جنسی خواہش کی تکمیل کے لیے مصنوعی آلات کے استعمال کا حکم:

2 min readFatwa Vol 4 #235Urdu

Question

ایک عورت کا خاوند جو اپنی اہلیہ کے ساتھ صحبت ہی نہیں کرتا ہے اور اس وجہ سے عورت اپنے خاوند سے ناراض ہے وہ خاوند تندرست و صحبت مند بھی ہے تو کیا اس کی اہلیہ اپنی خواہش کو پورا کرنے کے لئے کسی مصنوعی قسم کے آلات کو استعمال کر سکتی ہے؟ شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

Answer

جہاں شریعتِ مطہرہ نے جنسی خواہشات کی تکمیل کی اجازت دی ہے وہیں اس کا فطری طریقہ بھی انسانیت کی رہنمائی کے لئے بتلا دیا ہے، تاکہ فطری خواہش کی تکمیل کے ساتھ توالد و تناسل کا سلسلہ بھی چلتا رہے، اس فطری طریقہ کے خلاف جو بھی طریقہ خواہشات کی تکمیل کے لئے اختیار کیا جائے گا، وہ نہ صرف یہ کہ شرعی نقطہ نظر سے ممنوع ہوگا، بلکہ خلافِ فطرت ہونے کے ساتھ ساتھ اخلاقی پستی کا بھی باعث بنے گا، چنانچہ شریعتِ مطہرہ میں اس بات کی صراحت موجود ہے کہ جب تک کسی کو تکمیل خواہش کے لئے یہ فطری طریقہ میسر نہ اس کے تو وہ بالکلیہ اپنی عفت اور پاکدامنی کو برقرار رکھنے کے لئے غیر فطری طریقوں سے بچیں ۔
چنانچہ احادیث میں آتا ہے کہ بعض صحابہ کرام نے عالم شباب میں نکاح پر قدرت نہ ہونے کی صورت میں سوال کیا کہ ہم کیا کریں؟ تو آنحضرت ﷺ نے انہیں کثرت سے روزے رکھنے کا حکم فرمایا ۔ معلوم ہوا کہ جب تک فطری طریقہ سے قضائے شہوت ممکن نہ ہو تو غیر فطری طریقہ کی اجازت نہیں ہے، بلکہ عفت و پاک دامنی کو برقرار رکھنا ضروری ہے ۔
لہذا صورت مسئولہ میں خاتون کو شرعاً اس بات کی اجازت نہ ہو گی کہ کسی بھی غیر فطری طریقہ کو اختیار کرتے ہوے کسی بھی قسم کے مصنوعی آلات کو استعمال کریں، اس کے بجائے وہ کسی بھی طریقہ سے اپنے خاوند کو حقوق کی ادائیگی پر رضامند کرنے کی کوشش کریں ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.