محض کتابت پر فرضی نکاح کا حکم:

2 min readFatwa Vol 3 #378Urdu

Question

بعض لوگ کسی ملک میں اقامہ حاصل کرنے کے لیے کو رٹ میں فرضی نکاح کرتے ہیں یعنی مرد اور عورت دونوں یہ تحریر لکھتے ہیں کہ میں فلاں سے نکاح
كرتا ه
وں، پھر کورٹ کی جانب سے نکاح کی سند مل جاتی ہے کیا حقیقت میں یہ نکاح منعقد ہوا یا نہیں؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں نکاح منعقد نہیں ہوا وجہ یہ ہے کہ نکاح میں جانبین سے کتابت معتبر نہیں ہے اور محض تحریری ایجاب و قبول کافی نہیں ہے، جب کہ زبان سے کچھ نہیں کہا، لہذا یہ نکاح کالعدم ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں شامی میں ہے:

قوله (ولا بكتابة حاضر) فلو كتب تزوجتك فكتبت قبلت، لم ينعقد بحر

إذ الكتابة من الطرفين بلا قول لا تكفي

(فتاوى الشامي: ۳/۱۲، مطلب التزوج بإرسال الكتاب، سعيد. وكذا في فتح القدير: ۳/۱۹۷، دار الفكر).

مبسوط میں ہے:

إذا كتب إليها فبلغها الكتاب فقالت: زوجت نفسي منه بغير محضر من الشهود لا ينعقد كما في الحاضر فإن النبي ﷺ قال: "لا نكاح إلا بشهود" ولو قالت: بين يدي الشهود زوجت نفسي منه لا ينعقد النكاح أيضاً لأن سماع الشهود كلام المتعاقدين شرط لجواز النكاح. (المبسوط للإمام السرخسي رحمه الله: ۵/۱٦، باب الولاية في النكاح، إدارة القرآن).
البحر الرائق
میں ہے:

وقيد المصنف رحمه الله انعقاده باللفظ لأنه لا ينعقد بالكتابة من الحاضرين فلو كتب تزوجتك فكتبت، قبلت، لم ينعقد. (البحر الرائق: ۳/۸۳، كوئته).

امداد الفتاوی میں ہے:
اگر جانبین سے صرف تحریری ایجاب و قبول ہوا تو نکاح نہیں ہوگا، خواہ مجلس عقد میں دونوں موجود ہو یا نہ ہو ۔ (امداد الفتاوی: ۲/۲۳۰) ۔
امداد الاحکام میں ہے:
اس صورت (مرد و عورت رضامندی سے تحریر لکھوائے) میں نکاح درست نہ ہوگا اور اگر نام اور پورا پتا بھی لکھا ہوا ہو جب بھی محض تحریر دکھانے سے نکاح درست نہ ہوگا ۔ (امداد الاحکام: ۲/۲۲۰) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.