جانوروں کو تول کر بیچنے کا حکم:
Question
جانوروں کو تول کر بیچنا جائز ہے یا نہیں؟ اس لیے کہ کبھی اپنے آپ کو ثقیل اور کبھی خفیف کرتے ہیں جس سے مکمل وزن دریافت کرنا مشکل ہے جب کہ عرف عام میں مروج ہے، لہذا حکم شرعی سے مطلع فرما کر اجر عظیم کے مستحق ہو ۔
Answer
حیوانات کو تول کر فروخت کرنے کے سلسلہ میں صاحبِ ہدایہ کی ایک عبارت سے عدم جواز معلوم ہوتا ہے:
قال في الهداية: لأن الحيوان لا يوزن عادة ولا يمكن معرفة ثقله بالوزن لأنه يخفف نفسه مرة ويثقل أخري. (الهداية: ۳/۸۳، باب الربوا).
یعنی عرف عام میں حیوانات کو تول کر فروخت نہیں کرتے، اور تولنے سے جانور کی ضخامت بھی معلوم نہیں ہو سکتی، کیوں کہ جانور کبھی اپنے آپ کو ہلکا کر لیتا ہے اور کبھی بوجھل بنا دیتا ہے ۔
لیکن عصر حاضر میں جانوروں کو تول کر فروخت کرنے کا عام عرف ہے، اور صحیح ضخامت کا معلوم نہ ہونا جہالتِ یسیرہ ہے اور تجارت میں جہالتِ یسیرہ جو
"مفضية إلى النزاع"
نہ ہو قابلِ تحمل ہے، مفسدِ عقد نہیں ہے ۔ جیسا کہ شاہ صاحب کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جہالت جو
"مفضية إلى النزاع"
نہ ہو مفسدِ عقد نہیں ہے ۔
شاہ صاحب (۱۳۵۲ ھ) کی عبارت ملاحظہ فرمائیں:
قلت: إن الناس يعاملون في أشياء تكون جائزة فيما بينهم على طريق المروءة والإغماض، فإذا رفعت إلى القضاء يحكم عليها بعدم الجواز وذلك لأن العقود على نوعين: نحو: يكون معصية في نفسه، وذا لا يجوز مطلقاً، ونحو آخر: لا يكون معصية وإنما يحكم عليه بعدم الجواز لا فضاء ه إلى المنازعة فإذا لم تقع فيه منازعة جاز. (فيض الباري: ۳/۲۸۹، كتاب الوكالة).
علامہ اکمل الدین بابرتی رحمه الله (۷۸٦ ھ) فرماتے ہیں کہ اموالِ ربویہ میں مقدار کی جہالت مفسد ہے احتمال ربا کی بنا پر، غیر اموالِ ربویہ میں مفسد نہیں ہے ۔
قال في العناية: وهذا إنما يستقيم إذا لم تكن الأعراض ربوية، أما إذا كانت ربوية فجهالة المقدار تمنع الصحة لاحتمال الربا. (شرح العناية على هامش فتح القدير: ٦/۲٦۰، دار الفكر).
جدید معاملات کے شرعی احکام میں ہے:
اگر خریدار اور فروخت کنندہ جانور کو وزن کر کے خرید و فروخت پر راضی ہوں تو جانور کو وزن کر کے نقد رقم یا غیر جنس کے ذریعہ خریدنا اور فروخت کرنا دونوں جائز ہیں، بشرطیکہ جانور کا فی کلو حساب سے نرخ طے کر لیا گیا ہو، نیز جانور کا وزن کرنے کے بعد اس کی قیمت بھی متعین کر لی گئی ہو، جس کی صورت یوں ہو گی کہ خریدار کو مثلاً: ایک بکرے کی ضرورت ہے تاجر کے پاس جا کر وہ بکروں میں سے ایک بکرا منتخب کر لیتا ہے اور تاجر اس کو بتا دیتا ہے کہ اس بکرے کا نرخ پچاس روپے کلو ہے اور اس بکرے کو خریدار کے سامنے وزن کر کے بتا دیتا ہے کہ مثلاً: یہ بیس کلو ہے اب اگر خریدار اس کو قبول کر لے تو بیع منعقدہ ہو جائے گی اور اس طرح کی گئی خرید و فروخت شرعاً جائز ہے ۔ (جدید معاملات کے شرعی احکام: ۱/۱۱۸، از مفتی احسان اللہ صاحب) ۔
سابق مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن صاحب ٹونکی رحمه الله (۱٤۱۵ ھ) فرماتے ہیں:
موجودہ دور میں امام محمد رحمه الله کی رائے زیادہ بہتر ہے کیوں کہ آج کل حیوانات بھی موزونی ہو گئے ہیں مرغیوں وغیرہ کی بیع وزن سے ہوتی ہے، کیوں کہ اصل وزن کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مجہول چیز کی بیع نہ ہو اور بیع کے وقت وزن معلوم ہو جائے ۔ (درس الہدایہ: ۲۸۳) ۔
مفتی نظام الدین صاحب فرماتے ہیں:
اگر مرغیوں کو اس طرح بیچنے میں (تول کر) بیچنا، خریدنا مرغیوں کا مقصود ہو یعنی مبیع مرغیاں قرار دی جائیں محض ان کا گوشت ہی مبیع قرار نہ ہو تو چونکہ اصل مبیع (مرغیاں) معلوم متعین اور شاہد ہوں گی اس لیے یہ بیع جائز رہے گی ۔ (منتخباتِ نظام الفتاوی: ۱/۲٤۵) ۔
مفتی رشید صاحب لدھیانوی رحمه الله (۱٤۲۱ ھ) فرماتے ہیں:
مرغی کے سانس کی وجہ سے اس کے وزن میں کوئی معتد بہ فرق نہیں آتا، لہذا یہ جہالت یسیرہ ہے جو مفضیہ الی المنازعہ نہیں، مرغی کی اس طرح بیع کے عرف عام ہو جانے کی وجہ سے اس میں نزاع کا احتمال نہیں، اس لیے یہ بیع جائز ہے ۔ (احسن الفتاوی: ٦/٤۹۷) ۔
ایضاح المسائل میں ہے:
مچھلی، مرغ، بکرے، بھینس وغیرہ کو زندہ حالت میں تول کر روپیہ پیسہ کے عوض میں خرید و فروخت کرنا جائز اور درست ہے ۔ مستفاد از اوجز المسالک: ۵/۱۰۵، (ایضاح المسائل، ص ۱۵۸) ۔
حاصل کلام یہ ہے کہ جانوروں کو تول کر بیچنے کے سلسلہ میں تین اشکالات وارد ہوتے ہیں:
اشکال (۱): حیوانات موزونی نہیں بلکہ عددی ہیں ۔
الجواب: (۱) سلف کے زمانہ میں موزونی نہیں تھے فی زماننا موزونی بن گئے ہیں، جیسا کہ مذکورہ بالا فتاوی کی عبارات سے واضح ہوا ۔
اشکال (۲): کبھی اپنے آپ کو خفیف اور کبھی ثقیل بنا لیتے ہیں؟
الجواب (۲): اس کا جواب یہ ہے کہ یہ جہالتِ یسیرہ ہے جو
"مفضية إلى النزاع"
نہیں ہے، ہاں اموال ربویہ میں ایسی جہالت مضر ہے، اور یہاں بیع الجنس بالجنس نہیں ہے ۔
اشکال (۳): وزن مجہول ہے؟
الجواب: (۳) عاقدین کی مجلس میں وزن کرنے سے یہ جہالت ختم ہو جاتی ہے اور اس سے نزاع رفع ہو جاتا ہے ۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں: (فتاوی عثمانی مع الحاشیہ: ۳/۹۸-۱۰۱) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1870
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1870