جیل میں نمازِ جمعہ قائم کرنے کا حکم:
Question
جناب عالی ایک مسئلہ کی طرف آپ کی توجہ دلاتے ہیں: کیا جیل میں نمازِ جمعہ پڑھی جا سکتی ہے؟ جواب عنایت فرمائیں ۔
Answer
اگر حکومت کی طرف سے ممانعت نہ ہو بلکہ اجازت ہو تو جیل میں جمعہ پڑھ سکتے ہیں ۔ باقی جیل میں عام لوگوں کے جانے پر پابندی انتظامی پابندی ہے جمعہ سے روکنے کے لیے نہیں ہے جیسے کسی قلعہ کے دروازہ کو دشمنی یا پرانی عادت کی وجہ سے بند کرتے ہیں ۔ ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:
والسابع الإذن العام
فلا يضر غلق باب القلعة لعدو أو عادة قديمة لأن الإذن العام مقرر لأهله وغلقه لمنع العدو المصلي
وفي الشامية: والذي يضر إنما هو منع المصلين لا منع العدو. (الدر المختار مع الشامي: ۲/۱٥۲، باب الجمعة، سعيد كمپني. وكذا في مراقي الفلاح مع حاشية الطحطاوي: ص ٥۱۰، باب الجمعة، قديمي.)
نیز ملاحظہ ہو: فتاوی محمودیہ: ۸/۱۸۳، مبوب و مرتب، جامعہ فاروقیہ ۔ و احسن الفتاوی: ٤/۱۱۲ ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/767
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-767