مسلمان میت کو غیر مسلم کا غسل دینا:

2 min readFatwa Vol 2 #493Urdu

Question

میت مسلمان عورت ہے تو غیر مسلم عورت غسل دے تو کیا حکم ہے؟ نیز اگر مسلمان مرد کو غیر مسلم مرد غسل دے تو کیا حکم ہے؟

Answer

مسلمان شخص کی موجود گی میں کسی کافر نے غسل دیا تو مکروہ ہے لیکن اگر کوئی مسلمان موجود نہیں ہے اور کافر غسل دے تو درست ہے البتہ خلافِ سنت ہوگا، اور بظاہر مرد اور عورت کے درمیان فرق نہیں ہے مگر یہ کہ میت مسلمان مرد ہے اور صرف عورتیں ہیں تو وہ مسلمان عورتیں کسی کافر کو غسل سکھلا دیں پھر وہ کافر مسلمان کو غسل دے ۔
لأن نظر الجنس إلى الجنس أخف.
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:

وليس للكافر غسل قريبه المسلم وفي الشامي: أي إذا لم يكن للمسلم قريب مسلم بين نساء معهن كافر يعلمنه الغسل ثم يصلين عليه فتغسل الكافر المسلم فيه للضرورة فلا يدل على أنه يمكن من تجهيز قريبه المسلم عند عدمها خلافاً للزيلعي رحمه الله، أفاده في البحر. (الدر المختار مع رد المحتار: ۲/۲۳۱، سعيد. وكذا في حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۱/۳۷۹. والبحر الرائق: ۲/۱۹۱. والفتاوى الهندية: ۱/۱٥۹)

بدائع الصنائع میں ہے:

ولو لم يكن فيهن امرأته ولكن معهن رجل كافر علمنه غسل الميت ويخلين بينهما موفقة في الدين. (بدائع الصنائع: ۱/۳۰٤، سعيد)

فتاوی رحیمیہ میں ہے:
غیر مسلم کے ہاتھوں دیا گیا غسل، غسل کے حکم میں تو آتا ہے اس لیے کہ غسل دینے والے کا مکلف ہونا شرط نہیں ہے ۔
وأنه يسقط وإن لم يكن الغاسل مكلفاً. (شامي: ۱/۸۰٥)

مگر اس میں دو خرابیاں ہیں:
(۱) غیر مسلم کے ہاتھوں دیا گیا غسل مطابقِ سنت نہیں ہے ۔
(۲) مسلم کی تجہیز و تکفین مسلمانوں پر لازم ہے اس کی ذمہ داری ان پر رہ جاتی ہے لہذا مسلمانوں کے ہاتھوں مسنون طریقہ کے مطابق دیا جانا ضروری ہے چاہے وہ ہسپتال میں ہو یا گھر میں ۔ (فتاوی رحیمیہ: ۱/۳۷۳) ۔

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.