اقسام توسل اور ان کا شرعی حکم:
Question
اگر کوئی شخص مقبرہ میں جا کر کسی بزرگ کی قبر پر حاضر ہو جائے اور یوں کہدے کہ اے فلان بزرگ آپ اللہ تعالی سے میرے لیے دعا کریں کہ اللہ تعالی مجھے اولاد عطا کر دے، یا یہ ک ہے کہ آپ اللہ تعالی کے حکم سے مجھے اولاد دے دیں، یا یہ ک ہے کہ میں اللہ تعالی سے اس بزرگ کے وسیلہ سے دعا کرتا ہوں، ان تینوں صورتوں کا شرعاً کیا حکم ہے ۔
Answer
(۱) یہ کہنا کہ آپ میرے لیے دعا کیجیے سماع موتی پر مبنی ہے، جو زمانۂ قدیم سے مختلف فیہ ہے، اس کی قدرے تفصیل متفرقات الجنائز میں گزر چکی ہے، سلام کا سننا تو روایات سے ثابت ہے، لیکن اس کے علاوہ مختلف فیہ ہے، لہذا یہ الفاظ نہیں کہنا چاہیے ۔
(۲) اور یہ کہنا کہ آپ مجھے اولاد عطا کر دیں شرک ہے، اس سے بچنا ضروری ہے، اس کو مجاز عقلی پر بھی محمول نہیں کر سکتے کیوں کہ مجاز عقلی مثلا
"أنبت الربيع البقل"
موسم بہار نے سبزی اگائی اس میں کہنے والے کا عقیدہ ہے کہ بہار کچھ نہیں کر سکتی، بہار تو صرف انبات کا وقت اور سبب ہے، جب کہ یہاں بزرگ کو عوام سب کچھ سمجھتے ہیں ۔ دوسری بات یہ ہے کہ ربیع تو انبات کے لیے سببِ ظاہری ہے، جب کہ بزرگ اولاد کا سببِ ظاہری نہیں ہے ۔
اور (۳) تیسری صورت یعنی بزرگ کے وسیلہ سے دعا علماء دیوبند کے نزدیک درست ہے ۔ حافظ ابن تیمیہ رحمه الله نے بھی توسل کو سلف سے نقل کیا اور توسل بالذات میں اگر مقصود توسل بالمحبت ہو تو اس کو جائز کہا ان کی کتاب "قاعدۃ جلیلۃ فی التوسل و الوسیلۃ" کی فوٹو کاپی ملاحظہ کیجیے ۔
شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمه الله وسیلہ بالذات کو تاویل کے ساتھ تسلیم کرتے ہیں، لیکن اس زمانہ کے بعض غیر محتاط مؤلفین اس کو صریح شرک گردانتے ہیں اور اس کے مرتکب کو دین سے خارج اور مخلد فی النار سمجھتے ہیں ۔
چنانچہ ابو بکر الجزائری کا کلام ان کی کتاب عقیدۃ المؤمن سے ملاحظہ فرمائیں:
شیخ عبد الوہاب نجدی رحمه الله نے بھی مسئلہ توسل میں میانہ روی اختیار فرمائی ہے، چنانچہ فرماتے ہیں کہ مسئلہ توسل فقہی مسائل سے متعلق ہے، اگر چہ ہمارے نزدیک مکروہ ہے، (نہ حرام نہ بدعت) لیکن پھر بھی کرنے والوں پر ہم ان کار نہیں کرتے ہیں، کیوں کہ اجتہادی مسائل میں ایک دوسرے پر ان کا ر روا نہیں ۔
عبارت ملاحظہ فرمائیں:
فقال: فالفرق ظاهراً جداً، وليس الكلام مما نحن فيه، فكون بعض يرخص بالتوسل بالصالحين، وبعضهم يخصه بالنبي ﷺ، وأكثر العلماء ينهي عن ذلك ويكرهه، فهذه المسألة من مسائل الفقه، وإن كان الصواب عندنا قول الجمهور من أنه مكروه، فلا ننكر على من فعله، ولا إنكار في مسائل الاجتهاد. (فتاوى الشيخ الإمام محمد بن عبد الوهاب في مجموعة المؤلفات القسم الثالث: ص ٦۸).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1246
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1246