حدیث "وضع اليدين تحت السرۃ" کی تحقیق:

6 min readFatwa Vol 1 #142Urdu

Question

"وضع اليدين تحت السرة في الصلاة"
حدیث کی کیا حیثیت ہے؟

Answer

یہ حدیث صحیح ہے اور قابلِ حجت ہے اور دوسری روایتوں کے مقابلہ میں قوی ہے ۔
ملاحظہ ہو مصنفِ ابن ابی شیبہ میں ہے:

حدثنا وكيع عن موسى بن عمير عن علقمة بن وائل بن حجر عن أبيه قال: "رأيت النبي ﷺ وضع يمينه على شماله في الصلاة تحت السرة". (رواه ابن أبي شيبة في مصنفه ۱/۳۹۰).
قال الشيخ محمد عوامة في تعليقه على "المصنف" (۳/۳۲۰/۳۹۵۹): هذا إسناد صحيح، والصواب سماع علقمة من أبيه (وقد حققه وعلق عليه بتعليق حسن، فراجع).
آثار السنن
میں ہے:

قال الحافظ قاسم بن قطلوبغا في "تخريج أحاديث الاختيار شرح المختار": هذا سند جيد، وقال العلامة محمد أبو الطيب المدني في "شرح الترمذي": هذا حديث قوي من حيث السند، وقال الشيخ عابد السندي في "طوالع الأنوار": رجاله ثقات انتهى. قال الإمام النيموي (م ۱۳۲۲ هـ): إسناده صحيح وسماع علقمة من أبيه ثابت. (آثار السنن ص ۹۰، مع التعليق الحسن، باب في وضع اليدين تحت السرة).

اس سے معلوم ہو گیا کہ حدیث ہر لحاظ سے صحیح اور قابلِ حجت ہے ۔ البتہ یحیی بن معین نے ذکر فرمایا ہے کہ "
علقمه عن أبيه"
کی روایت مرسل ہے جس کو حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے میزان میں اور ابن حجر نے تہذیب میں ذکر کیا ہے اسی طرح حافظ صاحب نے التقریب میں بھی ذکر کیا ہے ۔

علقمة بن وائل بن حجر الحضرمي الكوفي صدوق إلا أنه لم يسمع من أبيه. (التقريب، ص ۲٤۳).

لیکن یہ بات صحیح نہیں ہے، صحیح وہ ہے جو "
التعليق على التقريب"
میں مذکور ہے:

والصحيح أنه سمع من أبيه كما صرح البخاري في التاريخ الكبير والترمذي في الحدود وفي سنن النسائي في باب القعود وفي جزء رفع اليدين للبخاري أيضاً تصريح سماعه عن أبيه قال الحافظ في بلوغ المرام في باب صفة الصلاة (رقم: ۳۱٦) بعد ذكر حديث وائل: رواه أبو داود بإسناد صحيح وهذا إنما هو من طريق علقمة عن وائل فليتنه الأثري. (التعليق على التقريب للشيخ مولانا إرشاد الحق الأثري، ص ٤۸۹).

اسی طرح آثار السنن میں علامہ نیموی (م ۱۳۲۲ ھ) تحریر فرماتے ہیں
:
إن حجراً سمعه من علقمة عن وائل وقد سمعه عن وائل نفسه، أخرج أحمد في "مسنده" حدثنا محمد بن جعفر حدثنا شعبة عن سلمة بن كهيل عن حجر أبي العنبس قال: سمعت علقمة بن وائل يحدث عن وائل وسمعت عن وائل الخ. وأخرج أبو داود الطيالسي في "مسنده" حدثنا شعبة قال أخبرني سلمة بن كهيل قال سمعت حجراً أبا العنبس قال: سمعت علقمة بن وائل يحدث عن وائل وقد سمعت من وائل أنه الخ. وأخرج أبو مسلم الكجي في "سننه" حدثنا عمرو بن مرزوق حدثنا شعبة عن سلمة بن كهيل عن حجر عن علقمة بن وائل عن وائل وقد سمعه من وائل. (التعليق الحسن حاشية آثار السنن، ص ۱۲۵).

مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (
تعليق الشيخ شعيب الأرناؤوط على سير أعلام النبلاء: ۲/۵۷۳، تحت ترجمة وائل بن حجر بن سعد، وتحفة الأحوذي: ۵/۱۵، وتحرير التقريب: ۳/۳٤، تحت ترجمة علقمة بن وائل بن حجر).

خلاصہ یہ ہے کہ علقمہ کا اپنے والد سے سماع ثابت ہے لہذا یہ حدیث سنداً قوی ہے ۔ البتہ علامہ نیموی نے اس حدیث پر یہ اشکال کیا ہے کہ اگر چہ یہ حدیث سنداً قوی ہے لیکن تحت السرۃ والی زیادتی غیر محفوظ ہونے کی وجہ سے یہ حدیث متناً ضعیف ہے ۔ (
التعليق الحسن، ص ۹۱).

اس کا جواب تعلیق التعلیق (ص: ۹۱) میں مذکور ہے: اصولِ حدیث کے قواعد کے لحاظ سے یہ زیادتی مقبول ہونی چاہیے اس وجہ سے کہ سنداً قوی ہے اور راوی پر کوئی کلام بھی نہیں ہے لہذا ثقہ راوی جب کوئی زیادتی نقل کرے تو قبول کی جاتی ہے اور "
علي صدره"
والی زیادتی تو ایسا راوی بیان کرتا ہے جس پر بہت کلام ہے لہذا وہ غیر محفوظ ہے ۔ البتہ تحت السرۃ والی زیادتی کے بارے میں کہنا کہ غیر محفوظ ہے یہ بات درست نہیں ہے یہ روایت سنداً و متناً قوی ہے اور متناً جو اضطراب ہے وہ ترجیح کی وجہ سے مضر نہیں ہے کیونکہ ثقہ راوی کی وجہ سے تحت السرۃ والی روایت کو ترجیح حاصل ہے ۔
اس کے علاوہ آثار اور تابعین کے اقوال بھی اس سلسلہ میں مروی ہیں جن میں بعض صحیح بعض حسن اور بعض ضعیف ہیں جن کو امام بیہقی نے سنن کبری میں، امام نیموی نے آثار السنن میں اور ابن أبی شیبہ نے مصنف میں ذکر کیا ہے اسی طرح روایت مذکورہ پر تفصیلی کلام بھی معارف السنن میں حاشیہ آثار السنن اور حاشیہ بیہقی میں درج ہے ۔ وہاں رجوع کیا جا سکتا ہے ۔
خلاصہ یہ کہ
"تحت السرة"
والی حدیث دوسری روایتوں کے مقابلے میں قوی ہے اور قابلِ عمل اور لا ئقِ حجت ہے ۔

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.