قعدۂ اولیٰ نہ کرنے سے نفل نماز کا حکم:
Question
کسی نے نفل کی دو رکعت کی نیت کی اور قاعدہ چھوڑ کر تیسری رکعت کی طرف چلا گیا پھر چوتھی بھی ملا دی تو نماز کا کیا حکم ہے؟
Answer
اگر کسی نے دو رکعت کی نیت کی یا چار کی نیت کی اور قعدۂ اولیٰ پر نہیں بیٹھا سہواً کھڑا ہو گیا تو واپس آئے اور سجدۂ سہو کر کے نماز پوری کر لے، اور اگر تیسری رکعت کے بعد یا د آیا تو چوتھی رکعت ملا کر نماز پوری کر لے اور آخر میں سجدۂ سہو کر لے نماز ہو جائے گی ۔ ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں ہے:
(قوله والأصل أن كل شفع صلاة) أي فلا يلزمه بتحريمة النفل أكثر من ركعتين وإن نوي أكثر منهما، وهو ظاهر الرواية عن أصحابنا بحر
(قوله أو ترك قعود أول) لأن كون كل شفع صلاة على حدة يقتضي افتراض القعدة عقيبه فيفسد بتركها كما هو قول محمد وهو القياس. لكن عندهما لما قام إلى الثالثة قبل القعدة فقد جعل الكل صلاة واحدة شبيهة بالفرض وصارت القعدة الأخيرة هي الفرض وهو الاستحسان و عليه فلو تطوع بثلاث بقعدة واحدة كان ينبغي الجواز اعتباراً بصلاة المغرب لكن الأصح عدمه لأنه قد فسد ما اتصلت به القعدة وهو الركعة الأخيرة، لأن التنفل بالركعة الواحدة غير مشروع فيفسد ما قبلها. (شامي: ۲/۳۲، باب النوافل، سعيد. وكذا في مراقي الفلاح: ۱٤۹، فصل في النوافل، مكة المكرمة)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
وإن لم ينو أربعاً وقام إلى الثالثة يعود إجماعاً وتفسد إن لم يعد كذا في البرجندي. (الفتاوى الهندية: ۱/۱۱٤)
احسن الفتاوی میں ہے:
استحساناً چاروں رکعتیں صحیح ہیں، اس لیے کہ شفع ثانی شروع کرنے سے تشبہ بالفرائض کی وجہ سے نوافل کے قعدۂ اولیٰ کی فرضیت وجوب سے تبدیل ہو گئی، اور ترکِ واجب کے نقصان کا تدارک سجدۂ سہو سے ہو گیا ۔ (احسن الفتاوی: ۳/٤٦۳)
نیز ملاحظہ ہو: فتاوی محمودیہ: ۷/٤۲۵، باب سجود السہو، جامعہ فاروقیہ ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/638
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-638