حاجتِ اصلیہ کی تعریف اور اس کا دائرہ:

4 min readFatwa Vol 3 #48Urdu

Question

فقہاء فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ اس مال میں واجب ہے جو حوائجِ اصلیہ سے زائد ہو، تو حوائجِ اصلیہ کا دائرہ کیا ہے؟ کون سی چیزیں اس میں شامل ہیں؟

Answer

حوائجِ اصلیہ میں وہ اشیاء داخل ہوتی ہیں جن کے بغیر انسانی زندگی بسر کرنا دشوار ہو جائے، خواہ وہ حقیقۃً ہو یا تقدیراً ۔
یعنی حوائجِ اصلیہ کی دو قسمیں ہیں:
(۱) حاجتِ اصلیہ حقیقیہ: وہ تمام اشیاء شامل ہیں جس کے بغیر انسان کو ہلاکت کا خطرہ ہو، مثلاً ضروری نفقہ، اخراجات، رہائشی مکانات، آلاتِ جنگ اور سردی گرمی کے وہ کپڑے جن کی اپنے موسم کے اعتبار سے ہر وقت ضرورت ہوتی ہے ۔
(۲) حاجتِ اصلیہ تقدیریہ: وہ تمام اشیاء داخل ہیں کہ انسان جن کے بارے میں ہر وقت صحیح معنی میں متفکر رہتا ہے، مثلاً واجب الاداء قرضہ، پیشہ اور کاریگری کے اوزار و آلات اور گھر کے ضروری اثاث و سامان اور سواری کے جانور اور علماء کے لیے دینی کتابیں یہ سب حوائجِ اصلیہ میں شامل ہیں، لہذا اگر کسی کے پاس نقد رقم موجود ہے، لیکن اس پر قرض بھی ہے، تو اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہو گی ۔
حضراتِ فقہاء کرام کی بیان کردہ جزئیات سے اتنی بات تو ظاہر ہے کہ حاجتِ اصلیہ کی کوئی ایسی تحدید نہیں جس میں کمی زیادتی کی گنجائش نہ ہو، بلکہ وسعت ہے البتہ لفظ حاجت اور اصلی کے مفہوم کو باقی رکھتے ہوے اس کے دائرے میں جائز حد تک نمائش سے بچتے ہوے توسع کی گنجائش ہے، مثلاً کچے مکان کی جگہ پختہ مکان، نل کی جگہ پر ٹنکی، سواری کے جانور کی جگہ پر موٹر سائیکل، جیپ کار، تیر کمان کی جگہ پر رائفل، بندوق وغیرہ، آلاتِ صنعت و حرفت میں دست کاری کی جگہ مشینیں، اسی طرح ضروریاتِ زندگی میں بڑے مکانات میں لفٹ، ٹیلیفون فریج، کولر، موسم کے اعتبار سے ہیٹر، اے سی، پنکھا، اسی طرح نوکر، چاکر یا لونڈی، ڈرائیور وغیرہ جو موٹر چلا سکے، اگر گھرانہ خوش حال ہو، اسی طرح بچوں کی پڑھائی یا تربیت کا سامان، الغرض اس طرح کی جدید چیزیں جو روزمرہ کی ضروریاتِ زندگی میں داخل ہیں، اور جن کی اصل تصریحاتِ فقہاء میں بنیادی حیثیت سے موجود ہیں، وہ سب حاجتِ اصلیہ میں داخل ہیں ۔ البتہ ٹی وی، وی سی آر جیسی فحش اور ناجائز چیزیں حاجتِ اصلیہ میں داخل نہیں ۔ (ملخص از جدید فقہی مباحث: ٦/۲۹۲، ۳۹٦، ادارۃ القرآن ۔ و ایضاح النوادر: حصۂ دوم: ۳۳ ۔ ۳٤ ۔ و امداد الفتاوی: ۲/٤۲) ۔
اولاد کا نکاح حوائجِ اصلیہ میں داخل نہیں، کیوں کہ اگر وہ بالغ ہیں تو نکاح کی ذمہ داری اولاد پر ہے، اور نابالغ ہیں تو نکاح ضروری نہیں، باپ پر صرف نابالغ اولاد کا نفقہ واجب ہوتا ہے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۹/۳٤۳، مبوب و مرتب) ۔
نیز ذاتی مکان کا ہونا بھی حاجتِ اصلیہ میں داخل نہیں، زندگی بسر کرنے کے لیے کرایہ کا مکان بھی کافی ہے، اور مکان کے لیے جمع کردہ رقم پر سال گزر جائے تو زکوٰۃ واجب ہو گی ۔
در مختار میں ہے:

فارغ عن الحاجة الأصلية، لأن المشغول بها كالمعدوم، وفسره ابن ملك بما يدفع عنه الهلاك تحقيقاً كثيابه، أو تقديراً كدينه. وفي الشامي: وفسره ابن ملك، وذلك حيث قال: وهي ما يدفع الهلاك عن الإنسان تحقيقاً كالنفقة ودور السكنى وآلات الحرب والثياب المحتاج إليها لدفع الحر أو البرد، أو تقديراً كالدين، فإن المديون محتاج إلى قضاء ه بما في يده من النصاب دفعاً عن نفسه الحبس الذي هو كالهلاك، وكآلات الحرفة وأثاث المنزل ودواب الركوب وكتب العلم لا هلها، فإن الجهل عندهم كالهلاك، فإذا كان له دراهم مستحقة بصرفها إلى تلك الحوائج صارت كالمعدومة، كما أن الماء المستحق بصرفه إلى العطش كان كالمعدوم. (الدر المختار مع الشامي: ۲/۲٦۲، سعيد. وكذا في البدائع: ۲/۱۱، سعيد).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.