثم قال: وصاحب القنية هو صاحب المجتبى، وهو الإمام الزاهدي المشهور علمه وفقهه، ويدل على أن هذا هو الأصح أن صاحب النهاية ذكر هذا الشرط أي كون الذكاة شرعية بصيغة قيل معزياً إلى الخانية. (الدر المختار مع رد المحتار: ۱/۲۰۵، سعيد. وكذا في حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۱/۱۱۳، باب المياه، كوئته).

مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو : (فتاوی دار العلوم زکریا: ۵/۲۳٦) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.