بائنیری آپشنز ٹریڈنگ (binary options trading) کا حکم:
Question
بائینیر آپشنز ٹریڈنگ (binary options trading) جائز ہے یا نہیں؟
Answer
بائینیری آپشنز ٹریڈنگ کا طریقہ کار یہ ہے کہ سرمایہ کار اپنی ملکیت کے سرمایہ کے بارے میں ایک ایجنٹ کے ساتھ اندازہ لگاتا ہے کہ یہ اثاثہ جات ایک متعین وقت کے اندر (کبھی ٦۰ سیکنڈ) میں اس کی قیمت بڑھ جائے گی یا کم ہو گی، پھر مدت گزرنے کے بعد دیکھا جائے گا کہ اس کا اندازہ صحیح تھا یا غلط اگر صحیح تھا تو اس کا سرمایہ اضافی رقم کے ساتھ ملے گا، ورنہ سرمایہ بھی کھو دیگا، اور جس کمپنی کے ساتھ اس نے یہ معاملہ کیا وہ کمپنی اس اثاثہ پر قبضہ کر لے گی، اسی طرح یہ طریقہ نقد میں بھی مروج ہے، بہت سارے ممالک میں اس طرح کا معاملہ ممنوع ہے، اور اس کے متخصصین کے نزدیک ایک نئی قسم کا جوا ہے، نیز بائینیری کا مطلب بھی یہی ہے کہ جیت یا ہار درمیان کا کوئی راستہ نہیں ۔
شرعی نقطہ نظر سے اس معاملہ کو اگر دیکھا جائے تو یہ سود و قمار دونوں ہی کا مجموعہ ہے، یعنی انویسٹر کا اندازہ صحیح تو مزید ملے گا اور اگر غلط تو پورا سرمایہ کھو دیگا، سود و قمار دونوں نص قطعی سے حرام ہے لہٰذا ایسا معاملہ ناجائز اور حرام ہے، اس سے مکمل اجتناب کرنا لازم اور ضروری ہے ۔
مذکورہ معاملہ سے متعلق معلومات درجِ ذیل ویب سائٹ کی مدد سے حاصل کی گئی ہیں:
۱ ۔ businessinsider.com
۲ ۔ wikipedia.org
۳ ۔ techterms.com
دلائل ملاحظہ فرمائیں:
قال الله تعالى: ﴿الذين يأكلون الربا لا يقومون إلا كما يقوم الذي يتخبطه الشيطان من المس ذلك بأنهم قالوا إنما البيع مثل الربا، وأحل الله البيع وحرم الربا﴾
[البقرة: ۲۷۵]،
وقال تعالى: ﴿يا أيها الذين آمنوا إنما الخمر والميسر والأنصاب والأزلام رجس من عمل الشيطان فاجتنبوه لعلكم تفلحون﴾ [المائدة: ۹۰].
وقال في الهداية: الربا هو الفضل المستحق لا حد المتعاقدين في المعاوضة الخالي عن عوض شرط فيه. (الهداية: ۳/۷۸).
قال في الدر المختار: وسمي القمار قماراً لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص، ولا كذلك إذا شرط من جانب واحد لأن الزيادة والنقصان لا تمكن فيهما بل في أحدهما تمكن الزيادة، وفي الآخر الانتقاض فقط فلا تكون مقامرة لأنها مفاعلة عنه، زيلعي. (الدر المختار مع رد المحتار: ٦/٤۰۳، سعيد).
في التعريفات الفقهية: القمار مصدر قامر هو كل لعب يشترط فيه غالباً أن يأخذ الغالب شيئاً من المغلوب وأصله أن يأخذ الواحد من صاحبه شيئاً فشيئاً في اللعب ثم عرفوه بأنه تعليق الملك على الخطر والمال في الجانبين. (التعريفات الفقهية، ص: ۱۷۷).
(وكذا في جواهر الفقه: ۲/۲۲۷، وإمداد الفتاوى: ۳/۱٦۱).
اسلام اور جدید معاشی مسائل میں مرقوم ہے:
غرر کی ایک صورت جس کو فقہاء کرام نے تعلیق التملیک علی الخطر سے تعبیر فرمایا ہے کہ عقود و معاوضہ میں تملیک کو کسی خطرہ پر معلق کرنا، خطرہ کا معنی ہے کوئی ایسا آنے والا واقعہ جس کے واقع ہونے یا نہ ہونے دونوں کا احتمال ہو اس واقعہ پر تملیک کو معلق کر دینا کہ اگر یہ واقعہ پیش آگیا تو میں نے اپنی فلاں چیز کا تمہیں مالک بنا دیا اس کو قمار کہتے ہیں ۔
قمار یعنی جوا یا میسر اس میں ایک طرف سے ادائیگی یقینی ہو اور دوسری طرف سے ادائیگی موہوم ہو، یہ قمار ہے، تعلیق التملیک علی الخطر ہے اور غرر کا ایک شعبہ ہے جو حرام ہے ۔ (اسلام اور جدید معاشی مسائل: ٤/۷٦) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3726
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3726