قبول بالعمل سے نکاح منعقد ہو نے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 3 #376Urdu

Question

قبول بالعمل سے نکاح منعقد ہو نے کا حکم:

Answer

میں "جی" کہنے سے نکاح کا حکم:
سوال: اگر کسی نے نکاح میں ایجاب کے بعد "جی" کہا تو نکاح ہوا یا نہیں؟
الجواب: صورتِ مسئولہ میں "جی" کہنے سے نکاح ہو گیا ۔
ملاحظہ ہو فتاوی عالمگیری میں ہے:

ولو قال لامرأة كنت لي أو صرت لي، فقالت: نعم، أو صرت لك كان نكاحاً كذا في الذخيرة. (الفتاوى الهندية: ۱/۲۷۱، الباب الثاني فيما ينعقد به النكاح).

فتاوی ولوالجیہ میں ہے:

رجل قال لامرأة: أتزوجك بكذا وكذا، فقالت: قد فعلت، فهو بمنزلة قولها قد زوجتك، لأنها أخرجت الكلام مخرج الجواب يتضمن إعادة ما في السؤال

(الفتاوى الولوالجية: ۱/۳٦۲، كتاب النكاح، الفصل الثالث، بيروت).

شامی میں ہے:

وعبارة الفتح لما علمنا أن الملاحظة من جهة الشرع في ثبوت الانعقاد ولزوم حكمه جانب الرضا عدينا حكمه إلى كل لفظ يفيد ذلك فلا احتمال مساوٍ للطرف الآخر. (فتاوى الشامي: ۳/۱۱، سعيد).

احسن الفتاوی میں ہے:
نکاح میں قبول کی ب جائے الحمد للہ کہنے سے نکاح ہو جاتا ہے، اس لیے کہ صرف کلمہ ایجاب کا تملیک عین کے لیے موضوع ہونا کافی ہے کلمہ قبول میں یہ شرط نہیں ہے، بلکہ قبول میں سرے سے کلام ہونا ہی ضروری نہیں، قبول بالعمل بھی متحقق ہو سکتا ہے، مزید بریں خلاصۃ الفتاوی و عالمگیری میں ایسی صورت میں انعقادِ نکاح کا حکم صراحۃً موجود ہے ۔ (احسن الفتاوی: ۵/۳۸) ۔
فتاوی حقانیہ میں ہے کہ آمین کا لفظ قبول کا فائدہ دیتا ہے اس لیے صورتِ مسئولہ میں لڑ کے کا ایجاب کے مقابلے میں آمین کہنے سے نکاح درست ہے اور مہر لازم ہے ۔ (فتاوی حقانیہ: ٤/۳۱۷) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.