چار رکعت قعدۂ اولیٰ کے بغیر پڑھنے سے تراویح کا حکم:

3 min readFatwa Vol 2 #309Urdu

Question

اگر چار رکعت پڑھ لی اور دوسری رکعت پر نہیں بیٹھا تو تراویح ہوئی یا نہیں؟ اور کو ن سے شفعہ کی قراءت صحیح ہے اور کو ن سے شفعہ کی تلاوت کی قضاء کرے گا؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں اصح قول کے مطابق قعدۂ اولیٰ نہ کرنے کی وجہ سے پہلا شفعہ فاسد ہو گیا، لہذا تلاوت بھی صحیح نہیں ہوئی، البتہ دوسرا شفعہ اور تلاوت دونوں صحیح ہیں صرف پہلے کی قضاء لازم ہے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی قاضيخان میں ہے:

وقال الفقيه أبو جعفر رحمه الله والشيخ الإمام أبو بكر محمد بن الفضل رحمه الله في التراويح تنوب الأربع عن تسليمة واحدة وهو الصحيح لأن القعدة على رأس الثانية فرض في التطوع فإذا تركها كان ينبغي أن تفسد صلاته أصلاً كما هو وجه القياس وإنما جاز استحساناً فأخذنا بالقياس وقلنا بفساد الشفع الأول وأخذنا بالاستحسان في حق بقاء التحريمة وإذا بقيت التحريمة صح شروعه في الشفع الثاني وقد أتمّها بالقعدة فجاز عن تسليمة واحدة. (فتاوى قاضيخان على هامش الهندية: ۱/۲٤۰، فصل في السهو، رشيدية)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

وإذا فسد الشفع وقد قرأ فيه لا يعتد بما قرأ فيه ويعيد القراءة ليحصل له الختم في الجائزة وقال بعضهم يعتد بها كذا في الجوهرة النيرة. (الفتاوى الهندية: ۱/۱۱۸، فصل في التراويح)

نیز ملاحظہ ہو:
البحر الرائق: ۳/ ٦۷، باب الوتر والنوافل، الماجدية. وحاشية تبيين الحقائق: ۱/۱۷۹باب الوتر والنوافل، إمدادية ملتان.

البتہ حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی رحمه الله نے بحوالہ امداد الفتاوی دوسرا قول بھی تحریر فرمایا ہے ۔ ملاحظہ ہو :
فرمایا کہ میرا معمول تو عرصہ سے دوسرے ہی قول پر فتویٰ دینے کاہے، کہ یہ چار قائم مقام دو کے ہوں گی، جیسا کہ کلامِ مشائخ سے اس کی ترجیح ظاہر ہوتی ہے، لیکن امداد الفتاوی کا جواب غالباً اس بنا پر ہے کہ آج کل طبائع میں کسل غالب ہے، اگر چار کو قائم مقام تسلیمہ واحدہ کے مان کر دو رکعت کا اعادہ کیا جائے گا تو وہ اعادہ مع اس مقدار قرآن کے ہوگا، جوان رکعتوں میں پڑھا گیا ہے، اور بعض دفعہ ان دو رکعتوں میں بہت زیادہ مقدار تلاوت کی جا چکتی ہے، ان کا اعادہ مع مقدارِ تلاوت نماز یوں پر بہت گراں ہوتا ہے حتی کہ فرماتے تھے کہ میں نے بعض جگہ اس پر لڑائی ہوتے ہوے دیکھا ہے، اس لیے تسہیل عوام کے لحاظ سے امداد الفتاوی میں فقیہ ابو اللیث کے قول پر میں نے اکتفاء کیا کہ جب مسئلہ میں دو قول موجود ہیں، اور ایک قول میں عوام کو سہولت ہے تو اس کو اس جہت سے ترجیح ہے،
وقال النبي صلى الله عليه وسلم يسرا ولا تعسرا وبشرا ولا تنفرا
، گو قواعد کے لحاظ سے دوسرا ہی قول صحیح ہے، ہذا واللہ اعلم، پس جس جگہ دوسرے قول پر فتویٰ دینے میں توحش اور تنگی کا اندیشہ ہو وہاں میرے نزدیک پہلے ہی قول پر فتویٰ دینا چاہیے ۔ (امداد الاحکام:
۱/٦۱۹
) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.