زانیہ حاملہ سے نکاح کا حکم:
Question
ایک شخص نے کسی عورت سے زنا کیا پھر حمل ظاہر ہونے کے بعد نکاح کرنا چاہتا ہے تو کیا وضع حمل کا انتظار کرے گا یا نہیں؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں اگر حمل اسی کے نطفے سے ہے تو نکاح کے بعد صحبت بھی جائز ہے، اور اگر حمل دوسرے سے ہے تو نکاح جائز ہے، لیکن صحبت جائز نہیں وضع حمل کا انتظار کرنا ضروری ہے ۔ اور زنا تو بہر حال گناہِ کبیرہ ہے اس سے توبہ کرنا لازم ہے ۔
ملاحظہ ہو تبیین الحقائق میں ہے:
رجل تزوج حاملاً من زنا منه فالنكاح صحيح عند الكل ويحل وطؤها عند الكل. (تبيين الحقائق: فصل في المحرمات، كتاب النكاح. وهكذا في فتح القدير كتاب النكاح فصل في المحرمات، دار الفكر).
الجوهرة النيرة
میں ہے:
وإذا تزوج الحامل من الزنا جاز النكاح
قوله ولا يطؤها حتى يضع حملها لقوله ﷺ "لا توطأ حامل حتى تضع" إلا أن يكون هو الزاني فيجوز أن يطأها. (الجوهرة النيرة: العدة في النكاح الفاسد).
در مختار میں ہے:
وصح نكاح حبلي من زني لا حبلي من غيره أي الزني
وإن حرم وطؤها ودواعيه حتى تضع، متصل بالمسألة الأولى لئلا يسقي ماء ه زرع غيره
لو نكحها الزاني حل له وطؤها اتفاقاً. (الدر المختار: ۳/٤۸، فصل في المحرمات، سعيد).
فتاوی محمودیہ میں ہے:
زانی کا زانیہ کو حمل ہو تب بھی اس سے زانی کا نکاح درست ہے اور صحبت بھی درست ہے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۱/۱۲٦، مبوب و مرتب ۔ و فتاوی حقانیہ: ٤/۳۳۰ ۔ و امداد الاحکام: ۲/۲۰۳) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1277
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1277