ووڈاکوم کمپنی کی طرف سے شیک اپ (Shake Up) آفر کا حکم:
Question
ووڈوکوم (Vodacom) کمپنی اپنی ترقی کی غرض سے موسمِ گرما (summer) میں کچھ خاص آفر (offer) دیتی ہے، جس کا نام شیک اپ (ShakeUp) آفر ہے ۔ اس کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے: اس کے ذریعہ لوگوں کو ۱۰۰ ملین تک تحفہ حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے ۔ اس میں حصہ لینے کے تین طریقے ہیں: (۱) اس ایپ (Vodacom App) کو ڈاؤن لوڈ کرنے سے ۔ (۲) اس کے واٹس ایپ گروپ میں شامل ہونے سے ۔ (۳) ایک پر موشن والے نمبر پر سبسکرائب (subscribe) کرنے سے ۔ ان تینوں طریقوں کو اختیار کرنے سے کوئی پیسہ نہیں کٹتا ہے ۔ کیا اس میں شامل ہونا جائز ہے؟ بینوا بالدلیل توجروا بالاجر الجزیل ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ مذکورہ آفر میں شامل ہونا جائز اور درست ہے، اس میں کوئی حرج نہیں، یہ ایک طرفہ چیز ہے نہ اس میں قمار کا پہلو ہے اور نہ سود کا شائبہ ہے ۔ ہاں اگر اس آفر کو حاصل کرنے کے لئے پیسہ لگانا پڑے اور اس کے بدلہ میں تحفہ کے ملنے یا نہ ملنے کا دار و مدار ہو تو ایک طرف سے تو پیسے یقینی ہوے اور دوسری جانب سے بدلہ مشکوک ہے، تو پھر یہ صورت قمار اور سود پر مشتمل ہونے کی وجہ سے نا جائز ہو گی ۔
دلائل ملاحظہ ہو :
قال الله تعالى: ﴿يا أيها الذين آمنوا إنما الخمر والميسر والأنصاب والأزلام رجس من عمل الشيطان فاجتنبوه لعلكم تفلحون﴾ [المائدة: ۹۰].
تفسير السمرقندي: وقال عطاء ومجاهد: الميسر القمار كله، حتى لعب الصبيان بالجوز والكعاب. (تفسير السمرقندي: ۱/۲۰۳).
وفي الدر المختار: حل الجعل من جانب واحد
وفي الشامية: جواز الجعل فيما ذكر استحسان. (الدر المختار مع رد المحتار: ٦/٤۰۲).
وسمي القمار قماراً لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص. (٦/٤۰۳).
وفي الفتاوى الهندية: وحرم شرط الجعل من الجانبين لا من أحد الجانبين
وإذا شرط من جانب واحد بأن يقول: إن سبقتني فلك على كذا وإن سبقتك فلا شيء لي عليك جاز استحسانا. (الفتاوى الهندية: ٦/٤٤۵).
فتاوی عثمانی میں ہے: اگر بچوں سے انعام یا قرعہ اندازی میں شرکت کے لیے کوئی فیس وصول نہیں کی گئی تو یہ قمار نہیں ہے، اور قرعہ اندازی تقسیم انعامات کے لیے جائز ہے ۔ (فتاوی عثمانی: ۳/۲٤۳) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3731
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3731