غیر مسلم کے غسل دینے سے غسل کی ادائیگی کا حکم:

4 min readFatwa Vol 9 #221Urdu

Question

ایک ہندو لڑکی نے اسلام قبول کیا، پھر اس کا انتقال ہو گیا، مسلمانوں نے اس کے اہل خانہ سے درخواست کی کہ اس کی تکفین و تدفین ہم اسلامی طریقہ پر کریں گے، لیکن اس کے گھر والوں نے فقط نمازِ جنازہ کی اجازت دی، اب سوال یہ ہے کہ غیر مسلم کا غسل دینا معتبر ہو گا یا نہیں؟ اور نمازِ جنازہ درست ہو گی یا مسلمانوں کو دوبارہ غسل دینا چاہیے؟ بینوا بالدلیل توجروا بالاجر الجزیل ۔

Answer

بصورتِ مسئولہ دو چیزیں علیحدہ ہیں ؛۱ ۔ نمازِ جنازہ کے لیے میت کو پہلے غسل دینا، بغیر غسل کے نمازِ جنازہ درست نہیں، اور غسل کے لیے احناف کے نزدیک نیت ضروری نہیں تو غیر مسلم کا غسل معتبر ہے، اور نماز درست ہے ۔
۲ ۔ مسلمانوں کو حکم ہے کہ مسلمان میت کو غسل و کفن کے بعد نمازِ جنازہ پڑھ کر دفن کریں، لہٰذا مسلمانوں کو نماز کی اجازت ملی غسل اور کفن، دفن کی اجازت نہیں ملی تو وہ حق ساقط ہو گیا ۔ ہاں اگر غیر مسلم غسل کی اجازت دیتے اور پھر مسلمان غسل نہ دیتے تو سب گنہگار ہوتے کیوں کہ انہوں نے حق ادا نہیں کیا ۔
ملاحظہ ہو الاشباہ و النظائر میں قاعدہ
" لا ثواب إلا بالنية"
کے تحت مرقوم ہے:

وأما غسل الميت، فقالوا: لا تشترط (أي النية) لصحة الصلاة عليه وتحصيل طهارته، وإنما هي شرط لإسقاط الفرض عن ذمة المكلفين. وفي حاشية الحموي: قوله: وأما غسل الميت، قال في الأكمل قيل: النية لا بد منها في غسل الميت حتى لو أخرج الغريق وجب غسله، إلا إذا حرك عند الإخراج بنية الغسل لأن الخطاب بالغسل توجه على بني آدم ولم يوجد منهم شيء عند عدم التحريك، وفيه نظر، لأن الماء مزيل بطبعه، فكما لا تجب النية في غسل الحي فكذا لا تجب في غسل الميت ولذا قال قاضي خان في فتاواه: ميت غسله أهله من غير نية أجزأهم ذلك

وفي التاتارخانية: والنية في غسله أي الميت ليست بشرط، انتهى.
أقول: لا صراحة فيما نقله عن قاضي خان وعن التتارخانية لاحتمال أن يكون معنى قول قاضي خان أجزأهم ذلك في حق طهارته، بمعنى أن الطهارة وقعت صحيحة حتى يصح في أن يصلى عليه، ومعنى قول التتارخانية (ليست بشرط) أي في صحة الغسل وهذا لا ينافي بقاء الفرض في ذمتهم من حيث عدم النية؛ ومن ثم قال المحقق في الفتح: الظاهر اشتراط النية فيه لإسقاط وجوبه عن المكلف لا لتحصيل طهارته، وهي شرط صحة الصلاة عليه، انتهى. (الأشباه والنظائر مع شرح العلامة الحموي: ۱/۷۰، ط: إدارة القرآن).

علامہ شامی رحمه الله نے لکھا ہے کہ کافرہ اپنے مسلمان شوہر کو غسل دے تو ادا ہو جائے گا ۔ عبارت ملاحظہ ہو :

فتلخص: أنه لا بد في إسقاط الفرض من الفعل، وأما النية فشرط لتحصيل الثواب ولذا صح تغسيل الذمية زوجها المسلم مع أن النية شرطها الإسلام فيسقط الفرض عنا. (فتاوى الشامي: ۲/۲۰۰، سعيد).

عمدۃ الفقہ میں حضرت مولانا سید زوار حسین صاحب رحمه الله فرماتے ہیں:
میت کو غسل دینا زندہ مسلمانوں پر فرض کفایہ ہے، اسی طرح اس کی تجہیز و تکفین و نماز و تدفین بھی فرض کفایہ ہے، غسل کا فرض ادا ہونے کے لیے بندوں کی طرف سے اس فعل کا ہونا ضروری ہے اور نیت اس کے لیے شرط نہیں مگر ثواب حاصل کرنے کے لیے کرے نیز غسل ادا ہو جانے کے لیے یہ بھی ضروری نہیں کہ نہلانے والا مکلف ہو یا نیت کا اس وقت اہل ہو پس اگر نابالغ یا کافر نے نہلا دیا تو غسل ادا ہو گیا ۔ (عمدۃ الفقہ: ۲/٤۸٦ و ٤۹۰) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.