گھر سے نماز پڑھ کر میقات پر نیت کرنے کا حکم:
Question
میں عمرہ کے لیے جا رہا ہوں تو احرام کی نیت سے پہلے ہوائی جہاز میں داخل ہونے سے پہلے نماز پڑھنا درست ہے؟ یعنی احرام کی چادریں اور نیت میقات سے پہلے ہو جائے اور نماز گھر سے ادا کر لی جائے تو یہ درست ہوگا یا نہیں؟
Answer
احرام کی دوگانہ سننِ احرام میں سے ہے اوقاتِ مکروہہ کے علاوہ کسی بھی وقت پڑھ سکتے ہیں، اور اس کے بعد فوراً نیت کرنا یہ مستحب ہے اس لیے بہتر تو یہی ہے کہ احرام کی نیت سے پہلے پڑھ لی جائے تاہم کسی مصلحت یا عذر کی وجہ سے بہت پہلے پڑھ لے تب بھی کوئی کراہت نہیں ہو گی ۔ نیز احرام کے کپڑے پہننے سے اور نماز دوگانہ پڑھنے سے آدمی محرم نہیں بنتا بلکہ نیت اور تلبیہ پڑھنے سے احرام میں داخل ہوتا ہے ۔
شرحِ لباب المناسک میں ہے:
ثم يتجرد عن الملبوس المحرم على المحرم ويلبس من أحسن ثيابه
ثم يصلي ركعتين بعد اللبس أي لبس الإزارين وكذا بعد التطيب ينوي بهما أي بالركعتين سنة الإحرام ليحرز فضيلة السنة، ولو أطلق جاز
ويستحب إن كان بالميقات مسجد أي مأثور أن يصليهما فيه أي لتحصل له زيادة بركة المكان ولو أحرم بغير صلاة جاز أي جاز إحرامه لا فعله لترك السنة
وإذا سلم أي فرغ من صلاته فالأفضل أن يحرم أي يشرع في الإحكام وهو جالس مستقبل القبلة في مكانه فيقول بلسانه أي استحباباً. (شرح اللباب، ص۱۱۰).
وفي إرشاد الساري: قوله ويتجرد: عده من المستحبات لأنه ليس بواجب قبل الإحرام ولم يتوقف انعقاده عليه. (ارشاد الساري، ص۱۰۹).
انعقادِ احرام کے لیے دو چیزیں شرط ہیں (۱) نیت (۲) تلبیہ یا جو تلبیہ کے قائم مقام ہو ۔
قال في غنية الناسك: إن التزامها لا يتحقق إلا بالنية مع الذكر أو الخصوصية
والمراد بالذكر التلبية ونحوها وبالخصوصية ما يقوم مقامها من تقليد البدنة مع السوق. (غنية الناسك، ص۳۳، فصل في ماهية الإحرام وشرائطه).
عمدۃ الفقہ میں ہے:
احرام کی سنتیں نو ہیں
(
٦) احرام کی سنت کی نیت سے دو رکعت نماز ادا کرنا
احرام کے مستحبات بہت ہیں
(
٦) اگر نماز دوگانہ احرام پڑھے تو احرام کی نیت کا نماز احرام کے بعد متصل ہی ہونا اور دونوں میں زیادہ فاصلہ نہ ہونا ۔ (عمدۃ الفقہ، ص۱۲۱و۱۲۳) ۔
مزید ملاحظہ ہو: (معلم الحجاج، ص ۱۰۹ ۔ ۱۱٤) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1435
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1435