نماز میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر فساد نماز کے شبہ کا ازالہ:
Question
بعض حضرات لاؤڈ اسپیکر پر جہری نماز کو ناجائز یا مشکوک قرار دیتے ہیں کیا لاؤڈ اسپیکر پر نماز درست ہے یا نہیں، اور اس میں جو تعلیم من الغیر کا شبہ پایا جا تا ہے اس کی کیا حقیقت ہے؟
Answer
جدید فقہی مسائل میں ہے:
لاؤڈ اسپیکر کے ذریعہ نماز درست ہے یا نہیں؟ ابتداء میں علما ء کے درمیان اس مسئلہ میں اختلاف تھا ۔ بعض حضرات کی رائے تھی کہ لاؤڈ اسپیکر کی آواز بعینہ امام کی آواز نہیں بلکہ اس آواز کی باز گشت ہے ۔ اس طرح اس آواز پر مقتدیوں کی نقل و حرکت گویا ا مام کی ب جائے ایک دوسری آواز کی بنا ء پر ہو گی اور یہ بات جائز نہیں ہے کہ مقتدی امام کی ب جائے کسی اور کی آواز پر نقل و حرکت کرے ۔
اس کے مقابلے میں کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ اس کے باوجود نماز کے لیے لاؤڈ اسپیکر کا استعمال صحیح ہے اور شریعت میں اس کی نظیر موجود ہے کہ نماز کے باہر کے ایک شخص کی تلقین پر نماز یوں نے نقل و حرکت کی، چنانچہ جب بیت المقدس کے ب جائے خانہ کعبہ کو قبلہ بنایا گیا اور مدینہ کے مضافات کی بعض مساجد میں جہاں بیت المقدس ہی کی طرف رخ کر کے لوگ نماز ادا کر رہے تھے، قبلہ کی تبدیلی کی ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے اطلاع دی تو سب نے اپنا رخ بدل لیا ۔ ظاہر ہے یہ نقل و حرکت ایک ایسے شخص کی آواز پر عمل میں آئی جو نماز سے باہر تھا ۔
اب یہ بات پایہ تحقیق کو پہنچ چکی ہے کہ لاؤڈ اسپیکر کی آواز امام کی نفل اور اس کا چربہ نہیں ہے بلکہ بعینہ امام کی وہی آواز ہے جو اس کی زبان سے نکلتی ہے، اس طرح اب لاؤڈ اسپیکر سے نماز و امامت کے جواز پر علماء کا اتفاق ہو چکا ہے ۔
بعض علماء اس کے استعمال میں ایک گو نہ کراہت سمجھتے ہیں اور نا گزیر ضرورت ہی پر اس سے کام لینے کو درست سمجھتے ہیں، ان کی دلیل یہ ہے کہ فقہا ء نے بلا ضرورت امام کی آواز کو تقویت دینے والی مکبرین کے تقرر کو مکروہ قرار دیا ہے ۔ لہذا یہی حکم لاؤڈ اسپیکر کا بھی ہوگا، مگر یہ استدلال قابلِ غور ہے، مکبرین کی آواز بعینہ امام کی آواز نہیں ہوتی جب کہ لاؤڈ اسپیکر کی آواز کا بعینہ امام کی آواز ہونا ثابت ہو چکا ہے، اس لیے ان دونو ں کو ایک درجہ نہیں دیا جا سکتا ہے ہاں یہ ضرور ہے کہ لاؤڈ اسپیکر کو حسبِ ضرورت اس طرح استعمال کرنا چاہیے کہ اس کی آواز مناسب حدود اور مسجد میں رہے اور مسجد سے باہر اپنے کاموں میں مصروف لوگوں تک پہنچانے سے گریز کیا جائے کہ اس سے قرآن مجید کی طرف سے بے توجہی ہوتی ہے جس میں قرآن کی اہانت کا اندیشہ ہے ۔ (جدید فقہی مسائل: ۱/۱۳٤، کتب خانہ نعیمیہ دیوبند)
نیز ملاحظہ ہو: احسن الفتاوی: ٤/٦٤ ـ ۔ فتاوی حقانیہ: ۳/۲۲۰ ۔ امداد الفتاوی: ۱/٦۰۵، ٦۰۸ ۔ کفایت المفتی: ۷/۲۰٦ ۔
تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: آلاتِ جدیدہ کے شرعی احکام: ص ۳۵ ۔ ٦۵ ۔ واللہ
گ
اعلم ۔
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/579
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-579