"وضع اليدين علی الصدر" حدیث کی تحقیق:
Question
"
وضع اليدين على الصدر في الصلاة"
حدیث کی کیا حیثیت ہے؟
Answer
یہ روایت ضعیف ہے اور علی الصدر والی زیادتی غیر محفوظ ہے ۔ اس بارے میں چند روایتیں ہیں ۔ ملاحظہ ہو:
پہلی روایت:
أخبرنا أبو سعيد أحمد بن محمد الصوفي أنبأ أبو أحمد بن عدي الحافظ ثنا ابن صاعد ثنا إبراهيم بن سعيد ثنا محمد بن حجر الحضرمي (له مناكير) حدثنا سعيد (ضعيف) بن عبد الجبار بن وائل عن أبيه عن أمه (مجهولة) عن وائل بن حجر رضي الله عنه قال: حضرت رسول الله ﷺ نهض إلى المسجد فدخل المحراب ثم رفع يديه بالتكبير ثم وضع يمينه على يساره على صدره. (رواه البيهقي في الكبرى: ۲/۳۰).
قال ابن التركماني (م ۷٤۵ هـ) في شرح هذا الحديث: محمد بن حجر بن عبد الجبار بن وائل عن عمه سعيد له مناكير قاله الذهبي وأم عبد الجبار هي أم يحيى لم أعرف حالها ولا اسمها. (الجوهر النقي: ۲/۳۰).
قال البيهقي في السنن الكبرى (۲/۳۰): ورواه أيضاً مؤمل بن إسماعيل (ضعيف) عن الثوري عن عاصم بن كليب عن أبيه عن وائل أنه رأى النبي ﷺ وضع يمينه على شماله ثم وضعهما على صدره. وأخبرنا أبو بكر بن الحارث ثنا أبو محمد بن حيان ثنا محمد بن العباس ثنا محمد بن المثنى ثنا مؤمل بن إسماعيل فذكره.
قال ابن التركماني: مؤمل هذا قيل: إنه دفن كتبه فكان يحدث من حفظه فكثر خطاه كذا ذكر صاحب الكمال وفي الميزان قال البخاري: منكر الحديث وقال أبو حاتم كثير الخطأ، وقال أبو زرعة: في حديثه خطأ كثير. (الجوهر النقي: ۲/۳۰).
آثار السنن میں ہے:
عن وائل بن حجر قال صليت مع رسول الله ﷺ فوضع يده اليمنى على يده اليسرى على صدره. رواه ابن خزيمة في "صحيحه" وفي إسناده نظر وزيادة "على صدره" غير محفوظة. قال النيموي وفي الباب أحاديث أخر كلها ضعيفة. (آثار السنن، ص ۸۳، ۸۸).
قال الشيخ شعيب الأرناؤوط في تعليقه على "مسند أحمد" (۳٦/۲۹۹): وفي باب وضع اليدين على الصدر في الصلاة عن وائل بن حجر عند ابن خزيمة (٤۷۹)، والبيهقي (۲/۳۰)، بإسنادين ضعيفين.
وعن علي موقوفاً عند الطبري في "التفسير" (۳۰/۳۲۵)، والبيهقي (۲/۲۰، و ۳۰) وهو ضعيف لاضطراب سنده ومتنه.
درج کردہ عبارات سے معلوم ہو تا ہے کہ اس حدیث کے دو طرق ہیں (۱) طریق میں سعید راوی ضعیف ہے اور ام عبد الجبار مجہولہ ہے لہذا یہ طریق ضعیف ہے (۲) میں مؤمل بن اسماعیل راوی پر بہت کلام ہے لہذا یہ بھی ضعیف ہے، اس کے علاوہ جتنے بھی طرق ہیں سب میں مؤمل بن اسماعیل ہے جس کی وجہ سے سب ضعیف ہیں ۔ اور حافظ ابن قیم رحمہ اللہ نے اعلام الموقعین میں لکھا ہے کہ
"علي صدره
" کی زیادتی صرف مؤمل بیان کرتے ہیں اس کے علاوہ کو ئی ذکر نہیں کر تا، اسی طرح یہ روایت نسائی مسند احمد میں زائدہ کے طریق سے اور ابو داود میں بشر بن مفضل کے طریق سے اور ابن ماجہ میں عبد اللہ بن ادریس کے طریق سے مروی ہے مگر کسی نے بھی یہ زیادتی نقل نہیں کی، اور اس کے علاوہ بیہقی وغیرہ میں آثار بھی مذکور ہیں مگر سب ضعیف ہیں، نیز دوسری کتابوں میں مثلاً معارف السنن، آثار السنن، بیہقی وغیرہ میں تفصیلی کلام موجود ہے، وہاں مراجعت کی جا سکتی ہے ۔
خلاصہ یہ ہے کہ یہ روایت سب طرق سے ضعیف ہے اور
"علي صدره"
کی زیادتی غیر محفوظ ہے، کیونکہ اس زیادتی کو بیان کر نے میں ضعیف راوی ثقات کی مخالفت کر تا ہے ۔
(۲) دوسری روایت:
اس بارے میں دوسری روایت بھی ہے جس کو غیر مقلدین حسن کہتے ہیں یہ روایت حسن ہے لیکن "
علي صدره"
کی زیادتی غیر محفوظ ہے ۔
ملاحظہ ہو مسند احمد میں ہے:
حدثنا عبد الله حدثني أبي حدثنا يحيى بن سعيد عن سفيان قال: حدثنا سماك عن قبيصة بن هلب (مجهول) عن أبيه قال: رأيت النبي ﷺ ينصرف عن يمينه وعن يساره ورأيته يضع هذه على صدره ووصف يحيى اليمنى على اليسرى فوق المِفْصَل. (مسند أحمد: ۵/۲۲٦ /۲۲٦۱۵).
قال الشيخ شعيب الأرناؤوط في تعليقه على "مسند أحمد" (۳٦/۲۹۹/۲۱۹٦۷): صحيح لغيره دون قوله "يضع هذه على صدره"، وهذا إسناد ضعيف لجهالة قبيصة بن هلب.
وقال بعد أسطر: قلنا: وقول الألباني في صفة الصلاة: وضعهما على الصدر هو الذي ثبت في السنة، تَعَنُّت لا وجه له، ففي "بدائع "الفوائد" (۳/۹۱) لا بن القيم: واختلف في موضع الوضع، فعنه [أي: عن الإمام أحمد] فوق السرة، وعنه: تحتها، وعنه: قال أبو طالب سألت أحمد بن حنبل: أين يضع يده إذا كان يصلي؟ قال: على السرة أو أسفل. وكل ذلك واسع عنده إن وضع فوق السرة أو عليها أو تحتها. انتهى.
اس حدیث کے بارے میں علامہ نیموی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
إسناده حسن، لكن قوله: "علي صدره" غير محفوظ. (آثار السنن، ص ۸۷).
یہ روایت کئی طرق سے مروی ہے ۔
مسند احمد میں یہ روایت یحیی بن سعید، وکیع ابو الاحوص اور شریک کے طرق سے مروی ہے دار قطنی (
۱/۲۸۵)
میں یہ روایت وکیع اور عبد الرحمن بن مہدی کے طرق سے مروی ہے ابن ماجہ
(۱/۲۲٦)
اور ترمذی (
۲/۳۲)
میں یہ روایت ابو الاحوص کے طریق سے مروی ہے ۔
ان پانچ طرق میں سے صرف یحیی بن سعید کے طریق میں "
علي صدره"
کی زیادتی موجود ہے باقی چار طرق سے صرف "
وضع اليمين على الشمال"
مروی ہے، پس
"علي صدره"
کی زیادتی غیر محفوظ ہے ۔
مزید ملاحظہ ہو: (مصنف ابن ابی شیبہ ۱/۳۹۰، و بیہقی سنن کبری: ۲/۲۹، ۲۹۵، و شرح السنہ: ۳/۳۱) ۔
لیکن ان تمام میں یہ زیادتی موجود نہیں، معلوم ہوا کہ یہ زیادتی غیر محفوظ ہے ۔
اس روایت کے الفاظ کے بارے میں علامہ نیموی لکھتے ہیں:
ويقع في قلبي أن هذا تصحيف من الكاتب والصحيح يضع هذه على هذه فيناسبه قوله وصف يحيي اليمنى على اليسرى فوق المفصل ويوافقه سائر الروايات ولعل لهذا الوجه لم يخرج الهيثمي في مجمع الزوائد والسيوطي في جمع الجوامع وعلي المتقي في كنز العمال. (التعليق الحسن، ص ۸۷).
مولانا امیں اکاڑوی نے بھی یہی بات لکھی ہے ۔ (مجموعہ رسائل ۱/۳۹۸)
بعض غیر مقلدین اس روایت کے الفاظ میں تحریف کر کے "
ورأيته يضع يده على صدره"
بیان کرتے ہیں: (فتاوی ثنائیہ: ۱/٤۵۸، و لا جدید فی احکام الصلاۃ، ص ۲۲) ۔
(۳) تیسری روایت:
غیر مقلدین حضرات ایک اور روایت سے استدلال کرتے ہیں جو مرسل ہے اور اس کو صحیح کہتے ہیں ۔ ملاحظہ ہو:
حدثنا أبو توبة حدثنا الهيثم يعني ابن حميد عن ثور عن سليمان بن موسى عن طاوس قال: كان رسول الله ﷺ يضع يده اليمنى على يده اليسرى ثم يشد بينهما على صدره وهو في الصلاة. (رواه أبو داود، رقم: ۷۵۹).
طاوس کی اس مرسل روایت کو البانی صاحب نے صحیح قرار دیا ہے ۔ (
إرواء الغليل: ۲/۷۱).
لیکن علامہ نیموی رحمہ اللہ نے آثار السنن میں اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے ۔ (
آثار السنن، ص: ۸۷).
اس حدیث کی سند میں دو راوی مختلف فیہ ہیں ہیثم بن حمید اور سلیمان بن موسی ۔
(۱) ہیثم بن حمید الغسانی: ابن معین، نسائی، ابو داود اور ابن حبان نے ان کی توثیق کی ہیں لیکن ابو مسہر نے ان کی تضعیف کی ہے، اور ان کے بارے میں
"كان ضعيفاً قدرياً"
کہا ۔ (
تهذيب التهذيب: ۱۱/۸۱)
نیز ان کے بارے میں تقریب میں لکھا ہے
"صدوق رمي بالقدر". (التقريب، ص: ۳٦۷).
(۲) سلیمان بن موسی الاموی: یہ مسلم کے راوی ہے اکثر حضرات نے ان کی توثیق کی ہے جیسے کہ ابو مسہر، ابن معین، عطاء ابن ابی رباح، دارمی، دحیم اور ابو حاتم وغیرہ ۔ البتہ امام بخاری نے ان کے بارے میں کہا "
عنده مناكير"
اور امام نسائی نے ان کے بارے میں کہا "
أحد الفقهاء وليس بالقوي في الحديث". وقال: كان في حديثه شيء".
تقریب میں ان کے بارے میں لکھا ہے:
صدوق فقيه في حديثه بعض لين وخولط قبل موته بقليل. (التقريب، ص: ۱۳٦، والضعفاء لا بن الجوزي: ۲/۲۵، ترجمة: ۱۵٤۹).
سلیمان بن موسی کی وجہ سے علامہ نیموی رحمہ اللہ نے اس حدیث کی سند کو ضعیف قرار دیا ہے ۔
مزید براں یہ مرسل روایت اس صحیح روایت کے خلاف ہے جس میں
"تحت السرة"
ہاتھ رکھنے کا ذکر ہے اور وہ روایت مصنف ابن ابی شیبہ میں موجود ہے، پھر
"تحت السرة"
ہاتھ رکھنا چونکہ واجب نہیں ہے تو ممکن ہے کبھی کبھی "
فوق السرة"
بھی رکھا ہو ۔
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/143
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-143