مسافر سہواً تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو گیا پھر یا د آیا تو کیا کرے؟
Question
ایک مسافر شخص ظہر کی نماز پڑھ رہا تھا سہواً تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو گیا پھر یاد آیا کہ میں مسافر ہوں تو اب کیا کرنا چاہیے؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں مسافر نے اگر قعدۂ اولیٰ کیا تھا پھر تیسری رکعت کے سجدہ سے قبل یا د آیا تو قعدہ کی طرف لوٹ آئے اور نماز پوری کر لے، اور اگر سجدہ کے بعد یا د آیا تو چار رکعت پوری کرے اخیری دو رکعت ظہر کی سنت ہو گی، اور بہر صورت سجدۂ سہو واجب ہو گا تاخیر سلام کی وجہ سے ۔ اور اگر قعدۂ اولیٰ نہیں کیا تھا اور تیسری رکعت کا سجدہ بھی کر لیا تو نماز فاسد ہو گئی از سرِ نو قصر کرنا ضروری ہے ۔ ملاحظہ ہو فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:
مسافر صلي الظهر ركعتين وقام إلى الثالثة ناسياً بعد ما قعد قدر التشهد ثم تذكر ذلك في قيام الثالثة أو في ركوعها فإنه يعود ويقعد، وإن تذكر بعد ما قيد الثالثة بالسجدة يتم صلاته أربعاً وكانت الثالثة والرابعة له سنة الظهر، وإن لم يكن قعد على رأس الركعتين إن تذكر في قيام الثالثة عاد، وإن لم يعد حتى قيدها بالسجدة فسدت صلاته. (الفتاوى التتارخانية: ۲/۳، إدارة القرآن. وكذا في فتاوى قاضيخان على هامش الهندية: ۱/۱٦۸).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/751
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-751