امامِ راتب کو تراویح پر مجبور کرنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 2 #295Urdu

Question

ایک امام صاحب اگر تراویح کی نماز پڑھانے سے انکار کر دے کہ میں ہمیشہ سے دوسری جگہ پڑھاتا ہوں آپ کے لیے دوسری انتظام کر دوں گا تو اس پر جبر ہو سکتا ہے یا نہیں اور اگر امام کہے میں ہی پڑھاؤں گا تو یہ اس کا حق ہے یا نہیں؟

Answer

امامِ راتب تراویح کا زیادہ حقدار ہے، لیکن اگر امام صاحب کو دوسری جگہ پڑھانا ہے تو مجبور نہیں کیا جائے گا، ہاں اہلِ مسجد امام صاحب سے تراویح پڑھانے کا مطالبہ کریں تو امام صاحب کو مان لینا چاہیے کیوں کہ یہ بھی امامت ہی کی ایک قسم ہے ۔ ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:

واعلم أن صاحب البيت ومثله إمام المسجد الراتب أولى بالإمامة من غيره مطلقاً. (الدر المختار: ۱/٥٥۹، سعيد)

فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
سوال: بکر ایک مسجد میں امام مقرر ہوا اور حافظِ قرآن ہے اور زید بھی حافظِ قرآن ہے وہ زمانہ بعید سے اس مسجد میں تراویح پڑھاتا ہے، اب بکر کہتا ہے کہ میں اب امام مقرر ہوا ہوں تراویح پڑھانے کا حق مجھ ہی کو ہے اور وہ حافظ کہتا ہے کہ میرا قدیمی حق ہے تو کس کو حق ہے؟
الجواب: صورتِ مسئولہ میں جب بکر امام مقرر ہو گیا تو تراویح کا حق بھی اسی کو ہے ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند:
٤/۲۸۲
، دار الاشاعت)
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
تراویح پڑھانے کا حق امام کا ہے اگر امام نہ پڑھا سکے یا اجازت دے دے تو دوسرے حافظ کو سپرد کر دینا چاہیے ۔ (فتاوی رحیمیہ: ٤/
٤۲٥
) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.